Monday , August 20 2018
Home / Top Stories / ہر شہری کو ہیلت کارڈ کی اجرائی اورکسانوں کیلئے پانچ لاکھ کا بیمہ

ہر شہری کو ہیلت کارڈ کی اجرائی اورکسانوں کیلئے پانچ لاکھ کا بیمہ

عوام کیلئے آنکھوں کے مفت معائنہ کی سہولت، آپریشن بھی مفت ہوں گے، حکومت کی نئی اسکیمات کا اعلان

حیدرآباد ۔ 14 ۔مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تین نئی اسکیمات کا اعلان کیا۔ تلنگانہ کے ہر شخص کے لئے ہیلت چیک اپ کارڈ جاری کئے جائیں گے۔ گورنر سے لیکر عام آدمی تک تمام کی ہیلت پروفائل کمپیوٹرائزڈ دستیاب رہے گی ۔ ہر سال ہر شخص کا مفت ہیلت چیک اپ کیا جائے گا ۔ کے سی آر نے عوام کو مفت آنکھوں کے معائنے ، عینک کی فراہمی اور مفت آپریشن سے متعلق اسکیم کا بھی اعلان کیا۔ چیف منسٹر نے کسانوں کیلئے پانچ لاکھ روپئے انشورنس اسکیم پر آئندہ مالیاتی سال سے عمل آوری کا اعلان کیا۔ اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ہیلت پروفائل آف اسٹیٹ کے نام سے ہیلت چیک اپ اسکیم متعارف کی جائے گی ۔ جس طرح امریکہ میں ہر خاندان میں میڈیکل بجٹ ہوتا ہے ، اسی طرح کی سہولتیں تلنگانہ حکومت مفت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ غریب خاندانوں کا لحاظ کرتے ہوئے ہیلت چیک اپ کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ گورنر، چیف منسٹر ، وزراء سے لیکر ایک عام آدمی تک ہیلت کارڈ جاری کئے جائیں گے۔ صحت سے متعلق تمام تفصیلات کمپیوٹرائزڈ دستیاب رہیں گی۔ حکومت کی جانب سے ہر سال ہر شہری کا مفت ہیلت چیک اپ کیا جائے گا۔ عوام کی صحت بہتر بنانے کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست بھر میں مفت آئی ٹسٹ کی اسکیم متعارف کی جارہی ہے جس کے تحت ہر ضرورمند کو عینک فراہم کی جائے گی ۔ ابتدائی پانچ ماہ میں ریاست بھر میں آئی ٹسٹنگ کا کام مکمل کرلیا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلہ میں موتیابند کے آپریشن مفت انجام دیئے جائیں گے ۔ چیف منسٹر نے طنزیہ ریمارک کیا کہ کانگریس قائدین کے آنکھوں کا معائنہ اور عینک کی فراہمی پہلے کی جائے گی کیونکہ انہیں حکومت کے ترقیاتی اور فلاحی اقدامات دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ کسانوں کی بھلائی کے سلسلہ میں حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ کسانوں کو پانچ لاکھ روپئے کا انشورنس فراہم کیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ اراضیات کے سلسلہ میں اوونرشپ ٹائٹل بل جاریہ بجٹ سیشن میں متعارف کرنے کا منصوبہ ہے۔ چیف منسٹر نے وضاحت کی کہ ریاست کی تقسیم کے وقت تلنگانہ کو 72000 کروڑ کا قرض ورثہ میں ملا ہے اور 4 برسوں میں مجموعی قرض ایک لاکھ 42 ہزار کروڑ تک پہنچ گیا۔ چیف منسٹر نے کانگریس پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایوان میں گورنر کے خطبہ کے دوران کانگریسی ارکان نے جو رویہ اختیار کیا وہ ناقابل معافی تھا۔ چیف منسٹر نے ارکان کے خلاف کارروائی کی تائید کی اور کہا کہ ایوان کے وقار کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اور اس کے باہر صورتحال بگاڑنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ غیر سماجی عناصر کی سرگرمیوں کو سختی سے کچل دیا جائے گا ۔ چیف منسٹر نے دھرنا چوک کی برخواستگی کو حق بجانب قرار دیا اور کہا کہ دھرنا چوک کے بجائے سرور نگر میں مقام کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں پولیس کی اجازت سے جلسے یا دھرنے منظم کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں احتجاج کی اجازت ہے اور حکومت سیاسی جماعتوں اور عوامی تنظیموں کو اس حق سے محروم نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی بس یاترا کو حکومت نے نہیں روکا۔ تلنگانہ کے لئے کانگریس پارٹی کو ویلن نمبر ایک قرار دیتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ 2001 ء میں ٹی آر ایس کے آغاز کے وقت انہوں نے یہ بات کہی تھی لیکن افسوس کہ آج تک بھی کانگریس قائدین کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ارکان اجتماعی استعفے دینے کیلئے ہائی کمان کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں، انہیں استعفیٰ دینا ہو تو فوری دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام کے جذبات کا احترام کئے بغیر پنڈت جواہر لال نہرو نے تلنگانہ کو آندھراپردیش میں ضم کردیا تھا۔ تاریخ کے ہر موڑ پر کانگریس تلنگانہ کیلئے ویلن ثابت ہوئی۔ کانگریس قائدین نے ہمیشہ تلنگانہ کے حق میں جدوجہد کا آغاز کیا لیکن وزارت یا کوئی اور عہدہ ملتے ہی تحریک کو ختم کردیا۔ دیگر پارٹیوں کے ارکان اسمبلی کی ٹی آر ایس میں شمولیت کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سیاسی استحکام کیلئے انہوں نے دوسری پارٹیوں کے ارکان کو دعوت دی تھی۔ تلگو دیشم سے دو تہائی ارکان ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے اور وہ دستوری طر یقہ سے شامل ہوئے ہیں ۔ وائی ایس آر کانگریس ، بی ایس پی اور سی پی آئی ارکان ٹی آر ایس میں ضم ہوگئے۔ ان تمام کو باضابطہ قانون کے مطابق شامل کیا گیا ۔ چیف منسٹر نے کرپشن کے الزامات کو مسترد کردیا اور اپوزیشن کو چیلنج کیا کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کریں۔ انہوں نے مشن کاکتیہ اور مشن بھگیرتا کے کارناموں کی تفصیل بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں ایک لاکھ مکانات تعمیر کئے جائیں گے اور ریاست بھر میں جملہ تین لاکھ مکانات کی تعمیر ہوگی۔ 119 اسمبلی حلقوں میں بی سی اقامتی اسکول قائم کئے گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT