Sunday , September 23 2018
Home / مضامین / ہر رنگ میں ہیں پاتے بندے خدا کے روزی

ہر رنگ میں ہیں پاتے بندے خدا کے روزی

 

محمد مصطفیٰ علی سروری
صوفیہ ولسن ایک ملیالی طالبہ ہے ، کیرالا سے تعلق رکھنے والی یہ عیسائی طالبہ حیدرآباد میں واقع مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے ایم اے اردو کا کورس کر رہی ہے ۔ صوفیہ کی مادری زبان ملیالی ہے اور کیرالا سے تعلق ہونے کے با وجود یہ لڑکی اردو میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہے تو اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے ۔ اس سوال کا جواب خود صوفیہ نے دیا کہ اگر وہ ار دو سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرلے تو کیرالا میں واپس جاکر اردو کی ایک ٹیچر بن سکتی ہے ۔ اس کے مطابق کیرالا کے بعض سرکاری اسکولوں میں اردو ٹیچرس کی باضابطہ جائیدادیں ہیں۔ صوفیہ نے مزید بتلایا کہ خود اس کی ماں اور بہن کیرالا کے اسکول میں اردو کی ٹیچرس ہے ۔ (بحوالہ کیرالا میں اردو محمد عبدالقادر کی رپورٹ)

کیرالا سے تقریباً ایک ہزار ا یک سو (1100) کیلو میٹر کا فاصلہ طئے کر کے ایک عیسائی لڑکی حیدرآباد آتی ہے اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے داخلہ لیتی ہے ، اس کو اس بات کا یقین بھی ہے کہ ایم اے اردو کا کورس مکمل کرنے کے بعد اس کو نوکری مل جائے گی۔دوسری جانب ریاست تلنگانہ و آندھراپردیش ہی نہیں خود شہر حیدرآباد میں جب ہم اساتذہ ، طلباء اور سرپرستوں کو ترغیب دلاتے ہیں کہ اردو یونیورسٹی میں کئی ایک کورسس کی تعلیم دی جاتی ہے ، اور یہاں پر پروفیشنل کورسس بھی فراہم کئے گئے ہیں تو سب کا یا بیشتر لوگوں کا سوال ہوتا ہے کہ اردو یونیورسٹی سے اور وہ بھی اردو میڈیم سے پڑھنے کا فائدہ کیا ہے ؟ اور آپ کی یونیورسٹی تو شہر سے اتنی دور ہے کون آئے گا وہاں پر ؟ شہر حیدرآباد اور تلنگانہ و آندھراپردیش کے مسلمانوں کو اپنی خام خیالی کے خول سے باہر نکل آنا ہوگا اور اپنی تعلیمی ترجیحات از سر نو ، مرتب کرنی ہوگی اور اپنے بچوں کیلئے ایسے کورسس منتخب کرانے ہوں گے جن کی تکمیل کے بعد ملازمت کے مواقع روشن ہوں۔ انجنیئرس اب ٹھوک کے حساب سے دستیاب ہیں مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ یہ انجینیئرس ملازمت کیلئے (Not Found Suitable) قرار دیئے جارہے ہیں ۔ سرمایہ داروں نے انجنیئرنگ کالجس کے آغاز کو ایک منافع بخش کاروبار بنالیا تھا اور جب حالات بدل گئے ، انجنیئرنگ کرنے والے بیشتر اسٹوڈنٹ کو روزگار نہیں ملنے لگا اور انجنیئرس کی بھر مار ہوگئی ۔ غیر معیاری انجیئرنگ کی تعلیم کی شکایات پر حکومت اور سرکاری ادارے اقدامات کرنے لگے تو یہ انجیئرنگ کے کالجس بھی بند ہونے لگے۔
سال 2014-15 ء میں ہماری ریاست تلنگانہ میں (354) انجنیئرنگ کالجس تھے اور ایک برس بعد 2015-16 میں ان کی تعداد گھٹ کر (266) رہ گئی ۔ یعنی صرف ایک برس میں (88) انجنیئرنگ کالجس بند ہوگئے ۔ (بحوالہ تلنگانہ کونسل فار ہائیر ایجوکیشن رپورٹ 2015 ء)
صرف کیرالا سے ہی نہیں بلکہ ملک کی کئی ریاستوں سے طلباء حیدرآباد آکر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اور تعلیم سے فراغت کے بعد کئی طلباء ایسے ہیں جنہوں نے بہترین ملازمتیں بھی حاصل کی ۔ محمد حسن رضاء کا تعلق اترپر دیش سے ہے ۔ انہوں نے بھی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا کورس مکمل کیا اور کورس کی تکمیل کے بعد انہیں چھ لاکھ روپئے سالانہ یعنی تقریباً 50 ہزار کی ماہانہ تنخواہ پر Genpact کمپنی نے ملازمت فراہم کی ، ان کو فیس بک کی فارسی سرویس کیلئے خدمات انجام دینا ہے۔ صرف اردو میں ہی نہیں بلکہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی سے بھی فارغ ہونے والے طلباء آج مختلف سرکاری اور غ یر سرکاری شعبوں میں پرکشش تنخواہوں پر کام کر رہے ہیں۔ شجاع الدین کا تعلق مہاراشٹرا سے ہے۔ انہوں نے اردو یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کا کورس کیا اور آج گجرات کی سنٹرل یونیو رسٹی میں انگلش کے اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کارگزار ہیں۔ ایک اور طالب علم ابو صالح کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔ کولکتہ سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان نے بھی اردو یونیورسٹی سے ایم اے انگلش مکمل کیا اور آج یہ نوجوان کولکتہ یونیورسٹی کے راجہ پریہ موہن کالج میں انگلش کے اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کارگزار ہے۔

بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے بھی (280) کیلو میٹر دور واقع مغربی چمپارن ضلع کا ایک گاؤں ہے جس کا نام نرکٹیہ گنج ہے، شہر حیدرآباد سے اگر ہم ٹرین سے بھی سفر کریں تو یہاں پہونچنے 33 گھنٹے لگتے ہیں اور دیڑھ ہزار کیلو میٹر سے زائد کا فاصلہ طئے کرنا پڑتا ہے ۔ بہار کے اس گاؤں سے ایک نوجوان افتخار عالم نے بھی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے ماسٹرس ان کمیونکیشن اینڈ جرنلزم کا کورس اردو میڈیم سے پاس کیا ۔ انڈین انفارمیشن سرویس کا امتحان کامیاب کر کے یہ نوجوان آج وزارت اطلاعات و نشریات نئی دہلی میں برسرکار ہے، ان مثالوں کے ذریعہ مسلمان دانشوروں اور پالیسی سازوں کی توجہ اس جانب مبذول کروانا ہے، اگر واقعی مسلمانوں کی تعلیمی رہنمائی اور رہبری کرنا ہے تو ان مواقعوں کی نشاندہی ضروری ہے ، جہاں آج بھی روزگار کے مواقع موجود ہیں۔ ان کورسس سے مسلم نوجوانوں کو واقف کروانا جن کی تکمیل کے بعد حصول روزگار میں آسانی پیدا ہو۔ ملت کے لئے ماشاء اللہ سے بہت سارے انجنیئرس تیار ہوچکے ہیں اور یہ لوگ اس بڑی تعداد میں سامنے آئے ہیں کہ یہ ملت کیلئے اثاثہ نہیں بلکہ ملت کی فکرمندی میں اضافہ کا سبب بن گئے کیونکہ ملی تنظیموں اور سرکاری اسکالرشپ کی رقومات ان بچوں کو انجیئرس بنانے پر صرف کی گئی تو اس کا مقصد یہی تھا کہ یہ انجنیئرس نہ صرف اپنی مدد آپ کریں گے بلکہ دوسروں کیلئے بھی مددگار ثابت ہوں گے مگر عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔
دانشوری کے شوق میں بعض برسرکار اور وظیفہ یاب احباب نے ملت کے سارے مسائل کا حل اس بات میں ڈھونڈ نکالا کہ اردو زبان سے ترک تعلق کیا جائے اور انگریزی سے تعلیم کو فروغ دیا جائے ۔ 200 کے قریب انگلش میڈیم اسکولس شروع کئے گئے ۔ میناریٹی ریسیڈنشل کے یہ وہ اسکولس ہیں جہاں آج تک کسی بھی اسکول میں کوئی مستقل ٹیچر نہیں ، ایک بھی اسکول ایسا نہیں جس کی ذاتی عمارت ہو۔ نائب وزیر اعلیٰ کی جانب سے ان انگلش میڈیم اسکولس کے متعلق جائزہ اجلاس میں میناریٹی اسکولس میں کھانے کے خراب معیار کی تک شکایات اور تقررات میں بے قاعدگیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں ۔ (بحوالہ تلنگانہ ٹوڈے 10 ا کتوبر 2013 ء)
مسلم کمیونٹی کا بنیادی مسئلہ انگلش میڈیم سے تعلیم کا نہیں بلکہ معیاری تعلیم کا ہے ۔ اردو ہی کیا انگلش میڈیم سے بھی تعلیم اگر غیر معیاری ہو تو طلباء کا مستقبل تاریک ہوسکتا ہے ۔ طلباء ڈراپ آؤٹ ہوسکتے ہیں۔
میناریٹی ریسیڈنشیل اسکول سے مسلم کمیونٹی کو کتنا فائدہ ہوگا ، نہیں معلوم لیکن جب 48000 بچوں نے یہاں پر داخلہ لے لیا تو اس کا اثر یہ پڑا کہ اردو میڈیم کے اسکولس میں داخلوں کا گراف بڑی تیزی سے نیچے گر گیا اور جب ریاستی حکومت نے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ اردو میڈیم ٹیچرس کے تقررات کا اعلان کیا تو صرف (636) ایس جی ٹی پوسٹوں پر تقرر کی بات سامنے آئی جبکہ ریاستی صدر آئیٹا خالد حسین کے مطابق SGT ٹیچرس کی غیر موجودگی میں (1400) ودیا والینٹرس کام کر رہے ہیں اور حکومت نے اس سے کم جائیدادوں پر تقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ (بحوالہ دکن کرانیکل 26 اکتوبر 2017 ء)

