Tuesday , November 21 2017
Home / دنیا / ہمیں مسلمان سمجھ کر حملے کئے جارہے ہیں : ہندو کمیونٹی

ہمیں مسلمان سمجھ کر حملے کئے جارہے ہیں : ہندو کمیونٹی

وائیٹ ہاؤس کے روبرو احتجاجی ریالی، صدر ٹرمپ سے شخصی مداخلت کا مطالبہ

واشنگٹن ۔ 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی نژاد امریکی شہری خصوصی طور پر ہندو اور سکھ فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد اس وقت امریکہ میں اسلاموفوبیا کا شکار ہورہے ہیں۔ وائیٹ ہاؤس کے روبرو ایک بیداری ر یالی کا انعقاد کیا گیا تھا جو دراصل ملک میں نفرت انگیز جرائم کے خلاف منعقد کی جانے والی ریالی تھی۔ ریالی میں شریک احتجاجیوں نے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ موصوف شخصی طور پر مداخلت کرتے ہوئے ان واقعات کی روک تھام کریں۔ اسی دوران ورجینیا کے ایک کارپوریٹ وکیل 27 سالہ وندھیا اڈاپا نے وائیٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں امریکہ کے ہندوؤں کو اسلامی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کا اثر پوری کمیونٹی پر مرتب ہورہا ہے۔ اڈاپا کے ساتھ مزید کچھ ہندوستانی نژاد امریکی شہری ہیں جو گریٹر واشنگٹن شہر کی مختلف تنظیموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کل ایک پرامن ریالی کا انعقاد کیا تاکہ نفرت انگیز جرائم کے نام پر جس طرح ہندوؤں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، اس کا سلسلہ مسدود کیا جاسکے۔ دریں اثناء اڈاپا کی دوست جو ایک نوجوان ہندوستانی نژاد امریکی ڈاکٹر ہیں اور جن کا نام ایس شیشادری ہے، نے کہا کہ نفرت انگیز جرائم کی حالیہ مثال کنساس میں ایک ہندوستانی آئی ٹی پروفیشنل کے قتل کی ہے جسے غلطی سے ایک عرب مسلم سمجھ کر قتل کردیا گیا۔ لہٰذا یہ بات میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ اس وقت جو منظرنامہ ہے اس کے تحت ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کو جان کا خطرہ لاحق ہے۔ ہم یہاں نفرت انگیز جرائم کے خلاف بیداری مہم چلا رہے ہیں۔ یہ احتجاجی مظاہرہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف نہیں ہے۔ ہم تو صرف نفرت انگیز جرائم کی روک تھام اور ہمارا تحفظ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کے خلاف جو حرکتیں کی جارہی ہیں وہ دراصل اسلاموفوبیا اور غیرملکیوں سے نفرت کے جذبہ کے سواء کچھ نہیں۔ علاوہ ازیں ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعہ تارکین وطن مخالف بیانات نے بھی حالات بگاڑنے میں نمایاں رول ادا کیا۔ ایسے کئی ہندو اور سکھ لوگ ہیں جنہیں غلطی سے مسلمان سمجھ کر قتل کردیا جاتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہیکہ مسلمان فرقہ، ہندو فرقہ اور سکھ فرقہ میں پائے جانے والے نمایاں فرق کو اجاگر کرنے کیلئے یہ بیداری مہم چلائی جارہی ہے۔ صدر ٹرمپ کو پیش کی گئی ایک عرضداشت میں صدر موصوف سے خواہش کی گئی ہیکہ وہ شخصی طور پر دلچسپی لیتے ہوئے شرپسندوں اور خاطیوں کو وفاقی قوانین کے تحت سخت سے سخت سزاء دیں۔ ہم صدر موصوف یہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ اس وقت ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں میں پائے جانے والے خوف و ہراس کو دور کریں اور ایسے مؤثر اقدامات کریں جن سے نفرت کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہوجائے کیونکہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے امریکی عوام کو ایک مثبت پیغام ضرور ملنا چاہئے کہ کسی بھی شہری کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی ضرورت نہیں اور اگر کسی نے ایسا کیا تو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہیکہ امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کی بحیثیت صدر حلف برداری کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ ہوا ہے جس نے وہاں موجود ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کی راتوں کی نیند اور دن کا چین ختم کردیا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT