Friday , December 15 2017
Home / دنیا / ہلاری اور ٹرمپ میں لفظی جنگ، ایکدوسرے سے الجھ پڑے

ہلاری اور ٹرمپ میں لفظی جنگ، ایکدوسرے سے الجھ پڑے

صدارتی انتخابات کے دوسرے مباحثہ میں خواتین کیخلاف توہین آمیز ریمارکس کا حوالہ، مصافحہ سے بھی گریز
سینٹ لوئی۔ 10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ جنہیں خواتین پر کئے جانے والے نازیبا ریمارکس کی وجہ سے شدید تنقیدوں کا سامنا ہے، انہوں نے آج اپنی ڈیموکریٹک حریف ہلاری کلنٹن کے شوہر و سابق صدر بل کلنٹن کی جنسی بے راہروی کا بھی تذکرہ کیا اور یہ عزم کیا کہ اگر وہ ملک کے صدر بن گئے تو ای ۔ میل تنازعہ میں ہلاری کو جیل بھجوادیں گے جبکہ ہلاری کلنٹن کو دوسرے مباحثہ میں بھی ونر قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا مباحثہ تھا جو ابتداء سے ہی انتہائی حساس اور جنس زدہ نظر آرہا تھا۔ ہلاری نے ٹرمپ سے مصافحہ بھی نہیں کیا۔ دونوں ہی حریف واشنگٹن یونیورسٹی میں منعقدہ مباحثہ کی شرکت کیلئے سیدھے اسٹیج کی جانب بڑھ گئے جس سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ دونوں امیدواروں کے درمیان اب اختلافات عروج پر ہیں۔ 90 منٹ طویل چلنے والے مباحثہ میں دونوں ہی امیدواروں نے ایک دوسروں کے کرداروں پر خوب کیچڑ اچھالا جس میں سب سے اہم نکتہ ہلاری کلنٹن نے اٹھایا اور کہا کہ ٹرمپ مسلمانوں کو امریکہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔ لہٰذا اگر عوام انہیں ووٹ دیتے ہیں تو یہ امریکہ کی پالیسی کیلئے بہت خطرناک ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں اوباما کیئر، ٹیکس اور اسلاموفوبیا بھی دونوں قائدین کے درمیان بحث کے موضوعات رہے۔ کلنٹن نے ٹرمپ کے 2005ء کے ایک ویڈیو کلپنگ کا تذکرہ کیا جس میں ٹرمپ نے خواتین کے خلاف جنسیات پر مبنی ریمارکس کئے تھے۔ ٹرمپ بھی کب خاموش بیٹھتے۔ انہوں نے ہلاری کے شوہر سابق صدر بل کلنٹن پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ گذشتہ کئی دہوں سے خواتین کا جنسی استحصال کرتے آرہے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر ادعا کیا کہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں وہ ہلاری کلنٹن کے خانگی ای ۔ میل تنازعہ کی خصوصی تحقیقات کروائیں گے جو انہوں نے موجودہ صدر بارک اوباما کی پہلی میعاد 2009 تا 2013ء کے درمیان بحیثیت وزیرخارجہ استعمال کیا تھا جس کا جواب دیتے ہوئے ہلاری نے کہا کہ جو کچھ ٹرمپ کہہ رہے ہیں وہ بالکل غلط ہے۔ ٹرمپ نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا ’’اچھا! ایسی بات ہے!‘‘ ہلاری نے کہا کہ ٹرمپ ہمیشہ مسلمانوں کو ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں۔ ہم اسلام کے ساتھ حالت جنگ میں نہیںہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہیکہ شام سے ہزاروں پناہ گزین یہاں آرہے ہیں جن کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ امریکہ سے انہیں کتنی محبت ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ سے جب مختلف خواتین کے ساتھ بوسہ بازی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فوراً پینترہ بدلتے ہوئے کہا کہ وہ خواتین کا بیحد احترام کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہیکہ میں نے خواتین کے بارے میں کچھ نازیبا باتیں کہی ہوں گی تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ میرے دل میں ان کا احترام نہیں۔ تاہم اگر آپ بل کلنٹن کی جانب دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ میں نے تو صرف نازیبا الفاظ کہے جبکہ انہوں نے نازیبا ’’حرکتیں‘‘ کی تھیں۔ امریکہ کی سیاسی تاریخ میں خواتین کا کبھی اتنا  استحصال نہیں کیا گیا جتنا بل کلنٹن کے زمانے میں کیا گیا۔ ہلاری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ کی انتخابی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہیکہ صدارتی انتخابات پر کوئی بیرونی طاقت غالب ہے اور ٹرمپ کے حق میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ انہوں نے کہا ٹرمپ کے صدر روس ولادیمیر پیوٹن سے قریبی روابط ہیں۔

TOPPOPULARRECENT