Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / ہمارے کلچر کی بحالی کیلئے رام مندر کی تعمیر لازمی

ہمارے کلچر کی بحالی کیلئے رام مندر کی تعمیر لازمی

NEW DELHI, JAN 9 (UNI):-Members of various students union raising slogans during a demonstration in protest against the National seminar on 'Shri Rama Janambhoomi Temple Emerging Scenario' in New Delhi on Saturday. UNI PHOTO-30U

کوئی بھی کام زبردستی یا قانون کے خلاف نہیں کیا جائیگا ۔ سمینار سے سبرامنیم سوامی کا خطاب
نئی دہلی، 9 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی یونیورسٹی کے باہر احتجاج کے دوران سینئر بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے یونیورسٹی میں رام مندر کی تعمیر کے مسئلہ پرایک سمینار منعقد کیا جہاں انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی کام زبردستی یا قانون کے خلاف نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے دو روزہ سمینار کے پہلے دن اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ہمارے کلچر کے احیاء کیلئے رام مندر کی تعمیر لازمی ہے ۔ ہم نے یہ کام شروع کیا ہے اور ہم اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک مندر تعمیر نہیں ہوجائے گی۔ انہوں نے تاہم کہا کہ کوئی بھی کام زبردستی یا قانون کے خلاف نہیں کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ عدالت میں ہمیں کامیابی حاصل ہوگی ۔ یہ ادعا کرتے ہوئے کہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلئے مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا سوامی نے کانگریس سے اپیل کی کہ وہ آگے آئے اور اس کاز کی حمایت کرے ۔ انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی نے شخصی طور پر ان سے کہا تھا کہ رام مندر تعمیر ہوگی اور جب کبھی انہیں کوئی موقع ملے گا وہ اس میں مدد ضرور کریں گے ۔

 

پہلی مدد انہوں نے یہ کی کہ پارٹی کی مخالفت کے باوجود رامائن سیرئیل کے ٹیلی کاسٹ کی اجازت دی تھی اور اس ٹیلی کاسٹ نے عوام میں زبردست جوش و جذبہ پیدا کردیا تھا ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ راجیو گاندھی نے رام مندر کا سنگ بنیاد رکھنے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ انہوں نے 1989ء کی اپنی انتخابی مہم میں یہ بھی کہا تھا کہ ملک میں رام راجیہ ہونا چاہئے ۔ انہیں امید ہے کہ کانگریس بھی آگے آئیگی اور اس کی حمایت کریگی کیونکہ یہ صرف ہمارا مطالبہ نہیں ہے بلکہ ملک کا مطالبہ ہے ۔ سبرامنیم سوامی نے قبل ازیں ادعا کیا تھا کہ ایودھیا میں ( بابری مسجد کے مقام پر ) رام مندر کی تعمیر کا کام جاریہ سال کے ختم تک مسلم برادری کے تعاون سے شروع ہوجائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں 40,000 سے زائد مندروں کو مسمار کیا گیا ۔ ہم ان سب کی بحالی کا مطالبہ نہیں کرتے لیکن تین مندروں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا جو رام جنم بھومی مندر ‘ متھورا میں کرشنا مندر اور کاشی وشواناتھ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر رام مندر کی تعمیر عمل میں آتی ہے تو دوسری مندروں کیلئے بھی راہ آسان ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر بات چیت ہوسکتی ہے لیکن کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ۔

TOPPOPULARRECENT