Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / ہلاری کلنٹن کی کامیابی کے امکانات اور ایشیا کی مشہور ترین خواتین

ہلاری کلنٹن کی کامیابی کے امکانات اور ایشیا کی مشہور ترین خواتین

عقیل احمد
سابق وزیر خارجہ امریکہ و خاتون اول ہلاری کلنٹن ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار بننے کی جان توڑ کوشش میں مصروف ہیں۔ انہیں امیدوار نامزد ہونے کیلئے مندوبین کی درکار تعداد کی تائید حاصل ہوچکی ہے۔ ان کے امکانی حریف ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ ہوں گے ۔ ان کی بحیثیت امیدوار نامزدگی سے پہلے ہی وہ اپنے بیانات کی بناء پر وہ ایک متنازعہ شخصیت بن چکے ہیں۔ کبھی انہوں نے مسلمانوںکو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ بعد ازاں یہ دعویٰ کیا کہ ان کے بیانات کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے ۔ حال ہی میں اورلینڈو میں دہشت گرد حملہ کے بعد انہوں نے دوبارہ مسلمانوں اور مسجدوں پر گہری نگرانی رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایک اور نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ وہ اولین امکانی امریکی صدارتی امیدوار ہیں، جن کی عالمی قائدین نے مذمت کی ہے ۔

حالانکہ یوروپ اور امریکہ آزادی نسوان کے علمبردار کہلاتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کا کوئی بھی صدر اب تک کسی خاتون کو نہیں بنایا گیا ۔ اگر ہلاری کلنٹن ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار نامزد ہوجائیں اور وہ اپنے ریپبلیکن حریف کو شکست دیدیں تو وہ امریکہ کی اولین خاتون صدر ہوں گی۔ اسی طرح بین الاقوامی ادارہ اقوام متحدہ بھی مغربی ممالک کی زیر سرپرستی قائم کیا گیا ہے لیکن یہ بھی ایک افسوسناک بات ہے کہ اس کا کوئی خاتون معتمد عمومی آج تک نہیں ہوا۔ تاہم یہ خبر گرم ہے کہ نیوزی لینڈ کی سابق وزیراعظم ہیلن کلارک اس عالمی ادارہ کی معتمد عمومی بننے کی دوڑ میں شامل ہیں اور ان کے امکانات بھی کافی روشن ہیں ۔ قبل ازیں دنیا بھر میں مارگریٹ تھیچر نے بحیثیت خاتون وزیراعظم برطانیہ کافی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے علاوہ دوسری شہرہ آفاق خاتون اسرائیل کی سابق وزیراعظم گولڈامیر تھیں۔ اس کے برعکس ایشیائی ممالک میں جو خواتین پر جبر اور ان کے استحصال کیلئے بدنام ہیں، اہم شخصیتیں دنیا بھر میں شہرت حاصل کرچکی ہیں۔ تاریخ ہند کی مشہور شخصیتوں میں مہارانی جھانسی لکشمی بائی ، رضیہ سلطان، چاند بی بی سلطان وغیرہ کے نام اوراق میں جگمگاتے نظر آتے ہیں۔
جدید تاریخ میں ہندوستان کی وزیراعظم اندرا گاندھی تاریخ  میں اپنا مقام بناچکی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے دور کے اپوزیشن قائد اٹل بہاری واجپائی نے انہیں ’’درگا دیوی‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ اندرا گاندھی کی شخصی کمزوریاں اور خامیاں جو کچھ بھی ہوں ، یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ انہوں نے وزیراعظم ہندوستان کی حیثیت سے ہندوستان کا دنیا بھر میں وہی مقام برقرار رکھا جو ان کے آنجہانی والد آزاد ہند کے اولین وزیراعظز پنڈت جواہر لال نہرو نے بنایا تھا ۔ اندرون ملک اندرا گاندھی کی پالیسیوں نے ہندوستان کو ایک مستحکم اور تیزی سے ترقی پذیر ملک بنادیا تھا ۔ اندرا گاندھی کے بعد اگر ایشیائی ممالک میں کسی خاتون وزیراعظم نے شہرت حاصل کی، ان میں پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا نام لیا جاسکتا ہے ۔ اندرا گاندھی کی طرح ہی بے نظیر بھٹو بھی اپنے والد سابق وزیراعظم پاکستان آنجہانی ذوالفقار علی بھٹو کی تربیت یافتہ تھیں اور اپنے والد کے انتقال کے بعد پاکستان کے سیاسی منظر پر ابھریں۔ ان کا مقابلہ ہمیشہ موجودہ وزیراعظم نواز شریف سے ہوتا رہا اور وہ نواز شریف کیلئے ہمیشہ ایک مشکل حریف ثابت ہوئیں۔

