Wednesday , January 17 2018
Home / مضامین / ہر محب وطن ذلیل ہوا ، رات کا فاصلہ طویل ہوا…

ہر محب وطن ذلیل ہوا ، رات کا فاصلہ طویل ہوا…

محمد مبشر الدین خرم
ہندستان کے استحکام کی بنیادی وجہ ملک کے افواج کی تین حصوں میں تقسیم اور نظام عدلیہ کا مستحکم ہونا ہے اگر ہندستانی افواج بحریہ ‘ فضائیہ اور بری افواج میں منقسم نہیں ہوتی اور ان کے علحدہ کمانڈر نہ ہوتے تو ایسی صورت میں ہندستانی حکمراں طبقہ اب تک کئی مرتبہ جیل جا چکا ہوتااور جمہوری نظام حکمرانی کے سب سے اہم اور مضبوط ستون قانون ساز اداروں کی عصمت تار تار کرنے والے سزائیں بھگت رہے ہوتے لیکن ہندستانی افواج کے تین علحدہ کمانڈر ہونے کے سبب صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ عدلیہ جو کہ ہندستانی جمہوریت میں کلیدی ستون تصور کی جاتی ہے بحران کی کیفیت کا شکاربن گئی۔ ہندستانی عدالت عظمی کے 4 ججس نے ہرہندستانی شہری کو دعوت فکر دی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ہندستانی نظام عدلیہ کبھی اپنے حدود سے تجاوز نہیں کرتا بلکہ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوجائے کہ حدود سے تجاوز کرنا پڑے تو اپنا مقدمہ جمہوریت کی بقاء کی سب سے بڑی قوت’’عوام‘‘ کے درمیان پیش کردیتا ہے ۔ ہندستانی جمہوریت کے 4ستون میں قانون ساز ادارہ ‘ عاملہ ‘ عدلیہ اور ذرائع ابلاغ شامل ہیں۔ ہندستانی جمہوریت کی یہ شان ہے کہ اس ملک کے نظام حکمرانی میں سب سے اہم ادارہ کی بار بار عصمت دری کے باوجود یہ برقرار رہی کیونکہ عاملہ نے اس کی پردہ پوشی کی اور ذرائع ابلاغ اداروں کی جانب سے بھی ان امور کو اس حد تک اجاگر نہیں کیا گیا کہ عوام انہیں سمجھ سکیں۔

ہندستانی جمہوریت کی عمارت جن ستون پر کھڑی تھی اس کے تین ستون 70برسوں کے دوران منہدم کئے جاتے رہے ہیں جس کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔ ارکان پارلیمان کی خرید و فروخت کے ذریعہ کبھی قانون ساز اداروں کی عصمت تارتار کی گئی تو کبھی نظریات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے کے اقدامات کے ذریعہ عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی ۔ اسی طرح عاملہ (بیوروکریسی) نے رشوت کے بازار کو گرم رکھتے ہوئے اور رشوت خور سیاست دانوں کی پشت پناہی کے ذریعہ دوسرے ستون کو منہدم کیا اور جب کبھی فرض شناس عہدیداروں نے اس مسئلہ پر آواز اٹھائی تو انہیں سسٹم سے باہر کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ قانون ساز اداروں اور عاملہ نامی ان ستونوں کے منہدم ہونے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی وہ کچھ اس طرح ہے کہ ہرسیاسی جماعت اور قائد نے اپنے ذرائع ابلاغ اداروں کے آغاز کے ذریعہ ذرائع ابلاغ پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا اس طرح تیسرا اہم ستون جو عوام میں شعور اجاگر کیا کرتا تھا اسے بھی منہدم کردیا گیا اب بچ گیا تھا عدلیہ جس پر ہندستانی عوام کو کامل اعتماد ہے اور رہے گا بھی کیونکہ جب عدالت میں انصاف گواہوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور اس کی کئی مثالیں موجود ہیں اسی لئے اس ستون پر ہندستانی جمہوریت باقی تھی۔
بابری مسجد کی شہادت ‘ ملک کے سینکڑوں فسادات میں انصاف میں ہونے والی تاخیر‘ سیاستدانوں کے خلاف جاری مقدمات کی پیشرفت میں عدم دلچسپی‘ عہدیداروں کے خلاف کاروائی کے معاملہ میں غیر سنجیدگی کے واقعات کی وجہ بھی ملک کے قانون ساز ادارے اور عاملہ ہی ہیں کیونکہ قانون ساز اداروں میں براجمان سیاستدانوں کے اشاروں پر عاملہ کے عہدیداروں کی تحقیقات میں سست روی کے سبب عدالت میں مقدمات طویل مدت تک چلتے رہتے ہیںلیکن اکثر فیصلو ںمیں عدالت نے عوامی اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے جو فیصلے دیئے ہیں وہ جمہوریت پر ایقان میں اضافہ کیلئے کافی ہیں لیکن اب جبکہ خود عدالت عظمی کے ججس کو ملک کے عظیم ادارہ میں موجود جمہوریت خطرہ میں محسوس ہونے لگی ہے ایسے وقت ملک کے حالات نہیں بلکہ ملک کی جمہوریت نازک دور سے گذر رہی ہے۔ ججس جب ’’جمہور عوام‘‘ کے آگے اپنا مقدمہ پیش کرنے پر مجبور ہوجائیں تو اندازہ کیا جاسکتا ہے حالات کس حد تک ابتر ہو چکے ہیں۔ ہندستانی جمہوریت کی پاسداری میں ہندستان کے 135کروڑ عوام کا کتنا حصہ ہے یہ نہیں کہا جا سکتا لیکن ہندستان کی جمہوریت کے تحفظ کیلئے چنندہ صحافی و شحافتی ادارے‘ انگلیوں پر گنے جانے والے سیاسی قائدین ‘ محدود دیانتدار عہدیداروں اور عدلیہ کا مکمل حصہ رہا تھا لیکن اب جبکہ تین ستون کی باقیات رہ گئی ہیں تو ایسے میں 4 ججس کی پریس کانفرنس نے جمہوریت کے ستون ’’عدلیہ ‘‘ کو دہلا دیا ہے جس نے جمہوری ایوانو ںمیں زلزلہ پیدا کردیا ہے۔
تین برسو ںکے دوران ہندستانی جمہوری نظام کو جس طرح سے کھوکھلہ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہندستانی جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کرنے کی کوشش ان تین سالوں کے دوران ہی نہیں ہوئی ہے بلکہ جمہوریت کے ان ستونوں کی بنیادوں کو 70برسوں کے دوران بتدریج کمزور کیا گیا ہے اور اس کے لئے ہندستان کو تباہ کرنے والے نظریہ کا سرگرم کردار رہاہے اور 70سال کے دوران کی گئی یہ کوششیں اب کارگر ثابت ہورہی ہیں اور گذشتہ تین برسوں سے اس منصوبہ پر عمل آوری کی جار ہی ہے جو 65 برسوں کے دوران تیار کیا گیا تھا۔ ہندستانی قانون ساز ادارو ںمیں مخصوص فکر کے حامل افراد کی جگہ بنانے کے لئے ملک کے عوام میں فرقہ پرستی کا زہر گھولتے ہوئے اس ستون کو کمزور کیا گیا تو 65 برسوں کے دوران ساورکر کے نظریات کے حامل عہدیدار تیار کرتے ہوئے انہیں ملک کے کئی اہم شعبوں میں متعین کروایا گیا اسی طرح ذرائع ابلاغ اداروں کو اپنے زیر اثر لانے کی کامیاب کوشش کی گئی جس کے نتیجہ میں اس نظریہ کے خلاف بحث کی جرأت نہیں کی جا رہی ہے بلکہ اپنے نظریہ کو فروغ دینے کیلئے ان آلات کا استعمال کیا جانے لگا ہے لیکن عدلیہ میں اس طرح کی کوشش بڑی حد تک ناکام ہونے کے سبب ججس کو ان کے اختیارات سے محروم کرنے اور انہیں خوفزدہ کرنے کا ماحول تیار کیا گیا۔