مسلم اقلیت کو بااختیار بنانے ، مسلمانوں کو روزگار کے مواقعوں سے جوڑے اور ان کی تعلیمی پسماندگی کے سدباب کیلئے اگر کوئی حقیقت پسندانہ تجزیہ نہیں کرتا ہے اور زمینی حقیقتوں سے آگاہی حاصل کئے بغیر سب کیلئے ایک ہی علاج تجویز کرتا ہے تو یہ ایک سنگین غلطی ہوگی ۔ اقوام کی ترقی کے لئے تعلیم جتنی ضروری ہے ، اتنی ہی ضرورت صحیح تعلیمی منصوبہ بندی کی ہے۔
آج کا مسلمان تعلیم حاصل کر رہا ہے تو وہ منصوبہ بندی سے زیادہ اوروں کی نقل کے سہارے اپنی تعلیمی ترجیحات طئے کر رہا ہے ۔ سماجی علوم اور لسانیات کی ہر دور میں اہمیت رہی ہے لیکن ہم مسلمان صرف پروفیشنل کورسس اور وہ بھی انجنیئرنگ کے ہی پیچھے پڑے ہیں ، مسلم ٹیالنٹ کی اصل ضرورت میدان صحافت اور قانون کی تعلیم میں ہے۔
بشارت علی صاحب شہر حیدرآباد کے معروف اسٹرکچرل انجیئر ہیں اور ایک معروف سماجی جہد کار بھی ہیں، ان کے مطابق انجنیئرنگ اور میڈیسن میں کیریئر بنانے کیلئے تیز دماغ کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انجیئرنگ اور میڈیسن میں کسی طرح کی کوئی ایجاد کرنا نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اختراعی کام کرنا ہے ۔ ہاں بہترین اور تیز دماغ کی ضرورت کہاں ہے ، اس کے متعلق بشارت علی کا کہنا ہے کہ ’’قانون ، صحافت اور سیاست کے میدان میں بہترین اور تیز دماغ کے نوجوان کامیابی حاصل کرسکتے ہیںاور آگے بڑھ سکتے ہیں‘‘۔
مسلمانوں کا تعلیم سے رشتہ جوڑنا ضروری ہے اور یہ تعلیم ایسی ہو جو انہیں روزگار دلائے۔ مسلمانوں کے دانشور کہلانے کے شوق میں بعض احباب مسلمانوں کو انجنیئرس بناکر سمجھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کا تعلیم سے رشتہ جوڑا جارہا ہے ۔ اسکالرشپس بھی دی جارہی ہے اور ملت کے سارے کریم کو ، بہترین ٹیالینٹ کو ڈاکٹرس اور انجنیئرس بنایا جارہا ہے ۔ غرض عالم یہ ہوگیا کہ حصول تعلیم کا مطلب انہی دو ڈگریوں کا حصول ہوکر محدود بلکہ بے معنی ہوگیا ہے ۔ اب تو سعودی عرب میں بھی حصول روزگار کی بات خواب بنتی جارہی ہے ۔ اندرون ملک اور خود ریاست تلنگانہ میں ملازمت کے نئے نئے امکانات سامنے آگئے ہیں۔ کیا ہم مسلمان ان زمینی حقیقتوں سے بھی واقف نہیں ہے۔ دنیا بدل گئی ہے ، اپنی بقاء اور آنے والی نسلوں کی صحیح رہبری کے لئے صحیح منصوبہ بندی ضروری ہوگئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے لئے آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین
بقول شاعر
ہر رنگ میں ہیںپاتے بندے خدا کے روزی
ہے پینٹر توپھر کیا رنگریز ہے تو پھر کیا
[email protected]

TOPPOPULARRECENT