Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ہل فورٹ پیالیس کی عظمت رفتہ بحال کرنے کے اقدامات

ہل فورٹ پیالیس کی عظمت رفتہ بحال کرنے کے اقدامات

تاریخی محل تلنگانہ تہذیب کا عکاس ، تلنگانہ اسٹیٹ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی مساعی
حیدرآباد۔/4نومبر، ( سیاست نیوز) شہر میں عرصہ دراز سے ویران رہنے والے ہل فورٹ پیالیس کی عظمت رفتہ بحال ہوگی۔ تلنگانہ اسٹیٹ ٹوریزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے فیصلہ کیا ہے کہ نوبت پہاڑ آدرش نگر میں موجود تاریخی محل کو تلنگانہ تہذیب کا عکاس بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے اور اس محل میں تہذیبی مرکز کے آغاز کیلئے کوششیں کی جائیں گی۔ شہر کے تہذیبی ورثے کی فہرست میں شامل اس پیالیس کی کشادگی کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ رٹز ہوٹل کے نام سے مشہور اس پیالیس کی تزئین نو کے ذریعہ اس کی عظمت رفتہ کو بحال کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں پیالیس میں 30کمروں کی تعمیر کے ذریعہ اسے ہیرٹیج ہوٹل کی شکل دی جائے گی۔ گزشتہ 20برس سے مقفل اس ہل فورٹ پیالیس کا محکمہ سیاحت کے عہدیداروں نے دورہ کرتے ہوئے اس کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ یہ پیالیس سلطنت آصفیہ کے دور میں سر نظامت جنگ کا ہوا کرتا تھا جوکہ حکومت آصفیہ میں چیف جسٹس کے عہدہ پر مامور تھے۔ سر نظامت جنگ نے 1915ء میں یہ محل تعمیر کروایا تھا جو کہ 6ایکر اراضی پر محیط ہے۔ 1929ء میں یہ محل حکومت نظام نے خرید لیا اور اسے پرنس معظم جاہ کی سرکاری رہائش گاہ قرار دیا جبکہ وہ شہری ترقیاتی بورڈ کے صدرنشین ہوا کرتے تھے۔ انضمام حیدرآباد کے بعد یہ جائیداد حکومت ہند کی ہوگئی جسے رٹز ہوٹل نامی کمپنی کو 1955ء میں لیز پر دے دیا گیا تھا۔ 1990تک یہ ہوٹل جاری رہا جبکہ 1990کے بعد یہ پیالیس بالکلیہ طور پر مقفل رہنے لگا۔ صدرنشین تلنگانہ اسٹیٹ ٹوریزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن مسٹر پی راملو نے بتایا کہ پیالیس کی تزئین نو کے بعد اسے تلنگانہ کے تہذیبی مرکز کے طور پر فروغ دیا جائے گا چونکہ پیالیس میں موجود نقش نگاری کے علاوہ خوبصورتی کو تلنگانہ تہذیب کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کارپوریشن نے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے مطابق اس پیالیس میں موجود جگہ کا استعمال کرتے ہوئے تلنگانہ کے مختلف اضلاع کی تہذیب کو پیش کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ مسٹر پی راملو کے بموجب اس مقصد کے حصول کیلئے کافی سرمایہ درکار ہوگا لیکن اس کے انتظامات کرتے ہوئے پیالیس کی عظمت رفتہ کی بحالی کو یقینی بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پیالیس کی کشادگی کے بعد اس میں نہ صرف تہذیبی پروگرامس منعقد کئے جاسکیں گے بلکہ پیالیس کے روبرو واقع وسیع و عریض اراضی پر تلنگانہ کی علاقائی دستکاری اشیاء کی فروخت کیلئے اسٹالس بھی لگائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کی تہذیب ریاست کا بہترین سرمایہ ہے اور اس کے تحفظ کیلئے اس طرح کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ ہل فورٹ پیالیس کو نئی زندگی حاصل ہونے کی صورت میں شہر میں موجود دستکاروں و فنکاروں کو اپنے فنون کا مظاہرہ کرنے کا بہترین موقع میسر آئے گا۔ واضح رہے کہ ہل فورٹ پیالیس شہر حیدرآباد کی تاریخی عمارتوں کی فہرست میں شامل تیسرے درجہ کی عمارتوں میں درج ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT