Wednesday , December 12 2018

ہر پانچویں امریکی خاتون کی عصمت ریزی: رپورٹ

واشنگٹن ۔ 23 جنوری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ میں لگ بھگ 22 ملین خواتین … تقریباً پانچ میں ایک … کو اُن کی زندگیوں میں عصمت ریزی کا نشانہ بنایا گیا ہے ، جب کہ لگ بھگ نصف متاثرین کو 18 سال کی عمر سے قبل جنسی زیادتی سہنی پڑتی ہے ، وائیٹ ہاؤس کی رپورٹ میں یہ بات بتائی گئی ۔

واشنگٹن ۔ 23 جنوری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ میں لگ بھگ 22 ملین خواتین … تقریباً پانچ میں ایک … کو اُن کی زندگیوں میں عصمت ریزی کا نشانہ بنایا گیا ہے ، جب کہ لگ بھگ نصف متاثرین کو 18 سال کی عمر سے قبل جنسی زیادتی سہنی پڑتی ہے ، وائیٹ ہاؤس کی رپورٹ میں یہ بات بتائی گئی ۔

اس میں کہا گیا کہ اگرچہ تمام نسلوں کی خواتین نشانہ بنائی گئیں لیکن بعض خواتین کو دیگر کے مقابل زیادہ جوکھم کا سامنا رہتا ہے ۔ رپورٹ نے کہا کہ ہمہ نسلی خواتین کا 33.5 فیصد حصہ ریپ کا شکار ہوا ، اسی طرح 27 فیصد امریکی ۔ ہندوستانی اور الاسکا کی متوطن خواتین کی عصمت ریزی ہوئی ، جس کے مقابل ہسپانوی نسل کے 15 فیصد خواتین متاثر ہوئیں ، سیاہ فام نسل میں 22 فیصد خواتین ریپ کا شکار ہوئیں اور 19فیصد سفید فام خواتین کو بھی اس گھناؤنی حرکت کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس رپورٹ کے مطابق جو کل جاری کی گئی زیادہ تر متاثرین کو اُن پر ظلم کرنے والوں کی پہچان ہے اور غالب اکثریت (98 فیصد ) مرتکبین مرد رہے ہیں ۔ رپورٹ نے کہا کہ لگ بھگ 22 ملین امریکی خواتین اور 1.6 ملین مرد اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی جبری جنسی فعل کا شکار ہوئے ہیں۔

اس رپورٹ کی اجرائی کے پس منظر میں صدر اوباما نے ایک صدارتی میمورنڈم پر دستخط کرتے ہوئے ایک ٹاسک فورس تشکیل دیا ہے جس کی ذمہ داری اسٹوڈنٹس کو جنسی حملوں سے محفوظ رکھنا ہے ۔ وائیٹ ہاؤس نے کہا کہ صدر کا ماننا ہے کہ ہماری قوم کے اسکولس میں عصمت ریزی اور جنسی حملے کے واقعات کا پیش آنا نہ صرف گہری تشویش کا باعث ہے بلکہ ساری قوم کو یہ ضروری اقدامات کے لئے جھنجھوڑتا ہے ۔ جب ہر پانچ نوجوان خواتین میں سے ایک کالج کے دن میں ہی جنسی حملے کا شکار ہوتی ہیں تو ہمیں ضرور مزید اقدامات کرنے ہوں گے ۔

TOPPOPULARRECENT