Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / ہر شعبہ حیات کی ترقی کیلئے ’’سیاست ‘‘ کے عملی اقدامات

ہر شعبہ حیات کی ترقی کیلئے ’’سیاست ‘‘ کے عملی اقدامات

حیدرآباد /5 جولائی (سیاست نیوز) محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر ریاست تلنگانہ نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ حکومت کی فلاحی اسکیمات سے بھرپور استفادہ کریں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ مسلمانوں کی معاشی، تعلیمی اور سماجی ترقی کے خواہاں ہیں۔ چنانچہ رمضان کے پیش نظر حکومت نے ایک سو مساجد میں افطار کا انتظام کیا ہے۔ علاوہ ازیں ائمہ مساجد او

حیدرآباد /5 جولائی (سیاست نیوز) محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر ریاست تلنگانہ نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ حکومت کی فلاحی اسکیمات سے بھرپور استفادہ کریں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ مسلمانوں کی معاشی، تعلیمی اور سماجی ترقی کے خواہاں ہیں۔ چنانچہ رمضان کے پیش نظر حکومت نے ایک سو مساجد میں افطار کا انتظام کیا ہے۔ علاوہ ازیں ائمہ مساجد اور مؤذنین کو مشاہرہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں 26 کروڑ روپئے منظور کئے گئے۔ محمد محمود علی آج ادارہ سیاست و مائناریٹی ڈیولپمنٹ فورم کے زیر اہتمام منعقدہ 43 ویں دوبدو ملاقات پروگرام سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ انھوں نے ادارہ سیاست اور جناب زاہد علی خاں کی بے مثال ملی و سماجی خدمات کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہر شعبہ حیات کی ترقی کے لئے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ ہندوستان کے سب ہی مسلمان اپنے بچوں کے رشتوں کے انتخاب کے لئے شدید پریشان ہیں۔ اس سنگین مسئلہ کو حل کرنے کے لئے ملک میں پہلی بار سیاست اور ایم ڈی ایف نے دوبدو ملاقات پروگرام کے آغاز کے ذریعہ امید کی کرن پیدا کی ہے۔ یہ پروگرام نہ صرف حیدرآباد بلکہ دیگر شہروں اور بیرونی ممالک میں بھی مقبولیت حاصل کرتا جا رہا ہے۔ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سیاست کے تعاون سے شادی مبارک اسکیم کامیابی کے قدم چوم رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان اب بھی سرکاری اسکیمات سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہتے، اس رجحان کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ 57 برس سے مسلمانوں کے ساتھ شدید ناانصافیاں ہوئی ہیں اور ان کی معیشت کو تباہ کیا گیا، لیکن اب صورت حال میں تبدیلی آرہی ہے اور مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کسی بھی حکومت کے لئے مہنگی ثابت ہوسکتی ہے۔ نواب ارشد علی خاں ٹی آر ایس قائد نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ انھوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ سماج سے جہیز کی لعنت کو ختم کریں اور شادیوں میں غیر ضروری مصارف، غیر اسلامی روایات اور دیگر خرافات سے مسلمانوں کو بچائیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے شادی مبارک اسکیم کے لئے 12 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں، جن سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ آج کے مسابقتی دور میں مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم سے آراستہ کریں، کیونکہ صرف تعلیم ہی انھیں باعزت مقام اور کھوئی ہوئی عزت واپس دلاسکتی ہے۔ اگر مسلمان تعلیم یافتہ بن جائیں تو دیگر مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے معاشی حالات کو سدھارنا بے حد ضروری ہے، کیونکہ غربت اور غریبی سے کئی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ انھوں نے ڈپٹی چیف منسٹر کی موجودگی میں حکومت سے اپیل کی کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمت میں 12 فیصد تحفظات دینے کے وعدہ کو پورا کرے۔ جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ دوبدو ملاقات پروگرام کے علاوہ ایک ڈش اور ایک میٹھا تحریک کے نہایت ثمرآور نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ کئی مسلم خاندانوں میں جہیز، جوڑے کی رقم اور دیگر مطالبات سے گریز کیا جا رہا ہے۔ انھیں امید ہے کہ جیسے جیسے قوت ایمانی میں اضافہ ہوگا اور مسلمانوں میں شعور پیدا ہوگا، ویسے ایسے مسلمانوں کے یہ سنگین مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ ابتداء میں عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف نے کہا کہ خواجہ منشن فنکشن پیلس مانصاحب ٹینک میں پہلی مرتبہ دوبدو ملاقات پروگرام منعقد کیا گیا، جو انتہائی کامیاب رہا۔ انھوں نے کہا کہ جہیز مانگنا اسلام میں حرام ہے، اسی طرح شادیوں میں بے جا مصارف غیر اسلامی عمل ہے۔ انھوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی زندگیوں اور معاملات میں اللہ تعالی کے احکام اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو جاری و ساری کریں۔ انھوں نے نواب ارشد علی خاں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسی شخصیتیں ملت اسلامیہ کے لئے ایک قیمتی اثاثہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ 43 ویں دوبدو ملاقات پروگرام میں آج بنجارہ ہلز، زہرا نگر، فرسٹ لانسر، شانتی نگر، ہمایوں نگر، مہدی پٹنم، مراد نگر کے علاوہ دور دراز سے آئے ہوئے تقریباً تین ہزار سے زائد والدین نے شرکت کی، جن میں خواتین کی تعداد زیادہ دیکھی گئی۔ دوبدو پروگرام میں آج لڑکوں کے 115 اور لڑکیوں کے 188 رجسٹریشن کروائے گئے، جن میں عقد ثانی کے رشتے بھی شامل ہیں۔ خواجہ منشن فنکشن پیلس میں صبح دس بجے سے ہی والدین و سرپرستوں کی بڑی تعداد رجسٹریشن کروانے کے لئے کاؤنٹرس کی طرف رواں دواں دیکھی گئی۔ اسکرین پر لڑکوں کے بائیو ڈاٹاس دکھائے جا رہے تھے۔ نواب ارشد علی خاں کے پراجکٹر کی مدد سے والدین کو رشتوں کی تفصیل سے واقف کرایا گیا۔ انجینئرنگ، گریجویٹس، پوسٹ گریجویٹس، میڈیسن، عالم و فاضل، حافظ، ایس ایس سی اور عقد ثانی کے لئے علحدہ علحدہ کاؤنٹرس بنائے گئے، جہاں کونسلرس کی مدد سے والدین و سرپرستوں نے اپنے من پسند رشتوں کا انتخاب کیا اور باہمی مشاورت کے لئے راؤنڈ ٹیبل بھی بیٹھے۔ جس کا مقصد لڑکے و لڑکیوں کے والدین کو رشتے طے کرنے میں سہولت ہوسکے۔ خواجہ منشن فنکشن ہال کے الطاف بن سالم اور محمد نصیر الدین نے نہایت معقول انتظامات کئے۔ اس کے علاوہ دیگر اسٹاف نے بھی بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کیا۔ ماہ رمضان المبارک کے پیش نظر فنکشن ہال میں نماز ظہر باجماعت ادا کی گئی۔ خواتین نے بھی نماز ادا کی۔ اس موقع پر ادارہ سیاست کی جانب سے نوجوانوں کی تربیت اور والدین کی ذمہ داریوں پر مشتمل انگریزی پمفلٹ کی رسم اجرائی ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے انجام دی۔ انھوں نے کہا کہ نوجوانوں کی بہتر تربیت عصر حاضر میں ناگزیر ہے۔ مغربی ماحول اور فیشن پرستی کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں والدین کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ انھوں نے ادارہ سیاست بالخصوص جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر سیاست کی کاوشوں اور مخلصانہ سرگرمیوں کی ستائش کی۔ مائناریٹی ڈیولپمنٹ فورم کے عہدہ داران اقبال احمد خاں، ڈاکٹر ایس اے مجید، ایم اے قدیر، محمد خواجہ معین الدین، میر انور الدین، میر ناظم الدین، محمد برکت علی، محمد سرور، خدیجہ بیگم، ڈاکٹر ایوب حیدری، ڈاکٹر دردانہ، سید اصغر حسین، صالح بن عبد اللہ باحاذق، ایم اے واحد، محمد احمد، احمد صدیقی مکیش، فرید الدین، عابدہ بیگم، سید الیاس باشاہ، اے کے امین، کوثر جہاں، محمد نصر اللہ خاں، ضیاء الرشید، نثار احمد بیگ ایڈوکیٹ، شاہد حسین اور دیگر نے کونسلنگ اور دوبدو پروگرام کے انتظامات میں حصہ لیا۔ دوبدو ملاقات پروگرام میں محمد معین الدین صدر فیڈریشن آف ٹولی چوکی کالونیز، ماجد انصاری، ایس کے افضل الدین، احمد نواز خاں اور دیگر معززین نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز قاری سید الیاس باشاہ کی قراء ت کلام پاک سے ہوا، محمد احمد صدیقی مکیش نے بارگاہ رسالت میں ہدیۂ نعت پیش کی۔ زاہد فاروقی نے لڑکے و لڑکیوں کے بائیو ڈاٹاس کی تفصیل کمپیوٹر کی مدد سے پیش کی۔ ساڑھے چار بجے شام پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔

TOPPOPULARRECENT