ہندوستان کی موجودہ سیاسی صورتحال درحقیقت منفی رائے دہی کا نتیجہ ہے۔ یو پی اے حکومت کی دو میعادوں میں اتنے اسکام منظر عام پر آئے جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یو پی اے کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ حالانکہ ماہر معاشیات تھے لیکن ان کے دور میں ہندوستانی معیشت ترقی نہیں کرسکی۔ اس کی بنیادی وجہ ان کے دور میں ہونے والے اسکامس تھے۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے ابتداء میں اپنی پارٹی میں نئی جان ڈالدی تھی۔لیکن جب سے انہوں نے اپنے فرزند راہول گاندھی کو آگے بڑھانا شروع کیا ہے ، کانگریس کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ پرینکا گاندھی کے شوہر رابرٹ وڈرا کو این ڈی اے حکومت کی جانب سے وقفہ وقفہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان پر کئی اسکینڈلس کے الزام عائد کئے جاتے ہیں۔ تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی ان کی شریک حیات ، سونیا گاندھی کی دختر پرینکا گاندھی کے سیاست میں آنے کے امکانات سے خوفزدہ ہے۔ اس لئے ان کے شوہر پر تنقید کر کے ان کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کانگریس پارٹی نے بھی وقفہ وقفہ سے پرینکا گاندھی کو سیاست میں لانے اور کانگریس کی باگ ڈور ان کے سپرد کردینے کے مطالبہ منظر عام پر آتے رہے۔ حالانکہ سرکاری طور پر کانگریس پا رٹی میں یہ افواہیں گرم ہیں کہ راہول گاندھی کو  اپنی والدہ سونیا گاندھی کی جگہ صدر کانگریس مقرر کیا جائے گا ۔ ان کے ایک قریبی بااعتماد ساتھی نے یہاں تک کہہ دیا کہ راہول گاندھی اس وقت پس پردہ صدر کانگریس ہیں، اب انہیں حقیقت میں کانگریس کا صدر بن جا نا چاہئے لیکن راہول گاندھی کے سابقہ انتخابی ریکارڈ کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ راہول گاندھی صدر کانگریس نامزد کرنے پر شائد بی جے پی کا ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوجائے گا۔ اس لئے کئی قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ پرینکا گاندھی نے اپنی آنجہانی دادی اندرا گاندھی کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ حالانکہ وہ نرم گفتار بلکہ شیریں گفتار ہیں لیکن جب بھی کوئی موقف اختیار کرلیتی ہیں تو اس پر اٹل رہتی ہیں۔ اس لئے کانگریس کے کئی گوشوں سے بار بار انہیں پارٹی کا صدر بنانے کے مطالبے کئے جاتے رہے ہیں۔ سونیا گاندھی نے ہمیشہ اس سوال کا گول مول جواب دیا ہے کہ سیاست میں آنا پرینکا گاندھی کی مرضی پر منحصر ہے۔ وہ انہیں اس کیلئے مجبور نہیں کریں گی۔ پرینکا گاندھی بھی شاید اپنے بھائی کے مقابلہ میں کھڑا ہونا پسند نہ کریں۔ تاہم اگر کانگریس کا وجود برقرار رکھنا ہے تو پرینکا گاندھی کا سرگرم سیاست میں آنا ناگزیر ہے۔ وہی ایسی شخصیت ہیں جو کانگریس کے تن مردہ میں نئی جان ڈال سکتی ہیں۔ کانگریس ہی نہیں رہی تو راہول گاندھی کے رہنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT