Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / ہماچل پردیش میں غرقاب طلبا کی نعشوں کی تلاش ہنوز جاری

ہماچل پردیش میں غرقاب طلبا کی نعشوں کی تلاش ہنوز جاری

عصری ٹکنالوجی سے لیس آلہ کا استعمال بھی بے سود ۔مسلسل تیسرے دن بھی کوئی نعش دستیاب نہیں ہوسکی

عصری ٹکنالوجی سے لیس آلہ کا استعمال بھی بے سود ۔مسلسل تیسرے دن بھی کوئی نعش دستیاب نہیں ہوسکی

منڈی ( ہماچل پردیش ) 15 جون ( پی ٹی آئی ) ہماچل پردیش کے ضلع منڈی میں دریائے بیاس میں غرقاب ہوجانے والے طلبا میں 17 کی نعشوں کی تلاش کا کام جاری ہے لیکن سات دن گذرجانے کے باوجود ابھی تک بھی نعشوں کا پتہ نہیں چلایا جاسکا ہے ۔ بڑے پیمانے پر تلاشی مہم جاری ہے اور اس میں عصری آلات کی مدد بھی لی جا رہی ہے ۔ حیدرآباد کے ایک انجینئرنگ کالج سے تعلق رکھنے والے جملہ 24 طلبا دریائے بیاس میں 8 جون کو غرقاب ہوگئے تھے ۔ عصری ٹکنالوجی سے لیس ایکو ساؤنڈر آلہ کی خدمات آج حاصل کی گئیں اور اس کے نتیجہ میں ندی کی تہہ تک پہونچنے میں مدد ملی ہے تاہم نعشیں ہنوز دستیاب نہیں ہوسکی ہیں۔ ابھی 16 انجینئرنگ طلبا اور ایک ٹور آپریٹر کی نعش ملنی باقی ہے ۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی اور کہا کہ ابھی تک بچاؤ ٹیموں کی جانب سے صرف آٹھ نعشیں نکالی جاسکی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیم کے کمانڈنگ آفیسر جئے دیپ سنگھ نے بتایا کہ ہم نے عصری ٹکنلوجی سے لیس سائیڈ اسکان سونار کو استعمال کیا ہے تاکہ دریا کی تہہ کی تصاویر بھی لی جاسکیں۔ اس آلہ کی مدد سے دریا کی تہہ کی اچھی تصاویر دستیاب ہوئی ہیں لیکن ان میں نعشوں کا پتہ نہیں چل رہا ہے ۔ یہ عصری آلہ ایک حصوصی نظام پر مشتمل ہے جس کی مدد سے سمندر کی تہہ پر یا دریا کی تہہ میں موجود اشیا کا پتہ چلایا جاسکتا ہے اور ہائیڈرو گرافک سروے کئے جاتا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ آج پہلی مرتبہ پنڈوہ ڈیام سے دریائے بیاس کے 10 میٹر کے حصے کی آج پہلی مرتبہ یہ آلہ استعمال کرتے ہوئے اسکاننگ کی گئی تاہم اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے ۔ آج مسلسل تیسرا دن تھا جب کوئی بھی نعش دستیاب نہیں ہوسکی ہے ۔ اب تک جو نعشیں دستیاب ہوئی ہیں وہ حادثہ کے مقام سے تین کیلومیٹر کے اندر ہی یا تو چٹانوں میں پھنسی ہوئی پائی گئیں یا کیچڑ میں دھنس گئی تھیں۔ حیدرآباد کے وگیان جیوتی انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے طلبا منالی کو تفریح پر گئے ہوئے تھے کہ 8 جون کو دریا میں تصویر کشی کے دوران اس وقت 24 طلبا بہہ گئے تھے جب حکام نے وہاں اچانک ہی پانی چھوڑ دیا تھا ۔ یہ پانی لارجی ہیڈرو پاور پراجیکٹ سے چھوڑا گیا تھا ۔ وزیر داخلہ تلنگانہ مسٹر این نرسمہا ریڈی گذشتہ چھ دن سے یہاں کیمپ کئے ہوئے ہیں اور انہوں نے کہا کہ ہم اب پنڈوہ ڈیم کے دروازے کھولنے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس ذخیرہ آب میں پانی کو انتہائی حد تک کم کیا جاسکے ۔ پانی کم ہونے کے بعد نعشوں کی تلاش کا کام آسان ہوسکتا ہے ۔ تاہم اس تعلق سے کوئی بھی فیصلہ طلبا کے والدین کی منظوری سے کیا جائیگا ۔ پنڈوہ ڈیم کے دروازے کھولنے کا فیصلہ بھی کئی اثرات کا حامل ہوسکتا ہے کیونکہ کچھ طلبا کے والدین نے ان اندیشوں کا اظہار کیا کہ اگر دروازے کھولے گئے تو پانی کے ساتھ نعشیں بھی نیچے کی سمت چلی جائیں گی ۔ ضلع انتظامیہ نے کل ہی کوشش کی تھی کہ لاپتہ طلبا کے والدین اور افراد خاندان سے یہ اجازت حاصل کی جائے کہ پنڈوہ ڈیم کے دروازے کھولے جائیں ۔ والدین اور افراد خاندان بھی گذشتہ پیر سے یہاں کیمپ کئے ہوئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر دیویش کمار نے جو تلاشی مہم کی نگرانی کر رہے ہیں کہا کہ اگر نعشیں مزید آگے چلی گئیں ہیں تو ڈیم سے پانی کے اخراج کے دریعہ ہم نعشوں کو آسانی سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ نیچے کی سمت دریا کی چوڑائی کم ہے ۔ یہاں جاری تلاشی مہم میں تقریبا 600 ورکرس حصہ لے رہے ہیں ان میں نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیم کے 50 غوطہ خور ‘ فوج ‘ بحریہ ‘ انڈو تبت بارڈر پولیس بھی شامل ہے ۔ یہ لوگ دریائے بیاس کے 15 کیلومیٹر طویل حصہ میں مشترکہ تلاشی مہم میں مصروف ہیں۔ ہماچل پردیش کے ومیر صنعت مسٹر مکیش اگنی ہوتری نے حادثہ کے مقام کا دورہ کرکے تلاشی مہم کے تعلق سے معلومات حاصل کیں ۔ انہوں نے وزیر داخلہ تلنگانہ این نرسمہا ریڈی کے علاوہ طلبا کے والدین سے ملاقات کی اور ان سے اظہار ہمدردی کیا ۔ مسٹر اگنی ہوتری نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے لاپتہ طلبا کی نعشوں کا پتہ چلانے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT