’’ہم آپ کو ووٹ نہیں دیں گے ، دوبارہ گاؤں میں نہ آئیں‘‘

ٹی آر ایس امیدوار شوبھا کو عوامی برہمی کا سامنا، اضلاع میں جگہ جگہ عوامی ناراضگی کا مظاہرہ، کے سی آر فکرمند

حیدرآباد ۔ 9۔ اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی کیلئے انتخابی شیڈول کا اعلان ابھی باقی ہے لیکن ٹی آر ایس کے امیدواروں کو انتخابی مہم کے دوران جگہ جگہ عوامی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی نے ایک ماہ قبل اپنے 105 امیدواروں کی فہرست جاری کردی اور وہ امیدوار متعلقہ حلقہ جات میں اس امید کے ساتھ انتخابی مہم میں مصروف ہوگئے کہ انہیں رائے دہندے سر آنکھوں پر بٹھائیں گے لیکن سابق ارکان اسمبلی کو تلخ تجربات سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں علاقہ کی ترقی اور عوام کی بھلائی کو نظر انداز کرتے ہوئے کے سی آر کی مقبولیت کی آڑ میں کامیابی کا بھرم رکھنے والے قائدین کو عوام نے مناسب سبق سکھایا ہے ۔ کئی اضلاع میں سابق ارکان اسمبلی کو عوامی ناراضگی کے سبب انتخابی مہم کے بغیر ہی واپس ہونا پڑا۔ گزشتہ ایک ہفتہ سے ٹی آر ایس امیدواروں کے خلاف عوامی برہمی کے واقعات سوشیل میڈیا میں تیزی سے وائرل ہوچکے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ میں چپادنڈی اسمبلی حلقہ میں سابق رکن اسمبلی شوبھا کو عوام نے واپس جانے پر مجبور کردیا۔ کریم نگر ضلع کے چپادنڈی اسمبلی حلقہ میں بی شوبھا جب مواضعات میں انتخابی مہم کیلئے پہنچیں تو رائے دہندوں نے انہیں روک دیا اور صاف لفظوں میں کہا کہ ’’ہم آپ کو ووٹ نہیں دیں گے، دوبارہ ہمارے گاؤں کو نہ آئیں‘‘۔ عوام کی یہ ناراضگی حکومت کی اسکیمات پر عمل آوری میں ناکامی کا نتیجہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ چار برسوں میں دیہی علاقوں کی ترقی پر سابق رکن اسمبلی نے کوئی توجہ نہیں دی۔ گاؤں والوں نے کہا کہ ہمارے گاؤں کی کوئی ترقی نہیں ہوئی ، لہذا آپ کو ووٹ مانگنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ براہ کرم آئندہ ووٹ مانگنے کیلئے ہمارے گاؤں کا رخ نہ کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ کولمی کنٹہ گاؤں میں شوبھا جب اپنے حامیوں کے ساتھ انتخابی مہم کیلئے پہنچیں تو انہیں گاؤں والوں نے داخل ہونے نہیں دیا۔ رائے دہندوں کے احتجاج کے سبب ہلکی کشیدگی پیدا ہوگئی ۔ عوام نے شکایت کی کہ چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے چیک مستحقین تک نہیں پہنچے اور کسانوں کی کمیٹیاں جو حکومت کی جانب سے قائم کی گئی ہیں، ان میں غیر کسانوں کو شامل کیا گیا۔ اسی حلقہ میں انتخابی مہم میں مصروف ٹی آر ایس کے ایک سینئر قائد ایس روی کے حامیوں نے سابق رکن اسبملی کے خلاف نعرہ بازی کی ۔ انہوں نے ’’گو بیاک شوبھا‘‘ کے نعرے بلند کئے ۔ سابق رکن اسمبلی نے برہم عوام کو سمجھانے کی لاکھ کوشش کی لیکن ان کی کوششیں بے اثر ثابت ہوئیں۔ اسی دوران اضلاع میں سابق ارکان اسمبلی کو عوامی ناراضگی کی اطلاعات سے پریشان چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے روزانہ امیدواروں سے ٹیلیفون پر ربط قائم کرتے ہوئے انہیں عوام سے رجوع ہونے میں تحمل سے کام لینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے امیدواروں سے کہا کہ اگر وہ چار برسوں میں عوام کی خدمت کئے ہوتے تو یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ آلیر اسمبلی حلقہ میں سابق رکن اسمبلی جی سنیتا کو بھی ترکاپلی گاؤں میں خواتین کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔ خواتین کی ناراضگی دیکھ کر سنیتا الجھ گئی تھیں۔ انہوں نے کہہ دیا کہ اگر تم لوگ نہیں چاہتے تو مجھے ووٹ نہ دیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ٹی آر ایس کارکنوں نے جئے تلنگانہ کے نعرے بلند کرتے ہوئے گریجن خواتین کو منتشر کردیا۔ خانہ پور اسمبلی حلقہ میں ریکھا نائک کو عوام نے ترقیاتی سرگرمیوں کو نظر انداز کرنے پر سخت تنقید کی۔ مناکنڈور اسمبلی حلقہ کے سابق رکن اسمبلی آر بال کرشن کو خواتین نے انتخابی مہم سے روک دیا اور انہیں مہم کے بغیر ہی واپس ہونا پڑا ۔ وردھنا پیٹ میں ٹی آر ایس امیدوار اور سابق رکن اسمبلی اے رمیش جب پارٹی آفس کے افتتاح کے لئے پہنچے تو مقامی افراد اور خواتین نے روک دیا اور مقامی مسائل کی یکسوئی کے بارے میں سوال کئے۔ رمیش کو اس مقام سے عجلت میں واپس ہونا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق پدی پلی میں ٹی آر ایس کے سابق ر کن اسمبلی ڈی منوہر ریڈی بھی دیہی علاقوں میں عوامی ناراضگی سے نہیں بچ سکے۔ ٹی آر ایس قائدین کو اس بات کی تشویش ہے کہ اگر دیہی علاقوں میں یہ صورتحال برقرار رہی تو اپوزیشن جماعتوں کو فائدہ ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT