Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / ہم خیال پارٹیوں کا اتحاد ضروری : سونیا گاندھی

ہم خیال پارٹیوں کا اتحاد ضروری : سونیا گاندھی

مستقبل میں کانگریس کی قیادت میں تبدیلی کا اشارہ ، منموہن سنگھ بہتر وزیراعظم

ممبئی 9 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) صدرنشین کانگریس پارلیمانی پارٹی سونیا گاندھی نے آج کہاکہ ملک کے سامنے ایک متبادل اور جارحانہ نظریہ پیش کیا جارہا ہے۔ معاشرے کی آزادی کو منظم خطرہ لاحق ہے۔ وہ انڈیا ٹوڈے چوٹی کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔ اُنھوں نے سیاست اور قیادت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہاکہ ہم خیال سیاسی پارٹیوں کو اِس جارحانہ نظریہ کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے اشارتاً کہا کہ کانگریس پارٹی کی قیادت میں مستقبل میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ کانگریس قائدین کو ملک کے وسیع تر مفادات میں کام کرنے کیلئے زور دیا جارہا ہے۔ اُنھیں چاہئے کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں اپنے مقامی اختلافات کو دفن کردیں۔ اُنھوں نے کہاکہ بحیثیت کانگریس پارلیمانی پارٹی صدرنشین راہول گاندھی اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ اُنھوں نے باقاعدہ ملاقاتیں کی ہیں اور اتفاق کیا ہے کہ ہم خیال طاقتوں کا جارحانہ نظریہ سے مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہونا اور اپنے مقامی اختلافات دفن کردینا ضروری ہے۔ اس لئے کہ وہ تمام ہم خیال پارٹیوں سے اتحاد کی اپیل کرتی ہیں۔ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کانگریس قائد سونیا گاندھی نے کہاکہ 2004ء میں وہ اپنی حدود جانتی تھیں اور اُنھیں اچھی طرح علم تھا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ ایک بہتر وزیراعظم ثابت ہوں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہمارا ملک ہمارا سماج اور ہماری آزادی کو منظم اور پائیدار خطرہ درپیش ہے۔ تاریخ دوبارہ لکھی جارہی ہے۔ حقائق کو مسخ کیا جارہا ہے۔ اُن کے بارے میں جھوٹے حقائق پھیلائے جارہے ہیں۔ تعصب اور ایک دوسرے سے دشمنی کے جذبات کو ہوا دی جارہی ہے۔ ہمارے سامنے ایک متبادل لیکن جارحانہ نظریہ پیش کیا جارہا ہے۔ کیا ہندوستان مئی 2014 ء سے پہلے ایک دیوقیامت ’’سیاہ سورج‘‘ (بلیک ہول) بن جائے گا اور 4 سال قبل ترقی کی سمت جو پیشرفت شروع ہوئی تھی کیا اِس کا دوبارہ آغاز کرسکے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ ہمارے سراغ رساں محکموں اور عوام کی توہین کی جارہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ رائے بریلی کی نمائندگی کرتی ہیں اور اگر پارٹی فیصلہ کرے کہ اُنھیں اِس حلقہ کی نمائندگی جاری رکھنا چاہئے تو وہ پارٹی کے حکم کی تعمیل کریں گی۔ 71 سالہ سونیا گاندھی نے الزام عائد کیاکہ دلتوں اور خواتین پر مظالم کے سلسلہ میں صدمہ انگیز بے حسی اختیار کی جارہی ہے اور معاشرے کی تعصب کے خطوط پر صف بندی کی جارہی ہے تاکہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان کی خوشحالی جن دیرینہ اُصولوں کی بنیاد پر تھی اب ختم کی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT