Saturday , December 15 2018

ہم آہنگی اور تہذیب میں حیدرآباد کو منفرد مقام

حیدرآباد میں ناندیڑ طرز کا گردوارہ تعمیر ہوگا، سکھوں کے اجلاس سے کے ٹی آر کا خطاب
حیدرآباد۔26 نومبر (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ٹی راما رائو نے کہا کہ حیدرآباد فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اپنی منفرد تہذیب کے لیے دنیا بھر میں شناخت رکھتا ہے۔ آندھرائی حکمرانوں نے گزشتہ 50 برسوں میں حیدرآباد اور تلنگانہ کی تہذیب کو نقصان پہنچایا لیکن تلنگانہ ریاست کی قیام کے بعد کے سی آر کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت نے ہندو مسلم اتحاد فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ کے ٹی آر آج تلنگانہ بھون میں سکھ طبقے سے تعلق رکھنے والی نمائندہ شخصیتوں کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ سکھوں کے سرکردہ قائدین کے علاوہ اس طبقے سے تعلق رکھنے والے عوام کی کثیر تعداد اس موقع پر موجود تھی۔ کے ٹی آر نے سکھ طبقے سے وعدہ کیا کہ حیدرآباد میں ناندیڑ کی طرز پر گردوارہ تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی نظریں تلنگانہ اسمبلی انتخابات پر ہیں۔ ٹی آر ایس حکومت نے جو فلاحی اور ترقیاتی قدم اٹھائے ہیں، عوام انہیں دوبارہ اقتدار حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کے سی آر کا دوبارہ چیف منسٹر بننا طے ہے اور ٹی آر ایس بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام کو اس بات کا احساس ہے کہ کے سی آر ان کے گھر میں خوشحالی لاسکتے ہیں۔ اسی یقین نے ٹی آر ایس کی کامیابی کی راہ ہموار کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1920ء میں مہاتما گاندھی نے حیدرآباد کی گنگاجمنی تہذیب کی ستائش کی تھی۔ گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں تلنگانہ حکومت نے تمام طبقات کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ہر طبقے میں موجود غریب افراد کی بھلائی کے لیے حکومت نے کام کیا۔ ہر کسی کے لیے کچھ نہ کچھ اسکیمات شروع کی گئیں۔ متحدہ آندھراپردیش میں برقی کا شدید بحران تھا لیکن تلنگانہ ریاست میں ہر شعبہ کو بلاوقفہ 24 گھنٹے برقی سربراہ کی جارہی ہے۔ امن و ضبط کی صورتحال قابو میں ہے اور خواتین کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی طرح ملک میں کوئی اور پرامن ریاست نہیں ہے۔ کلیان لکشمی اور شادی مبارک جیسی اسکیمات کے ذریعہ کے سی آر نے غریب لڑکیوں کی شادی کا انتظام کیا۔ انہوں نے مشن بھگیرتا کے ذریعہ گھر گھر پانی کی سربراہی اسکیم کا حوالہ دیا اور کہا کہ اسکیم پر تیزی سے عمل آوری جاری ہے۔ حکومت نے غریبوں کے ماہانہ پنشن کو ایک ہزار سے بڑھاکر 2016 روپئے کرنے اور معذورین کے پنشن کو 1500 سے بڑھاکر 3016روپئے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بیروزگاروں کو ماہانہ 3000 روپئے الائونس دیا جائے گا۔ حیدرآباد میں ایک لاکھ ڈبل بیڈوم مکانات تعمیر کیے جائیں گے جو آئندہ اپریل تک مکمل ہوجائیں گے۔ انہوں نے سکھ طبقے کی ملک کے لیے خدمات کو سراہا اور کہا کہ ہندوستانی افواج میں اس طبقے کا اہم رول ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد کاروبار کے لیے آئے اور یہیں بس گئے۔ انہوں نے کہا کہ سکھوں کو سیاست میں مناسب حصہ داری کے لیے کریم نگر کے میئر کے عہدے پر رویندر سنگھ کو نامزد کیا گیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ حیدرآباد میں ناندیڑ کی طرز پر وسیع تر گردوارہ تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر سے مقابلہ کے لیے کسی بھی پارٹی میں ہمت نہیں ہے لہٰذا کانگریس، تلگودیشم، سی پی آئی اور کودنڈارام نے مل کر مہاکوٹمی تشکیل دیا ہے۔ شیر کی طرح کے سی آر ان سے تنہا نمٹ لیں گے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کے سی آر کو اقلیت دوست قرار دیا اور کہا کہ تمام طبقات کی بھلائی کے لیے حکومت نے اقدامات کیے ہیں۔ رکن کونسل سرینواس ریڈی اور سکھ طبقے کے نمائندوں نے بھی مخاطب کیا۔

TOPPOPULARRECENT