Friday , April 27 2018
Home / Top Stories / ہماچل پردیش میں 74% رائے دہی ، سکیوریٹی کے سخت انتظامات

ہماچل پردیش میں 74% رائے دہی ، سکیوریٹی کے سخت انتظامات

اعظم ترین رائے دہی ، الیکشن کمیشن کا اعلان ، اکثریت حاصل کرنے کا بی جے پی کا دعویٰ
شملہ، 9 نومبر (یو این آئی) سلامتی کے سخت انتظامات کے درمیان ہماچل پردیش اسمبلی کی تمام 68 سیٹوں کے لئے آج صبح 8 بجے ووٹنگ کا عمل شروع ہوگیا۔ یہاں شام 5 بجے تک 74 فیصد رائے دہی ہوئی۔ ووٹنگ کے لئے 7525 پولنگ مراکز بنائے گئے ہیں جہاں 50 لاکھ سے زائد ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں گے۔ آزاد اور منصفانہ انتخاب کرانے کے لئے 983 پولنگ بوتھوں کو انتہائی حساس اور 399 پولنگ بوتھوں کو حساس قرار دیا گیا ہے ۔ کانگڑہ ضلع میں سب سے زیادہ 297 اور کنور ضلع میں سب سے کم دو پولنگ بوتھ انتہائی حساس ہیں۔ چمبا ضلع میں 601، کانگڑہ ضلع میں 1559، لاہول اسپیتی ضلع میں 93، کلو ضلع میں 520 ، منڈی ضلع میں 1092، ہمیر پور ضلع میں 525، انا ضلع میں 509، بلاسپور ضلع میں 394، سولن ضلع میں 538، سرمور ضلع میں 540م، شملہ ضلع میں 1029، اور کنور ضلع میں 125 پولنگ مراکز بنائے گئے ہیں۔ ایک امیدوار کے انتقال کے بعد اب الیکشن میں 337 امیدوار میدان میں ہیں جن میں 19 خواتین شامل ہیں۔ ریاست میں ووٹروں کی کل تعداد 50لاکھ 25ہزار 941 ہے جن میں 25 لاکھ 68 ہزار 761 مرد ووٹر ہیں اور 24 لاکھ 57 ہزار 166 خاتون ووٹر اور 14 کنر ووٹر ہیں۔

بی جے پی اور کانگریس نے سبھی 68 سیٹوں پر اپنے اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ بہوجن سماج پارٹی نے 42، مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی نے 14، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی نے تین اور راشٹروادی کانگریس پارٹی اور سماج وادی پارٹی نے دو دو سیٹوں پر اپنے امیدواروں کو کھڑا کیا ہے ۔الیکشن کمیشن نے آج اعلان کیا کہ ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات کیلئے اعظم ترین تعداد میں یعنی 74 فیصد رائے دہی مراکز کے بند ہونے تک درج کی گئی ۔ قبل ازیں ایک گرما گرم انتخابی مہم برسراقتدار بی جے پی اور اہم اپوزیشن کانگریس کی جانب سے چلائی گئی تھی ۔ دریں اثناء نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ وہ ریاست ہماچل پردیش کے اسمبلی انتخابات میں 68 نشستی ایوان اسمبلی میں قطعی اکثریت حاصل کرے گی۔ اور برسراقتدار کانگریس صرف 10 سے کم نشستیں حاصل کرسکے گی ۔ سبکدوش ہونے والی اسمبلی میں کانگریس اور بی جے پی کے علی الترتیب 35 اور 28 ارکان اسمبلی تھے ۔ علاوہ ازیں 4 آزاد ارکان تھے جبکہ ایک نشست مخلوعہ تھی ۔ بی جے پی کے شعبہ ذرائع ابلاغ کے صدرانیل بلونی نے کہا کہ عوام نے اپنی رائے دیدی ہے ۔ چیف منسٹر ویربھدراسنگھ کے پانچ سالہ بدعنوان دورہ اقتدار کا خاتمہ ہوچکا ہے ۔ ہمیں 68 رکنی اسمبلی میں 60 نشستیں حاصل ہوں گی اور کانگریس کی نشستیں اکائی کے عدد تک محدود ہوجائیں گی ۔ وہ ریاست سے نتائج کے اعلان کے بعد غائب ہوجائے گی ۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج /18 ڈسمبر کو منظر عام پر آئیں گے ۔

 

TOPPOPULARRECENT