Monday , December 18 2017
Home / مضامین / ہلاکو ہجوم کا نیا ہندوستان مسلمانوں کیلئے نئی آزمائش!

ہلاکو ہجوم کا نیا ہندوستان مسلمانوں کیلئے نئی آزمائش!

نازیہ اِرم
دو ماہ قبل کی بات ہے ہم اپنے کرائے کے اپارٹمنٹ کو تبدیل کرنے کی سوچ رہے تھے۔ ہمارے بڑھتے بچہ کو دیکھتے ہوئے ہم نے محسوس کیا کہ گنجائش بڑھانے کی ضرورت ہے اور ہم نے ہفتے کے اواخر میںدوڑ دھوپ شروع کردی کوئی زیادہ بڑا مکان تلاش کرلیا جائے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کسی مسلمان کیلئے مکان کا حصول کتنا مشکل معاملہ ہے اور ہم نے اس مسئلے پر حقیقت آشکار کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا طریقہ اپنایا۔ ہم نے اپنے بروکر کو شروع میں ہی کہہ دیا کہ ہم مسلمان ہیں اور برائے مہربانی ہماری شناخت چھپانے سے باز رہیں۔ ہم نے اُس سے یقینی بنانے کہا کہ مالک مکان کو مسلمانوں کو کرایہ پر رکھنے میں بالکلیہ کوئی عار نہ ہو اور تب ہی ہم وہاں جاکر مکان دیکھیں گے۔
بروکر نوجوان آدمی تھا اور ہماری کھری کھری باتوں سے حیرت میں پڑگیا، اور ندامت کے ساتھ مسکرا دیا۔ اگرچہ اس سے ہمارے لئے امکانات محدود ہوگئے لیکن کافی وقت اور توانائی کا بچاؤ بھی ہوا۔ نئی جگہ منتقلی کیلئے دو ماہ کی سرگرمی کے بعد ہمیں آخرکار ایک اپارٹمنٹ پسند آیا بلکہ ہم بیحد متاثر ہوئے۔ یہ کشادہ، ہوادار، مناسب محل وقوع پر ہمارے بجٹ میں تھا اور ہمیں لائف اسٹائل کے وہ معیار میں کچھ تبدیلی کی ضرورت نہ تھی جو ہم چاہتے تھے۔ مالک جائیداد خوش اخلاق و ملنسار شخص تھا اور ہمیں دفعتاً لگا کہ ہم نے آخرکار نیا مکان پالیا ہے۔
جب ہم نئے اپارٹمنٹ کو منتقل ہوگئے تو پھر ہم نے روزمرہ کی مختلف ضروریات سے نمٹنا شروع کیا۔ ترکاری فروش، پھول والا، دودھ والا اور مقامی میٹ شاپ  … …  سب کو گھر پہ سامان پہنچانے کیلئے کہہ دیا گیا۔ ہمارے بلڈنگ گارڈز جب بھی کوئی وزیٹر آئے اسے داخلے کی اجازت دینے سے قبل ’انٹرکام‘ پر ہم سے بات کرلیتے ہیں۔ کبھی کبھار جب ہمارا گوشت والا ہمارے آرڈر پہنچانے آئے، چاہے وہ مچھلی ہو، چکن یا مٹن، ہم فون آتا ہے کہ ’’مٹن آیا ہے‘‘۔ اور جب کبھی ایسا ہو ہمیں پریشاں خیالی ستاتی ہے۔
شروع میں ہم نے گوشت پہنچانے آئے لڑکے کی تنبیہ کی کہ بس اسے ’غذائی‘ ایٹم ہی کہا کرے۔ لیکن وہ بھول جاتا اور ہر مرتبہ ہم انٹرکام پر سنتے ہیں کہ ’’مٹن آیا ہے‘‘۔ یہ الفاظ ہی بُرے شگون والے معلوم ہوتے ہیں۔ ہماری سخت برہمی کو دیکھتے ہوئے گوشت والے لڑکے نے آخرکار پوچھ ہی لیا کہ مگر کیوں آپ لوگ مجھ سے کہتے ہو کہ ’مٹن‘ نہ بولوں؟ میں نے جواب دیا، ’’کیا پتہ تمہارا مٹن کب بیف بن جائے؟‘‘

