Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / ’ہر ہندوستانی گائے کو اپنی ماں تصور کرے ‘ : چیف منسٹر جھارکھنڈ

’ہر ہندوستانی گائے کو اپنی ماں تصور کرے ‘ : چیف منسٹر جھارکھنڈ

کولکتہ۔ 20 اگست (سیاست ڈاٹ کام) گاؤ رکھشا پر جاری تنازعہ کے دوران چیف منسٹر جھارکھنڈ رگھوبر داس نے آج کہا کہ ’’جو لوگ ہندوستان کو اپنا ملک سمجھتے ہیں، انہیں چاہئے کہ گائے کو اپنی ماں تصور کریں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ گائے کے تحفظ کے نام پر تشدد نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’گاؤ رکھشا کے نام پر حالیہ تشدد کے واقعات میں ممکن ہے کہ مویشیوں کے اسمگلرس ملوث رہے ہوں‘‘۔  رگھوبرداس نے پی ٹی آئی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ گاؤ رکھشا کے مسئلہ پر سارا سنگھ پریوار متحد ہے۔ جو لوگ ہندوستان کو اپنا ملک سمجھتے ہیں، وہ گائے کو بھی اپنی ماں تصور کریں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ گاؤ ذبیحہ اور گائے کی مردم شماری کے مسئلہ پر سنگھ پریوار میں اختلافات پائے جاتے ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ اس معاملہ میں سنگھ پریوار متحد ہے۔ گائے ہماری ماں ہے۔ جو لوگ ہندوستان میں رہتے اور ہندوستانی ہیں اور جو ہندوستان کو اپنا ملک تصور کرتے ہیں، ان کے لئے بھی گائے ماں ہے۔

رگھوبرداس کا یہ تبصرہ گائے کے تحفظ کیلئے مہم اور دلتوں پر حملہ کی وجہ سے پیدا شدہ تنازعہ کے پس منظر میں سامنے آیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 6 اگست کو گاؤ رکھشکوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے غیرسماجی عناصر پر انہیں غصہ آتا ہے جو رات میں جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور دن میں خود کو گاؤ رکھشک کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مودی کے اس تبصرہ پر وی ایچ پی لیڈر پراوین توگاڑیہ نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ گاؤ رکھشکوں کو غیرسماجی عناصر قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے ان کی توہین کی ہے۔ رگھوبر داس نے کہا کہ وزیراعظم نے جو کچھ کہا وہ سچ ہے۔ آپ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں، کسی ذات سے تعلق رکھتے ہوں، لیکن گائے ہماری ماتا ہے اور ہمیں گائے کا تحفظ کرنا چاہئے، تاہم گاؤ رکھشا کے نام پر اگر کوئی تشدد کی راہ اختیار کرے تو اسے معاف نہیں کیا جاسکتا۔  رگھوبر داس نے کہا کہ شخصی طور پر ان کا یہ احساس ہے کہ مویشیوں کی اسمگلنگ اور برآمدات کرنے والے ان جرائم میں ملوث ہوسکتے ہیں لہذا اس پہلو سے تحقیقات ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں کے گوشوں نے مخصوص طبقہ کی خوشامدانہ پالیسی اختیار کی ہے جس کی وجہ سے گائے کے بارے میں بیداری پروگرامس اور اس کے فوائد پر اثر پڑا۔ سیاسی جماعتوں کو ہر بات ووٹ بینک سیاست کی نظر سے نہیں دیکھنی چاہئے۔ گائے سے جو دودھ ہم حاصل کرتے ہیں، وہ تمام طبقات خواہ ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی ہوں، سب کیلئے فائدہ مند ہے۔ کوئی سیاست داں جو ایسی بات کرتا ہے، وہ بھی گائے کا دودھ ہی پیتا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ انہوں نے پولیس کو واضح ہدایات دی ہیں کہ گائے کی اسمگلنگ کو روکیں۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقی اقدار میں گراوٹ کے سبب سماج میں عصمت ریزی، گاؤکشی اور دیگر سماجی برائیاں پھیل رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT