Thursday , November 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / ہمارے معاشرہ میں بگاڑ کا سبب ، نیکی اور صلہ رحمی کا فقدان

ہمارے معاشرہ میں بگاڑ کا سبب ، نیکی اور صلہ رحمی کا فقدان

ابوزہیر سید زبیر ہاشمی نظامی

اﷲ تبارک و تعالیٰ نے ہم مسلمانوں کو اسلام و ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا اور ہمارا معاشرہ سارے عالم میں ایک بہترین معاشرہ ہے جس کی بنیاد ہمارے نبی اکرم ﷺنے ڈالا ہے۔ یقینا سرکار دوعالم ﷺ کی حیات مبارکہ ایک کامل ہے ۔ایک اچھے معاشرہ کی تشکیل کے لئے یہ ضروی ہے کہ وہ نبی اکرمﷺکے اسوہ کو پیشِ نظررکھے۔ فی زمانہ ہمارے معاشرہ میں گراوٹ اور تنزل بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہاہے آج ہمیں اس بات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ یہ گراوٹ ہمارے اندرکیوں آرہی ہے۔ ہمیں اس دنیوی زندگی میں پستی کیوں دیکھنی پڑرہی ہے۔ ہمارا مسلم معاشرہ غلط راہ پرکیوں چل رہاہے۔ ناکامی ہمارے ہاتھ کیوںلگ رہی ہے آخرکوئی تووجہ ہوگی ؟۔
ہاں!وہ وجہ ایک نیکی سے دوری اوردوسری صلہ رحمی کافقدان ہے۔ یہی وہ دوسبب ہیں جس کوحضور ﷺ نے نہ صرف کرنے کا حکم فرمایا ہے بلکہ اس کو آپ ﷺ نے اختیار بھی کیاہے ۔ حُسن اخلاق یہ نیکی کا بڑا بہترین ذریعہ ہے اس کے ذریعہ انسان اپنے اندرایمان کی حلاوت اور لذت کوحاصل کرسکتاہے اس حسنِ اخلاق کے با رے میں بہت سی احادیث شریفہ واردہوئی ہیں جن میں سے چند یہاں بغرض استفادہ تحریر کئے جاتے ہیں۔
٭  ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومنوں میں سے کامل ایمان والا وہ ہے جو بہترین اخلاق کا مالک ہے اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ انتہائی نرم ہے۔ (ترمذی )
٭  حضرت جابررــضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضوراکرم ﷺ نے فرمایا:تم میں سب سے زیادہ پیارے اور قیامت کے دن میرے نزدیک ترین بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں سے اخلاق میں اچھے ہیں۔  (ترمذی)
٭  حـضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ مین نے حضورنبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہو ئے سنا :یقینامومن حسن اخلاق کے ذریعے دن کوروزہ رکھنے والے اور راتوں کوقیام کرنے والے کادرجہ حاصل کرلیتاہے ۔  (أبوداؤد)
٭  حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضوراکرم ﷺ نے فرمایا:حسن اخلاق سے بڑھ کر میزا ن میں بھاری چیزکوئی نہیں ہوگی ۔  (أبوداؤد)
٭  حـضرت عبداللہ بن مسعود رـضی اللہ سے مروی ہے کہ حضوراکرم ﷺ نے فرمایا:بے شک اس شخص پرآگ حرام کردی گئی جو نرم خو،خوش اخلاق اور(نیک مجالس میں) لوگوں کے قریب ہے ۔(ترمذی)
٭  حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی سے مروی ہے کہ حضوراکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارااپنے مسلما ن بھائی کے لئے مسکرانابھی صدقہ ہے ۔(ترمذی )
٭  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھاسے مروی ہے کہ حضوراکرم ﷺ نے فرمایا:یقینا اللہ تعالی ہرایک معاملہ میںنرمی برتنے کوپسندکرتاہے۔  (متفق علیہ)
٭  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہایہ بھی ایک روایت ہے کہ حضوراکرم ﷺ نے فرمایا:ائے عائشہ بے شک اللہ تعالی نرمی سے سلوک کرنے والاہے اور ہرایک معاملہ میں نرمی کو پسندکرتاہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا:اللہ تعالی نرمی کرنے والاہے اور نرمی کوپسندکرتاہے اورنرمی پراتناعطافرماتاہے کہ اتنا سختی پربھی عطانہیں کرتا۔  (متفق علیہ)
٭  حضرت جریر رـضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضوراکرم ﷺنے فرمایا: جونرمی سے محروم ہوا  وہ تمام بھلائیوں سے محروم رہ گیا۔ (مسلم)
صلہ رحمی:  یعنی دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کابرتاؤکرنا یہ بھی حضور ﷺ کی حیات طیبہ میںبدرجۂ أتم موجودہیں جس کواپنانا آج ہمارے معاشرہ کے لئے بے انتہاء ضروری ہے جیساکہ اس طرف حضوراکرم ﷺ نے توجہ مبذول فرمایاہے۔
٭  حضرت عبداللہ ابن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پرظلم کرتاہے اور نہ اسے بے یارومددگارچھوڑتاہے جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتاہے اللہ تعالی اس کی حاجت روائی فرماتاہے اور جوشخص کسی مسلمان کی دنیوی مشکل حل کرتاہے اللہ تعالی اس کی قیامت کی مشکلات میں سے کوئی مشکل حل فرمائے گا اور جوشخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتاہے اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی سترپوشی کرے گا۔(متفق علیہ)
٭  حضرت عبداللہ بن عمراور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہما دونوں روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے کام کے سلسلے میں چل پڑا حتی کہ اسے پورا کردے اللہ تعالی اس پر پانچ ہزار ،اور ایک روایت میں ہے کہ پچہترہزارفرشتوں کا سایہ فرمادیتاہے وہ اس کے لئے اگر د ن ہو تو رات ہونے تک اور رات ہوتو دن ہونے تک دعائیں کرتے رہتے ہیں اور اس پررحمت بھیجتے رہتے ہیں اور اس کے اٹھنے والے ہرقدم کے بدلے اس کے لئے نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اس کے رکھنے والے ہرقدم کے بدلے اللہ تعالی اس کا گناہ مٹادیتاہے۔(  بیہقی)
ان تمام روایتوں سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اگرہم دونوں جہاں میں سرخروئی حاصل کرناچاہتے ہیں تو حضور نبی اکر م ﷺ کے اسوئہ حسنہ کواپنائیں، اس کے ذریعہ معاشرہ میں نہ صرف سدھا رآئیگا بلکہ نسلِ نَوبھی کامیابی کی راہ پرگامزن رہیگی۔اللہ ہم سب کو نیک توفیق دے۔  اٰمین

Top Stories

TOPPOPULARRECENT