آج کل کسی مسلمان کے مکان میں پکنے والا کوئی بھی گوشت آخر بیف ہی تو سمجھا جانے لگا ہے۔ میری مسلم خادمہ مجھے بتاتی ہے کہ کئی مرتبہ اس سے دیگر خادماؤں نے دریافت کیا کہ آیا ہم گھر میں بیف پکاتے ہیں؟ ہم نہیں پکاتے ہیں۔ لیکن ہم پھر بھی بے اعتباری میں جیتے ہیں۔ اپنے اطراف و اکناف پیش آئے واقعات کی خبریں ملاحظہ کیجئے، وضاحتوں کیلئے وقت ہی کہا ں ہے، محض شبہ کافی ہے کہ کسی مسلمان کو ذلیل کیا، یا بدتر اقدام کرتے ہوئے اسے ہلاک کردیا جائے۔ اگر کبھی بھی ہمارے اپارٹمنٹ کو پہنچائے جانے والے میٹ کی قسم کے بارے میں الجھن پیدا ہوجائے ، بھلے ہی نادانستگی میں ہو، ہم اس کمیونٹی کے خلاف پکڑے جانے والوں میں بس ایک اور اضافہ ہوجائیں گے۔ کیونکہ ’’ہلاکو ہجوم‘‘ کسی ایک یا دو جگہ تک محدود تو ہے نہیں، یہ تو ہمارے اطراف و اکناف سب جگہ ہیں۔
مجھے یاد ہے، اس مکان کو قطعیت دیتے وقت ہم نے آس پاس گھوم کر کلب ہاؤس، سویمنگ پول اور دستیاب دیگر اسپورٹس سہولتوں کا اطمینان کیا تھا۔ ہم دونوں بہت مسرور ہوئے اور ہمارے نئے گھر کیلئے منصوبے بنانے لگے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہماری بلڈنگ میں کسی مکان پر دستک دیتے ہوئے بھی اس پارٹمنٹ کے حسن و قبح کے تعلق سے دریافت کرلیا جائے۔ جب دروازہ کھلا تو پُرجوش جوڑے نے گرمجوشانہ مسکراہٹوں کے ساتھ ہمارا استقبال کیا جس سے فوری پسندیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ ہم نے انھیں بتایا کہ ہم منتقلی کا منصوبہ بنارہے ہیں اور وہ ہم سے بات چیت کرتے ہوئے خوش دکھائی دیئے۔ چند رسمی باتوں کے بعد انھوں نے ہمیں چائے پیش کی اور ہم اُن کے صوفہ سٹ پر سکون سے چائے نوش کرنے لگے۔
پھر یکایک انھوں نے ہم سے دریافت کیا، ’’آپ کا نام کیا ہے؟‘‘ ہم نے جانا کہ نئے لوگوں سے ملاقات کے جوش و خروش میں ہم میں سے کسی نے بھی خود کے تعارف کی زحمت نہیں کی۔ لہٰذا، ہم نے اپنے نام بتائے۔ اچانک، ابھی ہمارے ہاتھوں میں چائے کی پیالیاں موجود تھیں کہ ہمیں کچھ ہچکچاہٹ اور دفعتاً خاموشی کا احساس ہوا۔ کچھ دیر تک ایک دوسرے نظر ڈالنے کا بے آواز تبادلہ ہوا۔ میں نے کہیں سنا تھا کہ مسلمانوں کے مستعملہ چائے کی پیالیاں لوگ تلف کردیتے ہیں۔ مجھے میرے ہاتھ میں موجود عمدہ چینی کپ کے ممکنہ حشر کا سوچ کر دکھ ہوا۔ اتنی خوبصورت پیالی کا کیسا ضیاع ہے! اس کی صرف اتنی غلطی ہے کہ یہ میرے ہاتھوں میں آگئی۔

میں نے یہ بھی جان لیا کہ اب پہلے جیسے حالات نہ رہے اور آپ کسی کے مکان میں داخل ہونے کیلئے ایک سے دو مرتبہ اطمینان کرلینا چاہئے کہ آیا آپ کے مذہب کو جاننے کے بعد وہ آپ کو خوش آمدید کہیں گے یا نہیں۔ لیکن جانکاری اور ذاتی تجربہ یکساں چیزیں نہیں ہیں۔ ویسے تو ہم مکان مالکین کا مسلم کرایہ داروں کو مکانات نہ دینے سے واقف تھے، لیکن ہم تعلیم یافتہ اور مساوی مراعات کے حامل پڑوسیوں کی طرف سے ہچکچاہٹ کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ ہاں، کٹرپن کو اس کی تمام تر نوعیت میں قبول کرنا دھیرے دھیرے ہوتا ہے۔ لیکن آج مسلمان ہونے کا مطلب روزانہ کے ایسے واقعات سے بے پروا ہوکر جینا ہے۔ ایسے وزیٹرز پر اب ہمیں ہلکے سے مسکرانا آرہا ہے جو ہمارے گھروں میں ایک گلاس پانی تک پینے سے انکار کردیتے ہیں۔
دوسری طرف، ہمیں چند مالکین جائیداد ملتے ہیں جو ہمیں عمدہ مکانات کرایہ پر دیتے ہیں۔ دوستوں کو کھو دینے اور بے بنیاد نفرت کا شکار بننے کے عادی ہونے میں ہمیں وقت لگے گا۔ مگر اس کے ساتھ ہم مایوس نہیں ہیں کیونکہ ہم نئے دوست بنا لیتے ہیں جو مذہب یا سیاسی جھکاؤ سے قطع نظر ناانصافیوں کے خلاف سینہ سپر ہوتے ہیں۔ ہمیں ’’ہلاکو ہجوم‘‘ اور ’’دہشت گردانہ انصاف‘‘ کے تعلق سے بھی بہت کچھ سننے میں آرہا ہے، جو محض ایک کمیونٹی کو نشانہ بنارہے ہیں۔ اور اگر متعدد ’صحیح الفکر‘ مبصرین پر یقین کریں تو یہ کوئی فرقہ وارانہ واقعات نہیں بلکہ سوچی سمجھی کارروائیاں ہیں۔ یہ بات ہمیں فکرمند، بہت فکرمند بناتی ہے۔
ہماری یعنی ہندوستانی مسلمان کی اکثریت واقف ہے کہ ہمیں ہم اصل یا ہم نسل گروپ سمجھا جاتا ہے  …  امت جو اعمال اور اعتقادوں میں غیرمنقسم ہے۔ ہم ایسے فقرے سنتے آئے ہیں کہ ’’اوہ! آپ مسلم جیسے دکھائی نہیں دیتے‘‘ یا ’’آپ کے یہاں تو ہوں گے چاقو چھری چلانے والے‘‘۔ ہم بہت ہی قدامت پسند ہیں اور طبقہ، مذہب یا امنگوں کے فرق میں الجھے ہوئے ہیں۔ اور اس کی جانکاری آج مسلم ہونے کے ساتھ ہی ودیعت ہے۔ یہ کوئی لگا بندھا اخباری مضمون نہیں۔ یہ حقیقت ہے جس کے ساتھ ہم جی رہے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ کسی مسلم کو ہلاکو ہجوم کی جانب سے مار ڈالنے کی خبر ہمارے لئے بہت قربت والی ہے اور ہمارے پڑوسیوں کیلئے کہیں دورافتادہ کوئی اتفاقی واقعہ۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ایک اور دن عافیت سے گزر گیا، ایک اور دن جی لئے، کیونکہ اچھی طرح علم ہے کہ مجھے اگلا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ حیران کن بہیمیت اور اس کا وقفہ وقفہ سے پیش آنا، شاید اس وجہ سے میرے پڑوسی اور رفقاء نے خود کو اس حقیقت سے لاتعلق کرلیا ہے آج ہندوستان کیا بن چکا ہے۔
اسے ذہنوں میں تو حاشیہ پر رکھنا آسان ہے۔ اس کی جزوی وجہ یہ ہے کہ خود کو اکثریتی ہندو متوسط اور اونچی ذات کے عتاب سے علحدہ کرلیا جائے ۔ چنانچہ وہ اس طرح کے تشدد کے خلاف لب کشائی نہیں کریں گے۔ سوشل میڈیا پر کتنے گوشے ہیں جو دنیا کے ہر مسئلہ پر بات کرتے ہیں لیکن اس (ہلاکو ہجوم) پر نہیں۔ اس بارے میں تمام ’’من کی باتوں‘‘ میں مکمل خاموشی ہے۔ شاید اُس خون آلود شخص کی تصویر اب دلوں کو نہیں تڑپاتی ہے، جو اپنے ہاتھ جوڑ کر جان بچانے کی سعی کررہا تھا۔ یہ ایک علامت ہے کہ ہم کس قدر ترقی یافتہ ہیں، سماج کا نام نہاد محرم فرد تک آج اسمارٹ فون رکھتا ہے! شاید ہمیں ایسی خونیں تفصیلات میں نہیں پڑتا چاہئے بلکہ مثبت پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے مختلف نظریات کو قبول کرنا ہوگا جو ہمیں اس طرح کہ ’یکا دکا‘ واقعات کے تعلق سے دلاسا دیتے ہیں۔ ٹھیک ہے! کچھ نہ دیکھیں، کچھ نہ سنیں اور وہ خوف بھی محسوس نہ کریں جو آپ کے مسلم پڑوسی یا رفیق کی زندگی میں قریب میں ہی پایا جاتا ہے۔
( یہ مضمون News18.com پر 22 مئی 2017ء کو شائع ہوا)

TOPPOPULARRECENT