Saturday , February 24 2018
Home / شہر کی خبریں / ہمیں جلدی نہیں ، 2024 میں تلنگانہ پر توجہ

ہمیں جلدی نہیں ، 2024 میں تلنگانہ پر توجہ

2019 میں مقابلہ صرف نام کیلئے کیا جائے گا :بی جے پی ذرائعlکرناٹک میں کامیابی کیلئے بی جے پی کی توجہ
حیدرآباد۔15فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقتدار کا حصول بھارتیہ جنتا پارٹی کا نشانہ نہیں ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی نہیں چاہتی کہ 2019کے مجوزہ انتخابات میں تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکز میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے بی جے پی تمام ریاستوں پر اپنا قبضہ جمانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوچکی ہے لیکن تلنگانہ کے معاملہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ قائدین نے کہنا شروع کردیا ہے کہ یہ انتخابات میں تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گی بلکہ ان انتخابات میں بی جے پی پارٹی کے استحکام کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہے۔ 2024 اسمبلی انتخابات سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی تلنگانہ میں اقتدار کے حصول میں کامیاب نہیں ہوسکتی اور نہ آئندہ انتخابات میں بی جے پی کو اس بات کی توقع ہے کہ اسے اتنی بڑی کامیابی مل پائے گی۔ جنوبی ہند کی ریاستو ںمیں بھارتیہ جنتا پارٹی کی نگاہیں کرناٹک کے بعد ریاست تلنگانہ پر ہی مرکوز ہیں لیکن مجوزہ کرناٹک انتخابات میں ریکارڈ کی جانے والی تیز ترتبدیلیوں کے بعد مرکز میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاست تلنگانہ کے قائدین سے ملاقات کی اور جائزہ لینے کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس کو اقتدار سے بے دخل کرنے سے زیادہ اہم کانگریس کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ کانگریس کو مرکز میں قوت حاصل نہ ہوسکے۔ بتایاجاتاہے کہ تلنگانہ قائدین کے ہمراہ بی جے پی اعلی قائدین نے اجلاس میں جائزہ لیتے ہوئے اس بات کے اشارے دیئے ہیں کہ ملک میں بی جے پی کے خلاف جاری لہر کو روکنے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی تاکہ ہندستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا اقتدار برقرار رہ سکے۔ تلنگانہ میں برسراقتدار تلنگانہ راشٹر سمیتی کے بی جے پی سے دوستانہ تعلقات کے متعلق بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہناہے کہ جب ریاست تلنگانہ میں موجود حکومت مرکز اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے دوستانہ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے تو اسے شکست دینے سے زیادہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ حریف کانگریس کو کمزور کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جانی چاہئے۔ تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی اس بات کا یقین ہونے کے بعد بی جے پی نے فیصلہ کیا ہے کہ مزید 5سال تلنگانہ میں حکومت سے دوستانہ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے پارٹی کو بنیادی طور پر مستحکم کیا جائے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس بات سے ٹی آر ایس کی اعلی قیادت کو بھی واقف کروادیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں دوستانہ ماحول میں حصہ لے گی اور اقتدار حاصل کرنے کیلئے مقابلہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو مرکز میں کانگریس سے خطرہ ہے اور تلنگانہ راشٹر سمیتی ریاست میں کانگریس سے خطرہ محسوس کر رہی ہے اسی لئے دونوں سیاسی جماعتیں علحدہ لیکن متحدہ طور پر کانگریس کو کمزور کرنے کیلئے حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہے۔ کانگریس قیادت میں تبدیلی کے بعد پیدا شدہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی حلیف اور دوستانہ تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو مزید قریب کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ انہیں اس بات کی بھی طمانیت دی جانے لگی ہے کہ ان کے اقتدار اور ان کی پارٹیوں کو کوئی گزند نہیں پہنچائی جائے گی۔ کرناٹک میں کامیابی کی صورت میں تلنگانہ پر توجہ دینے کی حکمت عملی کی تیاری کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریہ میں اچانک تبدیلی سے ٹی آر ایس کی مخالفتکرنے والے نظریات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین نے اب کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی نے تلنگانہ اور آندھراپردیش میں برسراقتدار جماعتوں کے قائدین سے بھی ملاقات کی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ان ملاقاتوں کے بعد ہی بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاستی سطح کے اپنے قائدین کو اس بات سے مطلع کیا ہے کہ وہ 2019میں تلنگانہ میں اقتدار کے حصول کی کوشش میں تیزی نہ لائیں بلکہ 2024 انتخابات کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین کو ابھی سے تیاری کرنی چاہئے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے مرکز سے دوستانہ تعلقات کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار حاصل کرنے یا انتخابی مہم میں شدت پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہتی۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی بھی ریاست سے مرکز کی ناانصافیوں کے باوجود اختیار کردہ خاموشی کے ذریعہ اس بات کا پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی بھارتیہ جنتا پارٹی سے فوری کوئی تعلقات خراب کرنا نہیں چاہتی کیونکہ ریاست میں اگر کوئی سہ رخی مقابلہ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو ایسی صورت میں اس کا فائدہ کانگریس کو ہوگا اور بی جے پی و ٹی آر ایس دونو ںکو ہی اس صورتحال میں نقصان کا سامنا رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT