Friday , November 24 2017
Home / مضامین / ہمارے مسائل کا حل سنت کی روشنی میں

ہمارے مسائل کا حل سنت کی روشنی میں

کے این واصف
تلنگانہ این آر آئیز فورم نے معروف مبلغ نعیم جاوید کے ایک خصوصی خطاب بعنوان ’’ہمارے مسائل کا حل سنت کی روشنی میں‘‘ کا اہتمام کیا ۔ شخصیت سازی کیلئے قائم تنظیم ’’ہدف‘‘ کے صدر نعیم جاوید نے محفل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام طور سے سیرت النبیؐ کی مجالس و محافل میں ہمارے علماء و مبلغین نبی اکرمؐ کے معجزات، آپؐ کے خد و خال اور حسن و جمال کے تذکرے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ نبیؐ رحمت کی زندگی کے ان پہلوؤں پر روشنی نہیں ڈالتے جس سے امت کو پتہ چلے کہ دشمنانِ اسلام  اور مخالفین نے کیسے کیسے آپؐ کو تکلیفیں پہنچائیں، پیام حق کے پھیلانے میں کیسے کیسے مسائل کھڑے کئے گئے وغیرہ اور یہی عمل ہمارے نعت گو شعرائے کرام کا بھی رہا جبکہ بتایا یہ جانا چاہئے کہ آپؐ نے وسائل کی کمی اور مسائل کی بھرمار میں بھی دعوت حق کو کیسے پھیلایا، بھوک پیاس کی شدت میں کیسے صبر کا دامن تھامے رکھا، محدود وسائل میں کیسے جنگوں اور غزوات کا سامنا کیا ، کیسے طاقت حق سے باطل کو زیر کیا، کیسے اپنے اسوہء حسنہ اور اخلاق و اقدار سے مخالفین کے دل جیتے ، کیسے خوش اسلوبی سے کفاروں کو قائل حق کیا ۔ بداخلاقی ، بدکاری ، بد عقیدگی ، جھوٹ ، مکر و فریب اور جہالت کے اندھیروں میں کیسے حق و صداقت اُجالا کیا۔
نعیم جاوید نے کہا کہ نبیؐ رحمت نے امت سے کہا کہ میں اپنے پیچھے قرآن اور اپنی سنت چھوڑ رہا ہوں اور ہم ہیںکہ تاریک قرآن ہوگئے اور سیرت نبیؐ کے پڑھنے اور عمل کرنے سے غافل ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اگر اپنی ان کوتاہیوں کو دور کرلیں تو ہمارے مسائل اپنے آپ حل ہوجائیں۔ نعیم جاوید نے کہا کہ ہم دنیا کے اس عارضی پڑاؤ میں دنیوی علم تو حاصل کرتے ہیں تاکہ ہماری یہ مختصر سی زندگی بہتر انداز میں بسر ہو لیکن ہمارے پاس اپنی دائمی زندگی کیلئے نہ تو کوئی منصوبہ ہے نہ تیاری ۔ ہم علم دین حاصل کرنے کی طرف راغب ہیں ، نہ قرآن سمجھنے کی طرف مائل ، نہ سیرت نبیؐ پڑھنے ہی کی کوشش کرتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں سیرت پر ایک کتاب بھی نہیں ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ آج انٹرنیٹ پر بھی کافی مواد موجود ہے۔ اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ نعیم جاوید نے کہا کہ ہم عقائد اور مسالک کے بیچ پیدا کئے گئے چھوٹے چھوٹے اختلاف کو لیکر آپس میں نفرتوں کی دیواریں کھڑی کر کے اپنے آپ کو ٹکڑوں میں بانٹے ہوئے ہیں۔ ہمیں اگر اپنے دشمنوں سے شکایت ہے تو نبیؐ کے طریقہ کو دیکھیں کہ وہ کس طرح اغیار کے مختلف قبائل سے معاملات کیسے سلجھاتے تھے ۔ ہم اگر اپنے آپسی اختلاف ہی ختم نہ کرپائیں تو غیروں اور گمراہوں کے پاس پیام حق کب کیسے لے جا پائیں گے۔ ہمیں اپنی ذات کے حصار سے باہر نکل کر اغیار کی صفوں میں جگہ بنانا چاہئے ۔ ان کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنا چاہئے تاکہ وہ آپ کے حسن سلوک سے مرعوب ہوں اور دین حق کی طرف قدم بڑھانے کا خیال کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج جھوٹ ، مکر و فریب ، رشوت ، حرام کاری ، حرام خوری ، بدکلامی ، بداخلاقی ، فحاشی ، بے حیائی کو لوگوں نے اپنی زندگی کے معمولات میں داخل کرلیا ہے اور اسی رو میں مسلمان بھی بہہ رہے ہیں۔ یہ احکامات اور تعلیمات نبیؐ  سے دوری کا نتیجہ ہے۔ نعیم جاوید نے کہا کہ امت کا مسائل میں گھرنا اور دنیا میں خوار ہونے کا سبب ہماری صفوں میں اتحاد کا فقدان ہے۔
اس محفل کا آغاز حافظ و قاری علیم الدین کی قرات کلام پاک سے ہوا ۔ انجنیئر احسان احمد نے نعت مبارکہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ محفل کی صدارت صدر تنظیم ہم ہندوستانی محمد قیصر نے کی ۔ صدر ہندوستانی بزم اردو ریاض آرکیٹکٹ عبدالرحمن سلیم ، سابق صدر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز اسوسی ایشن محمد ضیغم خاں اور معروف سماجی کارکن محمد رفیق مہمان اعزازی کے طور پر شہ نشین پر موجود تھے۔ ناظم محفل قاری علیم الدین کے تعارفی کلمات کے بعد صدر تلنگانہ این آر آئیز فورم ریاض ، عبدالجبار نے خیرمقدم کیا ۔ محمد ضغیم خاں نے اس موقع پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس ماہ مبارک کی نسبت سے اس محفل کا اہتمام اور نعیم جاوید صاحب کے لکچر کا عنوان بے حد موضوع اور مفید ہے ۔ عبدالرحمن سلیم نے کہا کہ ہمارے مسائل ہماری کوتاہیوں کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسوہء حسنہ ہمارے لئے راہ ہدایت و کامرانی ہیں۔ سلیم نے کہا کہ آج ہم اس مبارک محفل سے عہد کر کے اٹھیں کہ ہم ایک باعمل مسلمان بننے کی کوشش کریں گے۔
آخر میں محمد قیصر نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ نعیم جاوید کے لکچرس کو سلسلہ وار طور پرجاری رکھا جانا چاہئے تاکہ ہمیں اپنی اصلاح کا موقع حاصل ہو اور ہمارے اندر برائیاں جو بیماریوں کی طرح پھیل چکی ہیں اس کا علاج بھی ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ اللہ رب العزت نے ہمیں زمین پر امن پھیلانے اور شرک مٹانے کیلئے بھیجا ہے لیکن اس کیلئے ہمیں خود اپنے اعمال درست کرنے ہوں گے تب جا کر ہم گمراہوں اور غافلوں کو جگا سکیں گے ۔ قیصر نے کہا کہ بے حیائی اور ناانصافی انسانی سماج کو کھوکھلا کر رہی ہے ۔ کم از کم مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس سے بچنے کی کوشش کریں۔
حیی الوزارت میں واقع ایک ہوٹل کے وسیع بینکوٹ ہال میں منعقد اس محفل میں کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ صدر تلنگانہ این آر آئیز اسوسی ایشن عبدالجبار کے ہدیہ تشکر پر اس محفل کا اختتام عمل میں آیا۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT