Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / ہلاری کلنٹن 4,764 مندوبین کی تائید سے پہلی خاتون صدارتی امیدوار نامزد

ہلاری کلنٹن 4,764 مندوبین کی تائید سے پہلی خاتون صدارتی امیدوار نامزد

نیویارک سے ویڈیو کانفرنسنگ ، اپنی کامیابی امریکیوں لڑکیوں سے معنون ، صدر بننے کے خواب ضرور دیکھیں
فلاڈلفیا۔ 27 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کی حیثیت سے جس وقت ہلاری کلنٹن کو باقاعدہ نامزد کیا گیا، اس وقت انہوں نے امریکہ میں ایک نئی تاریخ رقم کی کیونکہ وہ ایسی پہلی خاتون امیدوار بن گئی ہیں جو صدر کے عہدہ کیلئے مقابلہ میں ہیں۔ ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن میں ہلاری کو ڈیموکریٹک کے متعدد قائدین کی زبردست تائید حاصل رہی۔ اس طرح اب نومبر میں ان کا مقابلہ ری پبلیکن کے نامزد کردہ صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ سے ہوگا۔ ہلاری کلنٹن کی شخصیت بھی متعدد عہدوں اور اعزازوں سے رقم ہے۔ وہ اوباما حکومت کے پہلے چار سالہ دور میں وزیر خارجہ رہ چکی ہیں جبکہ ان کے شوہر بل کلنٹن جس وقت امریکہ کے صدر تھے تو ہلاری کلنٹن کو خاتون اول ہونے کا شرف حاصل تھا۔ علاوہ ازیں وہ نیویارک کی سینیٹر بھی رہ چکی ہیں۔ ہلاری کو ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن میں 4,764 مندوبین کی تائید حاصل رہی جس کی وجہ سے نامزدگی کی راہ ان کے لئے ہموار ہوگئی۔

8 نومبر کو منعقد شدنی صدارتی انتخابات میں اگر انہیں کامیابی ملی تو ہلاری کو امریکہ کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوجائے گا اور ساتھ ہی ساتھ وہ امریکہ کی کمانڈر انچیف بھی بن جائیں گی۔ نیشنل کنونشن کے دوران ہر طرف جوش و خروش دیکھا گیا جہاں ایسا معلوم ہورہا تھا کہ عوام کو نئے حوصلے ملے ہیں اور ان میں جوش اور ولولہ بھر دیا گیا ہے۔ کنونشن کو ہلاری کے نیویارک سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ خطاب کیا اور عوام کے علاوہ مندوبین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہیں جو بھی اعزاز بخشا گیا ہے، وہ لاجواب ہے۔ یہ میری نہیں بلکہ عوام کی جیت ہے۔ 68 سالہ ہلاری نے کسی قدر جذباتی ہوکر کہا کہ کنونشن کی شب کو اگر ان کے مداحوں نے ٹیلی ویژن پر یا راست طور پر تمام سرگرمیاں دیکھیں اور ان میں کوئی چھوٹی بچی (یا بچیاں) بھی موجود ہیں تو ان کیلئے میرا یہی پیغام ہے کہ میں امریکہ کی پہلی خاتون صدر بننے جارہی ہوں لیکن ملک کی آئندہ باگ ڈور تمہارے (بچیوں) کے ہاتھ میں ہوگی۔ آگے چل کر تمہاری باری بھی آئے گی۔ پرائمریز کے دوران ہلاری کے حریف برنی سینڈرز نے کنونشن میں ایک قرارداد پیش کی جو دراصل ہلاری کی نامزدگی کیلئے تھی اور جب برنی سینڈرز کی ریاست ویرمومنٹ کا نام پکارا گیا تو انہوں نے فوراً ہلاری کی تائید میں ہاتھ اٹھا دیا جس سے اب عوام کو یہ مثبت پیغام مل گیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی میں سب کچھ ٹھیک ہے، ورنہ کچھ عرصہ قبل پارٹی میں پھوٹ پڑنے کی افواہیں گشت کررہی تھیں۔ اس کے کچھ دیر بعد ہی ڈیموکریٹک مندوبین نے ہلاری کلنٹن کے نام کو پارٹی کے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے منظوری دے دی اور اس طرح رین پبلیکن ڈونالڈ ٹرمپ کے لئے سخت امتحان کا اعلان کردیا۔

ہلاری کلنٹن نے اپنے دو ٹوئیٹس میں اپنی کامیابی کو امریکہ کی چھوٹی بچیوں سے معنون کیا جو مستقبل میں امریکی صدر کے عہدہ پر فائز ہونے کے خواب دیکھ سکتی ہیں اور ان خوابوں کو شرمندۂ تعبیر بھی کرسکتی ہیں۔ ہلاری کے نام کی تجویز کانگریسی خاتون باربرا میکو لسکی نے پیش کی جو سینیٹ کے لئے منتخب ہونے والی پہلی ڈیموکریٹک خاتون ہیں اور ساتھ ہی ساتھ طاقتور سینیٹ کمیٹی کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون بھی ہیں۔ باربرا نے کہا کہ ہم تہہ دل سے ہلاری کلنٹن کو ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار نامزد کرتے ہیں۔ آٹھ سال قبل ہم نے ایک ایسے قائد کا انتخاب کیا تھا جو سیاہ فام تھا اور جس کے بارے میں کسی کو بھی تفصیلی طور پر کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ باربرا کا اشارہ موجودہ صدر بارک اوباما کی جانب تھا جو امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر بن کر اس وقت ہی ایک نئی تاریخ رقم کرچکے ہیں۔ ہلاری کے نام کی تجویز کے بعد سب سے پہلے تائید کرنے والوں میں افسانوی سیول رائیٹس لیڈر اور کانگریس مین جان لیوس شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہلاری اپنی زندگی عوامی خدمات کے لئے وقف کرچکی ہیں اور وہ امریکہ میں جمہوریت کا اس کے حقیقی معنوں میں اطلاق کریں گی۔

TOPPOPULARRECENT