Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / ہر بینک میں بلاسودی کاروبار کے شعبہ کے قیام کی اجازت

ہر بینک میں بلاسودی کاروبار کے شعبہ کے قیام کی اجازت

انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک فینانس کے وفد کی جناب عامر علی خان سے ملاقات
حیدرآباد ۔ 25 جنوری (سیاست نیوز) مذہبی عقائد کے سبب بینکنگ نظام سے دور افراد کیلئے آر بی آئی کا یہ اعلان خوشخبری سے کم نہیں کہ اب بلاسودی کاروبار کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس سفارش پر عوامی ردعمل کو حاصل کیا جارہا ہے کہ آیا ملک میں ایسے کتنے افراد و شہری ہیں جو بینکوں میں بلاسودی بینکنگ نظام کے فروغ کے حق میں ہیں۔ کمیٹی نے سفارش آر بی آئی کو پیش کی اور اپنی سفارش میں اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ وہ ہر بینک میں ایک شعبہ قائم کرسکتے ہیں جو بلاسودی کاروبارکا حصہ ہوگا۔ اس سفارش پر عوامی ردعمل کیلئے سرگرم انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ فینانس اینڈ انشورنس کے ایک وفد نے نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خان سے ملاقات کی چونکہ اس کمیٹی کی سفارش پر اپنا ردعمل اور عوامی رائے کو حاصل کرنے کی تاریخ 29 جنوری تک مقرر کی گئی تھی۔ لہٰذا وفد نے نیوز ایڈیٹر سے درخواست کی کہ وہ اس تحریک میں تعاون کریں۔ بلاسودی بینکنگ نظام کی اہمیت اور افادیت سے واقف جناب عامر علی خاں نے وفد کا خیرمقدم کیا اور ان کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے سیاست کی جانب سے بھرپور تعاون کا انہیں یقین دلایا۔ وفد میں شامل محمد عاصم فاروق، ایم ایس شریف نے بتایا کہ اب جبکہ وقت انتہائی کم ہے اور ایسے موقع پر شعور بیداری بہت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے جس طرح سے عوامی شعور بیداری اور تحریک سیاست نے زور پیدا کیا اب اتنے کم وقت میں ایسی ہی تحریک کی ضرورت ہے جو حرکیاتی شخصیت عامر علی خاں انجام دے سکتے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ فیانس اینڈ انشورنس کے وفد نے بتایا کہ آر بی آئی نے ایک کمیٹی قائم کی تھی اور اس کمیٹی نے سفارش پیش کی ہیکہ بلاسودی کاروبار کا نظام عقیدہ کی بنیاد پر کیا جاسکتا ہے اور بڑے کمرشیل بینکوں میں شعبہ کھولا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد آر بی آئی نے عوامی رائے حاصل کرنے کیلئے عوام سے درخواست کی ہے آر بی آئی نے عوامی سہولت کیلئے رائے بذریعہ ای میل اور پوسٹ کے ذریعہ روانہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 5 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد رپورٹ پر اپنا ردعمل ظاہر کریں۔ انہوں نے آر بی آئی کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور بتایا کہ مذہبی عقائد کی وجہ سے موجودہ روایتی بینکنگ نظام سے راحت ہوگی اور بینکنگ کے اس شعبہ میں جلد ہی بلاسودی کاروبار شروع ہوسکے گا جس کے سبب عوام کو کافی راحت ملے گی۔ انہوں نے اس سفارش کو نہ صرف عوام بلکہ ملک کے حق میں بھی کافی فائدہ مند بتایا ہے۔ عوام اس سائیٹ کی مدد سے 5 صفحات پر موجودہ رپورٹ کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ https://rbi.org.in/scripts/publicationreportdetails.asp/ اور بذریعہ ای میل اس پتہ پر اپنے خیالات روانہ کرسکتے ہیں۔ E-Mail:[email protected] ،: [email protected] E-Mail وہ جو بلاسودی بینکنگ نظام کے حق میں ہیں 29 جنوری سے قبل انتہائی کثیر تعداد میں بلاسودی بینکنگ نظام کے حق میں اپنا ردعمل ظاہر کریں۔

TOPPOPULARRECENT