Saturday , September 22 2018
Home / مضامین / ہمدردانہ قتل اور حالیہ عدالتی فیصلہ

ہمدردانہ قتل اور حالیہ عدالتی فیصلہ

 

مولانا سید احمد ومیض ندوی
گذشتہ دنوں ملک کی عدالت ِعظمیٰ نے ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے زندگی بچانے کی خاطر مصنوعی آلات کے سہارے جینے پر مجبور یا بستر مرگ پر پڑے لا علاج افراد کے لیے عزت کے ساتھ مرنے کا حق تسلیم کرتے ہوئے ناقابل برداشت اور دردناک بیماری سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بالواسطہ اور حسب ِخواہش موت اور زندگی سے متعلق وصیت (لیونگ ول)کو قانوناً جائز قرار دیا ہے، چیف جسٹس آف انڈیا دیپک کمار مشرا، جسٹس اے کے سیکری، جسٹس اے ایم کھانڈ ویلکر، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس اشوک بھان پر مشتمل ایک آئینی بینچ نے باعزت موت کے حق کو بھی بنیادی حق قرار دیا،ایک غیر سرکاری تنظیم کامن کاز کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے آئینی بینچ نے ہمدردانہ موت کی ایک شکل کو جسے پیسیو ایتھو نیزیاکہاجاتا ہے جائز ٹھہرا یا،اور اس پر عمل درآمد کے لیے کچھ اُصول اور طریقے بھی مرتب کئے، عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ زندگی بچانے والے مصنوعی سسٹم کے سہارے بستر مرگ پر طویل مدت سے پڑے شخص پر اگر کسی دوا کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہو یا اس کے زندہ رہنے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہو، تو بالواسطہ حسب ِخواہش موت کی عرضی پر ڈاکٹر اور اس کے خاندان کے افراد مل کر فیصلہ کرسکتے ہیں، اور اس کے لیے کسی کو بھی قتل کا ملزم نہیں سمجھا جائے گا، عدالتی بینچ نے لیونگ ول کے سلسلہ میں بھی واضح کیا کہ عزت کے ساتھ موت کا حق فرد کا بنیادی حق ہے، اگر بستر مرگ پر پڑے کسی شخص نے پہلے سے لیونگ ول تیار کررکھی ہے یا پہلے سے ہی کوئی تحریری ہدایت دے رکھی ہے، اور اس کے بچنے کا امکان بالکل معدوم ہو تو علاج کرانے والے ڈاکٹر اور افراد خاندان مل کر لائف سپورٹ سسٹم کو ہٹانے کا فیصلہ کرسکتے ہیں؛ تاکہ وہ شخص گھٹ گھٹ کر مرنے کے بجائے باعزت طور پر موت کو گلے لگاسکے، عدالت نے کہا کہ نیم بیہوشی کی حالت میں طویل مدت تک بستر پڑے ایسے مریض جنھوں نے زندگی کے سلسلہ میں کوئی وصیت پہلے سے تیار نہیں کررکھی ہے، یاکوئی پیشگی ہدایت نہیں دی ہے، انھیں بھی ڈاکٹروں اور افراد ِخاندان کے اتفاق رائے سے لائف سپورٹ سسٹم سے ہٹا کر بالواسطہ حسب ِخواہش موت دی جاسکتی ہے اور اس کے لیے کوئی بھی شخص ملزم نہیں بنے گا، البتہ ہمدردانہ قتل کی دوسری قسم جسے ایکٹیو ایتھونیزیا کہا جاتا ہے، جس میں زندگی سے پریشان شخص کو زہریلا انجکشن دے کر یا دیگر کسی طریقے سے اس کی زندگی ختم کردی جاتی ہے، عدالت ِعظمیٰ نے اس کی اجازت نہیں دی، عدالت کی صراحت کے مطابق اگر ایتھو نیزیا کی یہ دوسری شکل اختیار کی جاتی ہے تو یہ خود کشی یا قتل کے زمرے میں آئے گا۔

ہمدردانہ موت: جسے انگریزی میں ایتھونیزیا، اردو میں قتل بہ جذبہ رحم اور عربی میں القتل بدافع الشفقۃ کہا جاتا ہے، در اصل مغربی معاشرے کی دین ہے، یہ طریقہ اسلامی اور مشرقی روایات سے میل نہیں کھاتا، ہمدردانہ موت کی اب تک چار معلوم اقسام سامنے آئی ہیں،جن میں پہلی قسم پیسیو ایتھو نیزیاہے،جسے بالواسطہ یا غیرفعال ہمدردانہ قتل کہا جاتا ہے،دوسری قسم ایکٹیو ایتھو نیزیا ہے، جسے راست موت کہا جاتا ہے، تیسری قسم رضاکارانہ اور چوتھی غیر رضاکارانہ ہے، ہمدردانہ موت کی ان چاروں صورتوں میں نہایت دقیق فرق پایا جاتا ہے، جس میں تھوڑی سی سرد مہری یا غفلت آدمی کو قتل کا مجرم بناسکتی ہے۔
ہمدردانہ موت یا قتل بہ جذبہ رحم بنیادی طور پر اُن خرافات میں سے ہے جو مغربی معاشروں سے مشرق میں در آئے ہیں، بظاہر مریض سے ہمدردی کا حسین عنوان ہے کہ اس راستے سے اُسے تکلیفوں سے نجات دلائی جاتی ہے؛ لیکن اُ س کا اصل مقصد ایسے شخص سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے، جو اہل مغرب کی نظر میں انسانی معاشرہ پر بوجھ بنا ہوا ہے، اور جس کے وجود سے انسانی معاشرے کو کوئی فائدہ نہیں ہے، مغربی فکر یہ ہے کہ جس انسان کا معاشرہ میں کوئی حصہ نہیں ہے اُسے معاشرے میں بلکہ دنیا میں جینے کا کوئی حق نہیں، لا علاج مریض چوں کہ اپنی اس حالت کی وجہ سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا ہے؛ بلکہ وہ مجبوری کے سبب کو دوسروں کو بھی اپنی خدمت میں مشغول کیا ہوا ہے؛ اس لیے اسے دنیا میں رہنا نہیں چاہیے، مغرب میں اولڈ ایج ہوم کے فروغ کے پیچھے یہی فکر کار فرما ہے، گھر کے بوڑھے افراد اور ضعیف والدین کی خدمت کو بوجھ خیال کرکے اولڈ ایج ہوم کے حوالے کردیا جاتا ہے، اِس قسم کی سوچ غیر اسلامی ہونے کے ساتھ غیر انسانی بھی ہے، کسی لا علاج مریض کو اس طرح موت کی نیند سلا دینا اور اس سے ہمیشہ کے لیے نجات پانے کی تمنا کرنا اسلامی نقطۂ نظر سے کئی پہلوؤں سے نامناسب اور غلط ہے، اول یہ کہ اسلام بیماروں کی خدمت اور تیمار داری کو دنیا وآخرت میں بڑی سعادت کی چیز قرار دیتا ہے، احادیث میں آتا ہے کہ لوگوں کو ان کے گھر میں رہنے والے ضعیفوں اور بیماروں کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے، ارشاد ِنبوی ہے: ہل تنصرون وترزقون إلا بضعفائکم (بخاری شریف) ضعیفوں اور کمزوروں ہی کی برکت سے تمہاری مدد کی جاتی ہے، اور تمہیں روزی پہنچائی جاتی ہے، گھر کا کوئی فرد مرد یا خاتون لا علاج مرض میں مبتلا ہوجائے تو وہ گھر والوں پر بوجھ نہیں ہوتا؛ بلکہ اس کی ذات سے اہل خانہ دنیا میں نصرت ِالٰہی کے مستحق ہوتے ہیں اور اُس کی خدمت کرکے آخرت میں سرخروئی پاتے ہیں، خاندان کے بوڑھے اور بیمار ماں باپ کی خدمت اِس قدر اونچا عمل ہے کہ اس کے لیے نبی رحمتﷺ نے جہاد میں شرکت کی اجازت نہیں دی، ایک صحابی جہاد کی اجازت لینے کے لیے خدمت ِاقدس میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تمہارے والدین موجود ہیں؟ انھوں نے عرض کیا: ہاں، اُس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ انہی کی خدمت میں جدوجہد کرو(بخاری شریف) حضرت عثمانؓ کو رسول اللہﷺ نے غزوۂ بدر میں شرکت سے محض اس لیے روکا کہ اُن کی اہلیہ حضرت رقیہ بیمار تھیں، اور وہ ان کی تیمار داری میں مصروف تھے، جب کوئی مسلمان کسی بیمار کی عیادت کے لیے جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ندا لگائی جاتی ہے کہ تو نے اچھا کیا اور تیرا چلنا مبارک ہو اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانا بنالیا، بوڑھے اور بیمار والدین کی اولاد خدمت کرتی ہے تو اُس سے اس کو ڈھیر ساری دعائیں ملتی ہیں،جو اس کی دنیا کو سنوارنے کے ساتھ آخرت کو بھی مالا مال کردیتی ہیں۔

جہاں تک شدید تکلیف میں مبتلا مریض کے لیے شدت تکلیف کو برداشت کرنے کی بات ہے تو یہ بات جان لینا چاہیے کہ بیماری مریض کے لیے اگر وہ صبر کرے تو گناہوں کے کفارے کا ذریعہ ہے، جلد بازی سے کام لے کر موت کو گلے لگانے کے بجائے صبر کا دامن تھام لینا چاہیے، بیماری ایک مومن کے لیے بہت ساری بشارتوں کا سبب ہے، بخار کے تعلق سے نبی رحمتﷺ نے فرمایا کہ وہ جہنم کی آگ سے تحفظ کا ذریعہ ہے، ایک حدیث میں نبی رحمتﷺ نے فرمایا : مومن کو ایک معمولی کانٹے کی چبھن سے ہونے والی تکلیف پر بھی اجر دیا جاتا ہے(ریاض الصالحین ص:۳۹)ایک حدیث میں ارشاد نبوی ہے کہ کل قیامت کے دن جب بیماروں اور اہل مصیبت کو ان کے صبر پر اجر دیا جائے گا اور اہل عافیت اسے دیکھیں گے تو تمنا کریں گے کہ کاش دنیا میں ہم پر بھی آفتیں آتیں، او رہم بھی اجر کے مستحق ہوتے، بیماری کی وجہ سے جو بندہ جس قدر تکلیف میں مرتا ہے اسی قدر اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے؛ اس لیے کسی مریض کو مرض کی تکلیف سے بے برداشت ہوکر جلد بازی میں کوئی خلاف ِشرع حرکت نہیں کرنی چاہیے۔
لا علاج بیماری کی صورت میں موت کو یقینی سمجھنا بندوں کی سوچ ہے؛ ورنہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے لیے کوئی مرض لا علاج نہیں ہے، مریض کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد ررکھے، اور یقین کرے کہ بڑی سی بڑی بیماری کو اللہ تعالیٰ زائل کرسکتے ہیں، جس بیمار کی موت ہمیں بظاہر یقینی نظر آرہی ہے، کیا بعید ہے اُسے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے شفا عطا فرمائیں، نبی رحمتﷺ کا ارشاد ہے کہ کوئی مرض ایسا نہیں کہ جس کی اللہ نے شفا نہ رکھی ہو؛ اس لیے مسلمان بیمار کو چاہے بیماری کتنی ہی مہلک ہو اللہ تعالیٰ سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، ہمدردانہ موت در اصل اُس مغربی معاشرے کی سوچ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی غیبی قدرت پر یقین نہیں رکھتا، اِس کے برخلاف اسلامی فکر یہ ہے کہ بندے کو بڑی سی بڑی آفت اور سخت سے سخت بیماری میں اللہ سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

ہمدردانہ قتل کے بارے میں غوروفکر کا ایک زاویہ یہ بھی ہے کہ جان اور زندگی پر انسان کی اپنی ملکیت نہیں ہے، یہ انسان کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، انسان خود اپنی جان کا مالک نہیں ہے؛ اس لیے انسان کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی جان ختم کرلے،یہی وجہ ہے کہ اسلام میں خود کشی حرام ہے،اور خود کشی کرنے والے کے لیے سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے، مثلاً نبی کریمﷺ کاارشاد ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو دھار والے آلہ سے ہلاک کرلے گا تو یہ آلہ قیامت کے دن اس کے ہاتھ میں رہے گا، جس کو وہ ہمیشہ دوزخ میں اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا(بخاری شریف)خود کشی کے حرام ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ مہلک ہتھیار ہی سے خود کشی کرے، زہر پی کر یا زہریلا انجکشن لے کر خود کشی کرلے گا تو یہ بھی خود کشی میں داخل ہوگا، حدیث شریف میں آتا ہے: ومن تحسیٰ سما فقتل نفسہ فسمہ في یدہ یتحساہ في نار جہنم خالدا مخلدا فیہا أبدا(بخاری شریف) یعنی جو شخص زہر کھاکر خود کشی کرلے اللہ تعالیٰ قیامت میں وہی زہر اس کے ہاتھ میں دے گا، وہ ہمیشہ اسے پیتا رہے گا، جو مریض اللہ کے فیصلہ پر صبر کرنے کے بجائے اگر اپنے اختیار کو استعمال کرکے خود کشی کرلیتا ہے تو گویا وہ خود کو دوزخ کا سزاوار ٹھہرا رہا ہے، رسول اللہﷺ کے زمانہ میں اس قسم کا ایک واقعہ پیش آیا، حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیںکہ غزوۂ حنین کے موقع پر ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے، آپﷺ نے ایک ایسے آدمی کے تعلق سے جو اسلام کا دعویدار تھا یہ پیشین گوئی فرمائی کہ وہ دوزخی ہے، جب میدان کارزار گرم ہوا تو اس شخص نے خوب داد شجاعت دی اور خوب لڑتا رہا ہے، اِس دوران اسے ایک کاری زخم لگا، رات ہوئی تو وہ اپنے زخم پر صبر نہ کرسکا، اور اپنے آپ کو قتل کرڈالا(مسلم شریف)اسی طرح مسلم شریف ہی میں پچھلی امتوں کے ایک شخص کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے کہ اس کے جسم پر کوئی پھوڑا نکل آیا جب وہ اسے ستانے لگا تو اس نے اپنے ترکش سے تیرنکالا اور کریدا، جس سے بدن کا سارا خون بہنے لگا، یہاں تک کہ اس کا انتقال ہوگیا، آپﷺ نے فرمایا کہ اس پر جنت حرام ہے، ایکٹیو ایتھو نیزیا میں مریض کو موت کے منھ میں ڈھکیلنے کے لیے عمدا ضرورت سے زائد دوا دی جاتی ہے جو کہ مریض کے لیے مضر اور زہر کا اثر کرتی ہے، شریعت ِاسلامی میں ہر ضرر رساں مادے کے استعمال کی ممانعت ہے، سورہ نساء میں ارشاد ربانی ہے: ولا تقتلوا أنفسکم اپنی جانوں کو قتل مت کرو، اسی طرح سورہ بقرہ میں ارشاد ہے: ولا تلقوا بأیدیکم إلی التہلکۃ اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، زہر آلود دواؤوں کے بارے میں فقہاء کی صراحت ہے کہ اگر ان کے استعمال سے عموما موت یا جنون لاحق ہوجاتا ہے تو ان کا پینا جائز نہیں، چنانچہ الفقہ الاسلامی وادلتہ کے مصنف لکھتے ہیں: الأدویۃ السامۃ، قال الحنابلۃ في الأصح ما فیہ السموم من الأدویۃ إن کان الغالب من شربہ واستعمالہ الہلاک بہ أو الجنون لم یبح شربہ (ج:۴ص:۲۶۲۶) زہر آلود دواؤوں کے بارے میں حنابلہ کا صحیح ترین قول یہ ہے کہ اگر ان کے استعمال سے ہلاکت یا جنون کا غالب امکان ہے تو ان کا پینا جائز نہیں، جہاں تک غیر فعال ایتھو نیزیا کا تعلق ہے جس میں مریض کو موت سے دوچار کرنے کے لیے علاج ومعالجہ اور دوا ترک کی جاتی ہے تو اس کے شرعی حکم کے سلسلہ میں ملک کے ممتاز فقیہ اور عالم دین حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم تحریر فرماتے ہیں: جو بات زیادہ درست معلوم ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ مقصود رشتۂ زندگی کو جلد ختم کردینا ہو تو علاج پر قدرت کے باوجود علاج ترک کردینا جائز نہیں؛ کیوں کہ رسو ل اللہﷺ نے علاج کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے، آپؐ نے ارشاد فرمایا: یا عباد اللہ تداووا فإن اللہ لم یضع دائً إلا وضع لہ شفائً (سنن الترمذی، حدیث نمبر: ۲۱۷۲) رہ گیا علاج کا مباح ہونا تو جو چیزیں جائز ہوتی ہیں وہ مقصد کے تابع ہوتی ہیں، اگر کسی خلاف ِشرع مقصد کے لیے اس کو کیا جائے تو وہ گناہ کے دائرہ میں آجائیں گی، جیسے بازار جانا مباح ہے لیکن اگر کوئی شخص شراب پینے کے لیے بازار جائے تو شراب پینا تو حرام ہے؛ اس لیے اس مقصد کے لیے اس کا بازار جانا بھی حرام ہوگا(متاع فکرونظر ص:۱۵۴)
[email protected]

TOPPOPULARRECENT