Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / ہماچل اور گجرات انتخابات مودی کی آزمائش

ہماچل اور گجرات انتخابات مودی کی آزمائش

معاشی انحطاط، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے اثرات ،بی جے پی ذات پات پر فکرمند
ممبئی ۔ 27 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سنگاپور کے مالیاتی ادارہ ڈی بی ایس بینک نے آج کہا کہ جی ایس ٹی پر عمل آوری کے بشمول مختلف بڑی اصلاحات کے پیش نظر گجرات اور ہماچل پردیش کے انتخابات مودی حکومت کی مقبولیت کیلئے ’’تیزابی امتحان‘‘ ثابت ہوں گے۔ اس بینک نے اپنے نوٹ میں کہا کہ ترقی میں سست روی، جی ایس ٹی کی عمل آوری کے چھوٹے تاجروں اور مرتب ہونے والے اثرات اور ذات پات کے اختلافات کے سبب گجرات میں حکمراں بی جے پی تذبذب کی شکار ہے۔ ڈی بی ایس بینک نے کہا کہ ’’یہ انتخابی نتائج حالیہ پالیسی تبدیلیوں اور اصلاحات کی روشنی میں حکومت کی مقبولیت پر تیزابی امتحان ثابت ہوں گے‘‘۔

اس نے کہا کہ الیکشن کے نتائج اس بات کا اشارہ بھی کریں گے کہ حالیہ ’’اہم لیکن خلل اندازی‘‘ کے ساتھ ہونے والی اصلاحات کی کس طرح تشریح ہوئی ہے‘‘۔ بی جے پی اس ضمن میں رشوت ستانی اور کالے دھن کے خلاف اپنی لڑائی کے علاوہ جی ایس ٹی سے ہونے والے مسائل آسان کرنے کیلئے تاجرین کو دلاسہ دینے کیلئے اپنی سیاسی تشریحات تبدیل کرے گی اس کے ساتھ زرعی اور دیہی شعبہ کی مدد کیلئے اصلاحات پر مزید توجہ مرکوز کرے گی۔ گجرات میں حالیہ دہائیوں کے دوران یہ پہلے اسمبلی انتخابات ہوں گے جس میں نریندر مودی چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے بی جے پی کے امیدوار نہیں ہیں اس کے علاوہ ترقی کی شرح میں سست روی بھی بی جے پی کیلئے پریشانی کی ایک وجہ ہے۔ نوٹ بندی اور عجلت میں جی ایس ٹی کے نفاذ کو مصبرین کی طرف سے معاشی سست روی کیلئے موردالزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ ڈی بی ایس بینک نے کہاکہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ ان (دو ریاستوں کے) انتخابی نتائج کو مئی 2019ء کے عام انتخابات کے نتائج کی بنیاد بنانا قبل از وقت ہوگا کیونکہ آئندہ سال ہونے والے ریاستی اسمبلیوں کے نتائج جذبات کا اندازہ لگانے کیلئے ایک صحیح پیمانہ فراہم کرسکتے ہیں‘‘۔ ہماچل پردیش میں 9 نومبر اور گجرات میں 9 اور 14 ڈسمبر کو انتخابات ہوں گے۔ بعض اداروں کی طرف سے کئے گئے اوپنین پول کے مطابق دونوں ریاستوں میں بی جے پی کی کامیابی کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT