Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / ہمیں مالی مدد نہیں ملازمتیں چاہئے

ہمیں مالی مدد نہیں ملازمتیں چاہئے

حیدرآباد 15 نومبر ۔ اللہ رب العزت ہر انسان کو کئی ایک خوبیوں سے نوازتا ہے اس کی سب سے اہم خوبی عقل و دانائی ہوتی ہے جو بلا شبہ خالق کائنات کا بہترین تحفہ ہے ۔ اسی عقل و دانش کے باعث ہی اس نے انسان کو زمین پر خلیفہ بناکر بھیجا اور اشرف المخلوقات کا باوقار خطاب عطا کیا چنانچہ ہر انسان میں کچھ نہ کچھ خوبی ضرور ہوتی ہے اگر کوئی بندہ بصارت، ق

حیدرآباد 15 نومبر ۔ اللہ رب العزت ہر انسان کو کئی ایک خوبیوں سے نوازتا ہے اس کی سب سے اہم خوبی عقل و دانائی ہوتی ہے جو بلا شبہ خالق کائنات کا بہترین تحفہ ہے ۔ اسی عقل و دانش کے باعث ہی اس نے انسان کو زمین پر خلیفہ بناکر بھیجا اور اشرف المخلوقات کا باوقار خطاب عطا کیا چنانچہ ہر انسان میں کچھ نہ کچھ خوبی ضرور ہوتی ہے اگر کوئی بندہ بصارت، قوت سماعت اور قوت گویائی سے محروم ہوتا ہے تو اس کے بدلے قدرت اسے ایسی خوبیوں سے نوازتی ہے جو عام انسانوں میں نہیں پائی جاتی لیکن اکثر دیکھا گیا کہ لوگ اپنے نابینا یا معذور ہونے کا بہانہ بناکر محنت سے جی چراتے ہیں اور دوسرے لوگوں کے رحم و کرم پر اپنی زندگیاں گذارتے ہیں وہ ایک طرح سے کاسہ گدائی لیکر گھومنے کی عادت میں مبتلا ہوجاتے ہیں لیکن ہماری ملاقات دفتر سیاست میں ایسے خود دار غیور اور محنتی نوجوان سے ہوئی جنہیں لوگوں کی ہمدردی، مدد اور محبت کی شدید ضرورت ہے ۔ ان کی مالی حالت بھی ٹھیک نہیں کہی جاسکتی ۔ وہ قوت بصارت سے بھی محروم ہے لیکن ان کا کہنا ہیکہ انہیں کسی کی ہمدردی مروت مالی مدد کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اپنے بل بوتے پر کچھ کر دکھانے کے خواہاں ہیں انہیں بس سرکاری ملازمت چاہئے جس کے وہ حقدار ہیں ۔ ان نابینا نوجوانوں کے بلند عزائم غیرت اور خود اری کو دیکھ کر وہ نوجوان ہمیں عقل کے اندھے اور خود اپنے آپ کے دشمن نظر آئے جو صحتمند و تندرست رہنے کے باوجود محنت سے جی چراتے ہیں۔ اپنے ماں باپ کا ہاتھ بٹانے کیلئے محنت و مشقت کرنے کی بجائے ضعیف والدین پر تکیہ کئے بیٹھتے ہیں اور انہیں اپنے ضعیف والدین کو محنت کراتے ہوئے ذرہ سی شرم بھی محسوس نہیں ہوتی ۔ نابینا نوجوان محمد وزارت علی محمد خالد اور محمد نصیر الدین کو دیکھ کر ایک ہمدرد ملت نے انہیں کچھ رقم پیش کی جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ یہ کہتے ہوئے واپس کردیا کہ ہمیں ہمدردی یا پیسے نہیں بلکہ ملازمتیں چاہئے ۔ ان نوجوان کے اس جذبہ خود داری سے وہ ہمدرد ملت بھی اس قدر متاثر ہوگئے کہ انہو ںنے کہا کہ آج ہمارے شہر میں ایسے خود دار نوجوانوں کی کمی نہیں جو لاچاری و معذوری کے باوجود اپنے پیروں پر کھڑے رہنے کی تمنا رکھتے ہیں۔ 28 سالہ محمد وزارت علی جنہوںنے 2012 میں اردو آرٹس کالج سے بی اے کیا ۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کے ماہر ہیں ۔ جناب محمد علی مرحوم کے اس ہونہار فرزند کے مطابق انہوں نے گورنمنٹ پالی ٹیکنک کمپیوٹر آپریٹنگ اور انٹرنیٹ کی تربیت حاصل کی ۔ وہ نابینا ہونے کے باوجود سافٹ ویر انسٹالیشن،سسٹم فارمیٹنگ اور ڈاٹا ریکوری میں مہارت رکھتے ہیں ۔ پیدائشی نابینا اس نوجوان کے مطابق انہو ںنے جونیر اسسٹنٹ کی جائیداد کیلئے درخواست دی تھی لیکن انہیں ملازمت نہیں مل پائی ۔ محمد وزارت معذور بھی ہیں ان کا ایک پاوں چار مرتبہ ٹوٹ چکا ہے لیکن انہوں نے اپنے حوصلوں اور ارادوں کو ٹوٹنے نہیں دیا۔ وہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے لیکر جناب عابد رسول خاں سے بھی نمائندگی کرچکے ہیں ۔ سرکاری ملازمت کی تلاش میں پھر رہے ایک اور نابینا نوجوان محمد خالد اور محمد فقیر محمد ہیں انہو ںنے بی اے بی ایڈ اور ایم اے کیا ہے وہ سردست ودیا والینٹر کی حیثیت سے دارالشفاء میں واقع نابیناؤں کے خصوصی اسکول میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ محمد خالد شادی شدہ ہیں اگرچہ انہیں سردست 4000 روپئے تنخواہ ملتی ہے لیکن رقم گھر کے کرایہ کی ادائیگی میں ہی ختم ہوجاتی ہے ۔ تلگو پڑھانے میں ماہر ہیں ۔ ایک اور نوجوان محمد نصیر الدین ولد محمد غیاث الدین مرحوم بچن سے ہی نابینا ہیں انٹر میڈیٹ کی تکمیل کے بعد ایم ایس، ایکسل آٹو میشن، فارمیٹنگ انسٹالیشن اور ہاروڈ ویر کی تربیت حاصل کی ۔ انہوں نے جونیر اسسٹنٹ اور اٹنڈر کیلئے درخواست دی تھی لیکن انہیں ملازمت نہ مل سکی ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمود علی دلچسپی لیں تو انہیں ملازمتیں حاصل ہوسکتی ہیں اور ان کے ساتھ انصاف ہوسکتا ہے ۔ معذورین کیلئے ہر محکمہ میں کم از کم دو جائیدادیں محفوظ ہوتی ہیں ایسے میں مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات کے تحت کبھی انہیں نوکریاں آسانی سے مل سکتی ہیں ۔ [email protected]

TOPPOPULARRECENT