ہندستانی عدالت عظمی میں ججس کی جانب سے اس طرح کے شدید ردعمل کا اظہار کو ئی نئی بات نہیں ہے لیکن اس طرح پریس کانفرنس کے ذریعہ جمہوریت کے تحفظ اور استحکام کیلئے آواز بلند کرنا آزاد ہندستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے اور ایسے وقت ہواہے جب ملک کئی ایک مسائل سے دوچار ہے۔ 1973 اور 1977میں بھی اندرا گاندھی کے دوراقتدار میں عدالت عظمی کے ججس کے استعفی کی مثالیں ملتی ہیں لیکن ان مثالوں کو ان حالات سے جوڑنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ اس وقت جن ججس کو حکومت اور عدلیہ میں جن حالات سے شکایت تھی اس کے خلاف انہوں نے کوئی شدید اظہار خیال نہیں کیا بلکہ اپنے عہدہ سے مستعفی ہوتے ہوئے خاموشی اختیار کر چکے تھے لیکن آج سپریم کورٹ کے 4ججس نے جمہوریت کے تحفظ کیلئے اپنے مقدمہ کو عوام کے درمیان پیش کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ ملک سنگین حالات سے گذر رہا ہے اور نظام عدلیہ میں مداخلت بیجا ہونے لگی ہے اور قانون ساز ادارے بالواسطہ طور پر نظام عدلیہ پر اپنی بالا دستی قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اندرا گاندھی کے دور میں ججس کے استعفی کی وجوہا ت بھی کچھ ایسی ہی تھیں لیکن مستعفی ہونے والے ججس نے کوئی ایسا سنگین الزام عائد نہیں کیا کہ ملک کی جمہوریت خطرہ میں ہے اور اس طرز حکمرانی کے ستون کمزور پڑ چکے ہیں۔
2014کے بعد سے ملک کے حالات میں تیزی سے آنے والی تبدیلی کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ ملک میں نہ صرف جمہوری نظام حکمرانی کو چیالنج کیا جا رہاہے بلکہ ملک کے دستور کو بھی کئی خطرات کا سامنا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار پرآنے کے بعد کے حالات اس بات کی دلیل ہے کہ ملک کا دستور بھی خطرہ میں اور ملک میں عوام کے جمہوری اصول بھی پامال کئے جانے لگے ہیں۔ گائے کے نام پر کئے جانے والے قتل کے بعد ملک میں ’’ایوارڈ واپسی‘‘ کے ذریعہ سیکولر شہریوں نے ملک کی جمہوریت اور دستور کو پامال ہونے سے بچانے کی کوشش کی ۔ دلتوں پر کئے جانے والے حملوں کے سبب پیدا شدہ حالات کے بعد ملک میں اعلی ذات کی شرانگیزیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے پر ملک میں مساوات برقرار دہ پائی ہیں۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہوئے ریاستوں میں اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں نے مذہبی منافرت کے ساتھ ساتھ ملک کی دوسری بڑی اکثریت مسلمانوں کے معاملات میں مداخلت کی شروعات کرتے ہوئے انہیں چیالنج کرنے کی کوشش کی لیکن ان حالات کا بھی صبر و تحمل سے مسلمانوں نے کام لیا اور دستور کو پامال ہونے سے بچانے کی کوشش کی لیکن دستور کو پامال کرنے کیلئے قانون ساز ادارہ کا سہارا لیا گیا اور اس کے لئے ایسی بنیادیں بتائی گئیں کہ ہر کوئی محو حیرت ہے اور ’’گوری لنکیش‘‘ جیسی خاتون آہن صحافی کے قتل کے ذریعہ حق گوئی کے علمبرداروں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی اور جسٹس لویا کی بہن کے الزامات پر ان کی موت کی تحقیقات کی جائے تو مزید حقائق کا انکشاف ہوسکتا ہے۔

اب عدالت عظمی کے ججس جو ملک کے کسی بھی کونہ سے تعلق رکھنے والے مقدمہ میں مداخلت کے مجاز ہیں اور اس کی تحقیقات کے احکام جاری کر سکتے ہیں اگر وہ ہی عوامی عدالت میں اپنا مقدمہ لائیں تو ایسے وقت میں عوام کو اپنی طاقت کا اندازہ کرنا چاہئے اور ان ذرائع ابلاغ اداروں کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے جو کسی کے آلۂ کار بنے ہوئے ملک کے دستور اور جمہوری اصولوں کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نظام عدلیہ کے اہم سینیئر ججس کے ان الزامات کا تعلق چیف جسٹس آف انڈیا سے ضرور ہے لیکن بالواسطہ حکومت پر بھی ان کا نشانہ ہے۔ ملک کی اعلی تحقیقاتی ایجنسی سی بی آئی کے حکومتوں کی جانب سے استعمال کے الزامات کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن 2014کے بعد سے جو حالات سامنے آئے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے ایسامحسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے کسی بھی ادارہ کی غیر جانبداری کو برقرار نہیں رکھا ہے بلکہ ان پر اپنی بالادستی کے اظہار کے ذریعہ عوام میں ان کی وقعت کو گھٹانے میں کلیدی کردار اداکیا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے بغیر کرنسی تنسیخ کا فیصلہ ہو یا من پسند عہدیداروں کے دہلی میں تقررات ہوں یا پھر الیکشن کمیشن کا شکایات کو نظر انداز کرنا ہو ان عمل کے ذریعہ غیر جانبدار اداروں پر حکمراں طبقہ کی بالواسطہ بالادستی نظر آنے لگی ہے اور عوام ان امور پر گفتگو کر رہے ہیں۔
ملک کے جمہوری نظام نے ہی ہندستانی افواج کو تین حصوں میں منقسم رکھتے ہوئے ان کی کمان بھی علحدہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اگر یہ دوراندیشی اس وقت نہیں کی جاتی تو شائد ہندستان کو بھی 70 سالہ آزاد جمہوری حکومت میں 35 سال فوجی آمریت میں گذارنے پڑتے کیونکہ کسی بھی ملک میںملک سے محبت کے معاملہ میں سب سے زیادہ نازک اور حساس طبعیت کاحامل کوئی طبقہ پیشہ کے اعتبار سے ہوتا ہے تو وہ ملک کی سرحدوں کے محافظ افواج ہوتے ہیں اور اس کے بعد کسی کی طبعیت میں حساسیت پائی جاتی ہے تو وہ طبقہ ججس کا ہوتا ہے جو مقدمہ کی نوعیت اور حقائق سے واقف ہونے کے باوجود بھی ثبوت اور گواہوں کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں اور اپنے فیصلوں پر جذبات کو غالب آنے نہیں دیتے ۔عدالت عظمی کے ججس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا اور چھلک بھی گیا لیکن افواج کمان علحدہ ہونے مکے سبب بے بس ہیں لیکن عوام کو یہ اندازہ کرنا چاہئے کہ وہ اب بھی آزاد ہیں اور انہیں نازک دور سے گذر رہی جمہوریت نے آواز اٹھانے کا حق دیا ہے اور اگر اب وہ آواز اٹھاتے ہیں تو مذہب یا طبقہ کے تحفظ کیلئے نہیں بلکہ ملک کی جمہوریت کی بقاء کے لئے آواز اٹھانے والوں میں شمار کئے جائیں گے اور یہ کوئی جرم نہیں ہے جس پر کوئی حکومت کاروائی کر سکے۔

TOPPOPULARRECENT