Wednesday , September 26 2018
Home / اضلاع کی خبریں / ہمناآباد بس اسٹانڈ ، نجی گاڑیوں کی پارکنگ کا اڈہ

ہمناآباد بس اسٹانڈ ، نجی گاڑیوں کی پارکنگ کا اڈہ

ہمناآباد ۔31 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ہمناآباد بس اسٹانڈ میں نجی گاڑیوںکی پارکنگ کھلے عام ہو رہی ہے۔گاڑیوں کی پارکنگ کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ بس اسٹانڈ نہیں نجی گاڑیوں کی پارکنگ کی جگہ ہے۔مین گیٹ پر واچ مین تعینات بھی ہو تے ہیں،اس کے باوجود بلا روک ٹوک گاڑیو ں کی پا رکنگ جا ری ہے۔یہی نہیں آٹو کا داخلہ صرف مسافرین کو اندر چھ

ہمناآباد ۔31 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ہمناآباد بس اسٹانڈ میں نجی گاڑیوںکی پارکنگ کھلے عام ہو رہی ہے۔گاڑیوں کی پارکنگ کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ بس اسٹانڈ نہیں نجی گاڑیوں کی پارکنگ کی جگہ ہے۔مین گیٹ پر واچ مین تعینات بھی ہو تے ہیں،اس کے باوجود بلا روک ٹوک گاڑیو ں کی پا رکنگ جا ری ہے۔یہی نہیں آٹو کا داخلہ صرف مسافرین کو اندر چھوڑنے کیلئے ہے مگرمین گیٹ کے واچ مینوں کی لا پرواہی سے آٹو مالکین بس اسٹانڈمیں ٹھہر کر مسافرین کو لے جارہے ہیں ۔ان تما م با توں سے بس اسٹانڈ انتظامیہ کا کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے ۔ ایسا لگتا ہے انتظامیہ کو کچھ بھی نظر نہیں آرہا ہے۔اس طرح آٹوکے داخلہ سے بس ڈرائیوروںکو بھی بس پلیٹ فارم پر کھڑا کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس ضمن میں ہم نے ہمناآباد بس ڈپو مینیجر سے بات کر کے ان کو تمام باتوں سے آگاہ کیا ۔ انہوں نے اس مسئلہ کو حل کرنے کا تیقن دیا۔ایک دن تو سختی کے ساتھ ان کے حکم پر عمل ہوا مگردوسرے دن وہی حالت رہی۔پو رے بس اسٹانڈ میں ہر جگہ ٹو وہیلر اور فور وہیلر ٹھہرے ہو ئے نظر آرہے ہیں۔بیدرضلع کے کسی بھی بس اسٹانڈ میں اس طرح نجی گاڑیو ں کی پارکنگ نہیں ہو تی۔واضح رہے کہ ہمناآبا دبس اسٹانڈ پہلے بھی کئی مرتبہ اخبارات کی سُرخیوں میں رہ چکا ہے ۔صفائی کے معاملے میں،پلاٹ فارم نمبر کے معاملے میں،سائن بورڈوں کے معاملے میں ۔اتنا سب کچھ ہو نے کے بعد بھی انتظامیہ بیدار نہیں ہو رہا ہے۔اس بس اسٹانڈ کو اپنی قسمت سنوارنے کا شدت کیساتھ انتظارہے۔قسمت تب سنورے گی جب مقامی رکن اسمبلی جناب راج شیکھر پاٹل اور بیدر ضلع کے رکن اسمبلی جناب این دھرم سنگھ کی نظر اس پر پڑے گی۔یاد رہے کہ اس بس اسٹانڈ کے پڑوس میں مقامی رکن اسمبلی جناب راج شیکھر پاٹل رہتے ہیں ۔اتنی اہم شخصیت پڑوس میں ہو نا اور پھر بھی اس بس اسٹانڈ کی حالت نہ سدھرنا یہ بات مقامی عوام کی سمجھ سے باہر ہے۔

TOPPOPULARRECENT