Saturday , November 18 2017
Home / اداریہ / ہزاروں کروڑ روپئے کے گھٹالے

ہزاروں کروڑ روپئے کے گھٹالے

عمارت کو اندر سے دیمک لگی ہے
مکینوں کو لیکن نہیں فکر کوئی
ہزاروں کروڑ روپئے کے گھٹالے
ہندوستان میں اکثر و بیشتر مالی بدعنوانیوں‘ اسکامس اور گھٹالوں کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ ہندوستانی معیشت نے گذشتہ تقریبا ڈھائی دہائیوں میں زبردست ترقی کی ہے اور اس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ یہاں اب جو اسکامس ہو رہے ہیں وہ لاکھوں کروڑ روپئے تک پہونچ گئے ہیں۔ جتنے اسکامس گذشتہ چند برسوں میں سامنے آئے ہیں اور یہ جتنی رقم پر مشتمل ہیں اگر واقعی اس ساری رقم کو ملک کے غریبوں کی بہتری کیلئے خرچ کیا جائے اور انفرا اسٹرکچر کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تو پھر بے شمار مسائل حل ہوسکتے ہیں اور عام آدمی کو راحت مل سکتی ہے ۔ تاہم ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔ اگر کوئی کام تواتر اور تسلسل سے ہو رہا ہے تو وہ صرف غریبوں کو بیوقوف بنانا اور بڑے بڑے تاجروں و کمپنیوں کو راحت پہونچانا بلکہ انہیں غریب عوام کی دولت لوٹ کر عیش کرنے کے مواقع بھی فراہم کئے جا رہے ہیں۔ اب شراب کے تاجر وجئے ملیا کی جانب سے بینکوں کو قرض کی عدم واپسی کا مسئلہ گرمایا ہوا ہے ۔ وجئے ملیا 9000 کروڑ روپئے بینکوں کو واجب الادا ہیں اور انہوں نے ان ادائیگیوں سے عمدا گریز کیا ہوا ہے ۔ وجئے ملیا کے خلاف کئی مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ ملیا نے اپنے ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہیں تک ادا نہیں کی ہیں اور ملازمین مسائل کا شکار ہیں۔ وجئے ملیا اپنے پر تعیش طرز زندگی کیلئے شہرت رکھتے ہیں اور دولت کے بل بوتے پر ہی وہ پارلیمنٹ کے رکن بھی بنے ہیں۔ انہوںنے کنگ فشر ائر لائینس کو جس طرح سے بتدریج ختم کیا ہے اس پر بھی کافی سوال اٹھے ہیں اور اسی ائر لائینس نے ہزاروں کروڑ روپئے کے خسارہ کا ادعا کرتے ہوئے ملازمین کو تک تنخواہوں سے محروم کردیا ہے ۔ اب وجئے ملیا سے قرض واپس حاصل کرنے میں بینکوں کو جو مشکلات پیش آرہی ہیں وہ سب کے سامنے ہیں جبکہ خود ملیا ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔ وہ فی الوقت کہاں ہیں شائد اس کا علم کسی کو نہیں ہے ۔ صرف قیاس کیا جا رہا ہے کہ وہ لندن میں ہیں اور وہیں سے انہوں نے ملک سے فرار ہونے کی تردید کی ہے اور یہ ادعا کیا ہے کہ وہ قانون کے پابند شہری ہیں اور قانون کی پابندی کرینگے ۔ انہوں نے تاہم یہ نہیں بتایا کہ وہ کہاں ہیں اور ان کے اس بیرونی دورہ کا مقصد کیا ہے ۔
وجئے ملیا کے خلاف سی بی آئی نے ریڈ کارنر نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ ملک سے باہر جانے کی کوشش کریں تو انہیں حراست میں لے لیا جائے ۔ تاہم ایک ماہ کے اندر اندر سی بی آئی کی اس نوٹس میں ترمیم کردی گئی اور صرف یہ کہا گیا کہ اگر ملیا بیرون ملک جاتے ہیں تو سی بی آئی کو صرف مطلع کیا جائے ۔ یہ ترمیم ہزاروں کروڑ روپئے کا تغلب کرکے خود عیش و آرام کی زندگی گذارنے والے ملیا کے فائدہ اور انہیں راحت پہونچانے کے مقصد ہی سے کی گئی تھی اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملیا ملک سے روانہ ہوگئے ۔ سی بی آئی کو یہ واضح کرنا چاہئے کہ کیوں ان کے خلاف نوٹس میں ترمیم کی گئی تھی جبکہ یہ مسلسل دیکھا جا رہا تھا کہ وہ قرض واپسی کے موڈ ہی میں نہیں ہیں اور نہ ہی بینکوں سے کوئی تعاون کیا جا رہا ہے ۔ وجئے ملیا بھی ملک سے ایسے وقت میں روانہ ہوئے جبکہ بینکوں کی جانب سے عدالت میں یہ درخواست دائر کی جا رہی تھی کہ ملیا کو بیرون ملک روانہ ہونے سے روکا جائے ۔ اس سے عین قبل ان کی روانگی یہ اشارہ بھی دیتی ہے کہ سرکاری ایجنسیوں میں کوئی ہے جو ملیا کیلئے کام کر رہا ہے اور یہاں کی تمام اطلاعات ملیا کو فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان عناصر کا پتہ چلانا بھی حکومت کا اور تحقیقاتی ایجنسیوں کا کام ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ جو ہزاروں کروڑ روپئے قرض کے طور پر ملیا نے حاصل کئے تھے انہیں بہر قیمت وصول کیا جائے کیونکہ یہ رقم ملک کے غریب اور کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کی جاسکتی ہے اور یہ ملک کے عوام کا اثاثہ ہے جسے اس طرح لوٹنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔
ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک میں سماج کے مختلف طبقات مسائل کا شکار ہیں۔ خاص طور پر کسان بینکوں کا قرض واپس نہ کرپانے کی وجہ سے خود کشیاں کر رہے ہیں لیکن حکومت ان کو کسی طرح کی راحت پہونچانے کیلئے تیار نہیںہے اور ہزاروں کروڑ روپئے کا خرد برد کرنے والے تاجروں اور کاروباری اداروں کو ہر طرح کی راحت دیتے ہوئے ان سے قرض کی وصولی میں انتہائی نرمی برتی جا رہی ہے ۔ یہ حکومت کا دوہرا معیار اور اس کی ترجیحات کا پتہ چلتا ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ وجئے ملیا کو وطن واپس لانے کیلئے فوری اقدامات کرے اور خاص طور پر ان سے قرض کی رقم واپس لینے کیلئے ایک حکمت عملی تیار کرتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT