Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / ’’ہمارے باپ کے قاتل کو پھانسی پر لٹکاؤ‘‘

’’ہمارے باپ کے قاتل کو پھانسی پر لٹکاؤ‘‘

راجستھان میں ہندو فاشسٹ کے ہاتھوں شہید محمد افضل کی بیٹی کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 8 ڈسمبر (سیاست نیوز) راجستھان میں مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم مزدور کو جس بہیمانہ انداز میں قتل کیا گیا اس نے سارے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ عالمی میڈیا میں بھی مذہبی تعصب کے باعث کئے گئے اس قتل کو نمایاں طور پر پیش کیا، جس پر بے شمار تبصرے سامنے آئے ہیں۔ ان تبصروں میں کہا گیا ہیکہ ہندوستان میں قوم پرستی اور ہندوتوا کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے وہ نہ صرف خوفناک ہے بلکہ ملک کو تباہی و بربادی کی طرف لے جائے گا۔ آپ کو بتادیں کہ مقتول محمد افرازالاسلام خان مغربی بنگال کے ضلع مالدہ کے ایک چھوٹے گاؤں سے تعلق رکھتے تھے اور راجستھان میں سڑکوں کی تعمیر میں مزدور کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔ محمد افرازالاسلام خان کے قتل کی ویڈیو وائرل ہونے کے ساتھ ہی ان کے گاؤں سید پور میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔ گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ محمد افضل گذشتہ 20 برسوں سے راجستھان میں مزدوری کررہے تھے۔ سڑکوں کی مرمت و تعمیری کام کے ذریعہ وہ اپنا گھر چلا رہے تھے۔ صرف عیدین کے موقع پر اپنے گھر آیا کرتے تھے۔ اپنی شہادت سے کچھ منٹ قبل انہوں نے اپنی اہلیہ سے فون پر بات کرتے ہوئے بینک جانے اور انتظار کرنے کیلئے کہا۔ انہوں نے کہا ’’میں 50 ہزار روپئے بنک اکاؤنٹ میں جمع کروارہا ہوں۔ بنک میں رقم آتے ہی وہ فوراً آگاہ کرے‘‘ اپنے شوہر کی ہدایت پر غفور بی بی بنک پہنچی اور انتظار کرتی رہی۔ محمد افضل کا فون آیا نہ ہی اکاؤنٹ میں رقم۔ غفور بی بی کو کیا پتہ کہ اب اس کا شوہر ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں جانے کے بعد کوئی نہیں آتے۔ کوئی رقم نہیں بھیجتے وہاں جو جاتے ہیں ان کے واپس آنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں ان کیلئے مغفرت کی دعا کی جاسکتی ہے۔ غفور بی بی نے کافی انتظار کے بعد اپنے شوہر کو کال کیا لیکن فون پر محمد افضل نہیں بلکہ کوئی اور بول رہا تھا۔ اس نے جب بتایا کہ محمد افضل شہید ہوگئے وہ بینک کے باہر ہی ڈھیر ہوگئی۔ اس کے ہوش و حواس گم ہوگئے۔ اس کی آنکھوں میں تاریکی چھا گئی۔ شدت غم سے اسے یہ بھی خیال نہیں رہا کہ وہ تین بیٹیوں جسمیرا، ریگنا اور 16 سالہ حبیبہ کی ماں ہے۔ آج بھی غفور بی بی کی حالت سنبھل نہیں پائی ہے۔ ان کے گھر سے رونے کی مسلسل آوازیں آرہی ہیں۔ محمد افضل کی بیٹیاں سسک سسک کر رو رہی ہیں۔ ریگنا خاتون اپنے آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے کہتی ہے ’’ہم حکومت سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے باپ کے قاتل کو سزاء دلوائی جائے۔ اسے پھانسی پر لٹکایا جائے۔ اگر حکومت ایسا کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو حکومت پر ہمارے والد کے قتل کا الزام ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رہے گا۔
ریگنا خاتون کا شوہر بھی راجستھان میں اپنے خسر کے ساتھ کام کرتا ہے جو اس کے چچا بھی ہوتے ہیں۔ واضح رہیکہ بسمبھولال نامی ایک فاشسٹ نے محمد افضل کو انتہائی بیدردی سے قتل کرکے ان کی نعش نذرآتش کردی۔ ساتھ ہی وہ مسلمانوں کے خلاف نازیبا ریمارک کرتا رہا ہے اور ہندو خواتین اور لڑکیوں سے لوو جہاد کے چکر میں نہ آنے کی اپیل بھی کی۔ شمبھولال کی غیرانسانی بلکہ شیطانی حرکت پر چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی تڑپ اٹھی۔ حیرت کی بات یہ ہیکہ مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے محمد افضل کے قتل سے متعلق سوال کو ایک سیاسی سوال قرار دیا ہے۔ حیرت اس بات پر ہیکہ ساری دنیا اس قتل کو درندگی کی بدترین مثال قرار دے رہی ہے اور مرکزی وزیرداخلہ کی سوچ و فکر کا حال یہ ہیکہ وہ اسے ایک سیاسی سوال قرار دے رہے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT