Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / ہلاری نیویارک میئرکا انتخاب نہیں لڑیں گی : نیراٹنڈن

ہلاری نیویارک میئرکا انتخاب نہیں لڑیں گی : نیراٹنڈن

بچوں کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ، نیویارک ٹائمز کے ایک مضمون پر وضاحتی بیان
واشنگٹن ۔ 9 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ’’ہلاری کلنٹن اب کسی بھی انتخابی عہدہ کیلئے دوبارہ کبھی سیاسی میدان میں نہیں آئیں گی۔ ڈونالڈ ٹرمپ سے شکست کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے‘‘۔ ہلاری کی ہندوستانی نژاد امریکی رفیق نیراٹنڈن نے یہ بات اس وقت کہی جب یہ رپورٹس مل رہی تھیں کہ سابق وزیرخارجہ اب نیویارک کے میئر کا عہدہ حاصل کرنے کوشاں ہیں۔ ٹنڈن نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہلاری نے اپنی تمام زندگی بچوں اور خاندان کی فلاح و بہبود میں گذار دی اور اب بھی شاید وہ اسی جانب توجہ دیں گی۔ علاوہ ازیں کئی دیگر مسائل بھی ہیں جن کی جانب توجہ دیتے ہوئے ان کی یکسوئی ضروری ہے۔ لہٰذا مجھے نہیں لگتا کہ ہلاری ڈونالڈ ٹرمپ سے شکست کے بعد پھر کسی انتخابی عہدہ کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔ یاد رہیکہ نیراٹنڈن 69 سالہ ہلاری کلنٹن کی قریبی ساتھی تصور کی جاتی ہیں جو لبرل تھنک ٹینک سنٹر فار امریکن پروگریس کی سربراہ بھی ہیں، نے دراصل نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئے ایک مضمون کے ردعمل میں مندرجہ بالا بیان دیا۔ مضمون میں تحریر کیا گیا تھا کہ ہلاری کلنٹن نیویارک کے موجودہ میئر بل ڈی بلاسیو کے خلاف میئر کے عہدہ کیلئے الیکشن لڑیں گی۔ نیراٹنڈن نے کہا کہ نہ صرف نیویارک کے میئر کے عہدہ کیلئے بلکہ کسی بھی انتخابی عہدہ کیلئے الیکشن نہیں لڑیں گی۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے نیراٹنڈن نے کہا کہ ہلاری کلنٹن کو اب اس جانب توجہ دینی چاہئے جو زندگی بھر ان کا مشن رہا یعنی بچوں اور خاندانوں کی فلاح و بہبود۔ انہوں نے جس انداز میں اب تک اپنی یہ ذمہ داریاں نبھائی ہیں، وہ قابل ستائش ہیں۔ مزید برآں ایک خاتون ہونے کے ناطے ان کے دل میں بچوں کی بے حد ممتا پائی جاتی ہے اور یہ کام کوئی قابل سے قابل مرد بھی نہیں کرسکتا۔ ہلاری سے جو بھی بچہ ملتا ہے وہ ان کا گرویدہ ہوجاتا ہے کیونکہ بچوں کو اپنی جانب کچھ اس انداز میں راغب کرتی ہیں کہ بچہ اگر دکھی بھی ہو تو ہلاری کے ساتھ تھوڑی دیر رہ کر وہ اپنے سارے دکھ بھول جاتا ہے۔ نیراٹنڈن کے مطابق اگر بفرض محال ہلاری کلنٹن نے میئر کے عہدہ کیلئے الیکشن لڑا اور جیت گئیں تو ایک بار پھر نومنتخبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹکراؤ کا موقف پیدا ہوجائے گا جو اپنی حکومت کو 5 ویں ایونیو کے ٹرمپ ٹاور سے تشکیل دے رہے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ سے شکست کے بعد ہلاری کلنٹن عوامی پلیٹ فارم پر بہت کم نظر آئیں اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اپنے مستقبل کے پروگرام کے بارے میں بھی بہت ہی کم نشاندہی کی ہے لہٰذا جس کی جو سمجھ میں آرہا ہے وہ اپنی بات کہہ رہا ہے۔ اس وقت سب اندازے لگائے جارہے ہیں۔ تاہم وہ کتنے سچ اور کتنے جھوٹ ثابت ہوں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ نیویارک کی میئر بننے کیلئے انہیں موجودہ میئر ڈی بلاسیو سے مقابلہ درپیش ہوگا جنہوں نے 2014ء میں مائیکل بلومبرگ سے عہدہ کا جائزہ حاصل کیا تھا۔ سب سے اہم بات یہ ہیکہ میئر کے آئندہ انتخابات نومبر میں منعقد شدنی ہیں جس کیلئے ابھی کافی وقت ہے لہٰذا ابھی سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ یوں تو امریکی عوام کا ایک مخصوص طبقہ یہ مانتا ہیکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے انتخابات میں دھاندلی کی ہے جبکہ وہ خود ہلاری کلنٹن کے ذریعہ دھاندلی کئے جانے کی دہائی دیا کرتے تھے اور یہ تک کہہ دیا تھا کہ دھاندلی ہونے کی صورت میں اگر انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو وہ اپنی شکست قبول نہیں کریں گے۔ دوسری طرف امریکی انٹلیجنس کی رپورٹس کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں روس نے زبردست مداخلت کی تھی اور ٹرمپ کو فتح دلوانے میں روس کا ہی ہاتھ تھا۔ حالیہ دنوں میں ہلاری کلنٹن اتوار کو برا ڈوے تھیٹر میں اپنے شوہر بل کلنٹن اور بیٹی چیلسی کے ساتھ ’’دی کلر پرپل‘‘ دیکھنے کیلئے آئی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT