Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / ہم ’’سات ۔ سات ‘‘ ہیں ہلاری اور ٹرمپ 7، 7 ریاستوں میں کامیاب

ہم ’’سات ۔ سات ‘‘ ہیں ہلاری اور ٹرمپ 7، 7 ریاستوں میں کامیاب

Democratic U.S. presidential candidate Hillary Clinton meets with civil rights leaders at the National Urban League in the Manhattan borough of New York City, February 16, 2016. REUTERS/Mike Segar - RTX277XM

’’اس الیکشن میں سب کچھ داؤ پر لگ چکا ہے ‘‘: ہلاری کلنٹن
واشنگٹن۔2 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں صدارتی انتخاب کے لیے ملک کی 11 ریاستوں میں ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن جماعتوں کے حامیوں کی جانب سے اپنے پسندیدہ امیدوار کے انتخاب کیلئے منگل کو ہوئی رائے دہی میں ہلاری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ کامیاب ترین امیدواروں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ڈیموکریٹ امیدواروں میں سے ہلاری جبکہ ریپبلیکن امیدواروں میں سے ڈونالڈ ٹرمپ نے سات، سات ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ہلاری کے قریب ترین حریف سینڈرز 4 اور ٹرمپ کے حریف ٹیڈ کروز 2 ریاستوں میں یہ انتخاب جیت سکے ہیں۔امریکی رائے دہندوں نے ’سوپر ٹیوز ڈے‘ کو میساچیوسٹس سے ورجینیا تک اور ٹیکساس سے الاسکا تک ووٹ ڈالے۔عموماً اس مرحلے کے بعد کافی حد تک یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن جماعتوں کی طرف سے کونسا امیدوار صدارتی دوڑ میں اُتارا جائے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلاری کلنٹن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی اپنی جماعتوں کی جانب سے صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے پسندیدہ ہیں۔ ابتدائی انتخابی جائزوں کے مطابق ہلاری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی اپنی جماعتوں کی جانب سے اوکلا ہاما  جورجیا، ٹینیسی، آرکنساس، میساچوسٹس اور ورجینیا کی ریاستوں میں فتح حاصل کی ہے۔

اس کے علاوہ ہلاری کلنٹن ٹیکساس میں بھی کامیاب ہوئیں جہاں نیویارک سے تعلق رکھنے والے ارب پتی کاروباری شخصیت ٹرمپ کو اپنے حریف ٹیڈ کروز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیڈ نے ٹیکساس کے علاوہ اوکلاہوما میں بھی فتح حاصل کی جبکہ منی سوٹا کی ریاست ایک اور ریپبلکن امیدوار مارک روبیو کے حصے میں آئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ ورمونٹ میں بھی کامیاب رہے جبکہ یہاں ڈیموکریٹ پرائمری میں ہلاری کلنٹن کے حریف برنی سینڈرز جیتے ہیں۔ ورمونٹ سینڈرز کی آبائی ریاست ہے اور اس کے علاوہ انھوں نے اوکلاہوما، کولوراڈو اور منی سوٹا میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ منگل کو نتائج آنے کے بعد اپنی تقریر میں ہلاری کلنٹن نے کہا ہے کہ ’اس الیکشن میں جتنا کچھ داؤ پر لگا ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں لگا اور مخالف سمت سے جو بیانات ہم سن رہے ہیں اس سے گھٹیا  بیانات بھی اس سے پہلے کبھی نہیں سنے ئے۔‘  ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ریپبلیکن پارٹی کو متحد کرنے والی شخصیت ہیں جو جماعت کے اندرونی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ہلاری کلنٹن کے خلاف انتخابی جنگ پر توجہ مرکوز رکھ سکتے ہیں۔فلوریڈا میں اپنے حامیوں سے خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ ’جب یہ سب (پرائمریز) ختم ہو جائیں گی تو میں ایک فرد کو اپنا ہدف بناؤں گا جو ہلاری کلنٹن ہیں۔‘ادھر ٹرمپ کے مخالف ریپبلکن امیدوار اور ٹیکساس سے سینیٹ کے رکن ٹیڈ کروز نے اپنے دیگر حریفوں سے کہا ہے کہ وہ نامزدگی کی دوڑ سے علیحدہ ہو جائیں تاکہ وہ زیادہ موثر انداز سے ٹرمپ کا مقابلہ کر سکیں۔

TOPPOPULARRECENT