Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / ہم سے قرض لینے والے ممالک ہمارے ہی خلاف ووٹ دے رہے ہیں : ٹرمپ

ہم سے قرض لینے والے ممالک ہمارے ہی خلاف ووٹ دے رہے ہیں : ٹرمپ

امریکہ کے ناقدین کیخلاف نکی ہیلی کے سخت موقف کی ستائش
’’چلو اچھا ہے، ہمارے کھربوں ڈالرس بچ جائیں گے‘ ‘ ، طنز یہ ریمارک
ٹیکس اصلاحات کے نفاذ کو ’’یوم فتح‘‘ قرار دیتے ہوئے
کابینی اجلاس سے خطاب

واشنگٹن ۔ 21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے کل اپنے آقا یعنی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کیلئے امریکہ پر تنقید کرنے والے ممالک کو ’’دیکھ لیںگے‘‘ کہہ کر جو دھمکیاں دی تھیں اس نے ٹرمپ کو بھی مسرور کردیا ہے اور نتیجہ وہی ہوا جس کی نکی ہیلی توقع کررہی تھیں۔ صدر ٹرمپ نے نکی ہیلی کی زبردست ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت اچھا ہوا کہ انہوں نے امریکہ کے ناقدین کے خلاف سخت موقف اپنایا۔ یاد رہیکہ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت بنائے جانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد عالمی سطح پر ان ممالک نے بھی اس فیصلہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا جو امریکہ کے حلیف کہلاتے ہیں۔ ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک اجلاس میں اپنے کابینی ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک ہم سے (امریکہ) بڑی بڑی رقومات اور قرضہ جات حاصل کرتے ہیں اور پھر سلامتی کونسل میں ہمارے ہی خلاف بیان دیتے ہیں۔ ان کا اشارہ ان 14 رکن ممالک کی جانب تھا جنہوں نے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت بنائے جانے کے امریکی فیصلہ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے امریکہ کو یکا و تنہا کرنے کی کوشش کی جبکہ نکی ہیلی نے امریکی نمائندہ ہونے کے ناطے قرارداد کے مسودے کو ویٹو کردیا۔ اس نوعیت کی ایک اور قرارداد جنرل اسمبلی میں بھی پیش کی گئی جہاں ویٹو کرنے کا متبادل موجود نہیں تھا۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر نکی ہیلی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے (نکی) میری پالیسی کی زبردست تائید کرتے ہوئے اس کا دفاع کیا۔

مجھے پتہ تھا کہ تمام رکن ممالک امریکہ کے فیصلہ کے خلاف ووٹ دیں گے۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ جاریہ سال یہ ان کا آخری کابینی اجلاس ہو لہٰذا وہ ممالک جو امریکہ سے کروڑہا ڈالرس کے قرضے حاصل کرتے ہیں اور پھر ہمارے خلاف ہی ووٹ دیتے ہیں۔ ٹھیک ہے انہیں ہمارے خلاف ووٹ دینے دو۔ ہمارے بھی کروڑہا ڈالرس بچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عوام بھی اب اس بات سے بیزار ہوچکے ہیں کہ دیگر ممالک امریکہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں اور اس کی پیٹھ میں خنجر گھونپیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ مذکورہ اجلاس دراصل ٹیکس اصلاحات بل پر قانون سازی کے بعد بطور فتح منعقد کیا گیا اور اسے تاریخی فتح سے تعبیر کیا گیا جو نہ صرف ہماری جیت ہے بلکہ عوام کیلئے کرسمس کا تحفہ بھی ہے جو ہم امریکہ کے محنتی عوام کو دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات کے ذریعہ سمندر پار کارپوریٹ منافع ایک بار پھر امریکہ واپس آجائے گا۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ کو بھی شکست فاش دینے میں امریکی فوج نے اہم رول ادا کیا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ اتحادی فوج نے عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے قبضہ والے تمام علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرتے ہوئے دولت اسلامیہ کو نکال باہر کیا ہے اور اس طرح اب دولت اسلامیہ کے لئے ہم نے عرصۂ حیات تنگ کردیا ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے تارک وطن عقائد اللہ کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ نیویارک میں ہوئے تازہ ترین دہشت گرد حملہ کے لئے وہی (عقائد) ذمہ دار ہے۔ ہم ’’ویزا لاٹری‘‘ پروگرام کو بھی ختم کررہے ہیں جس کی وجہ سے امریکہ میں ایسے لوگ بھی گھس آئے ہیں جو امریکہ کو ناپسند ہیں اور اسے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اب ایسے لوگوں کو امریکہ میں داخلہ کی اجازت نہیں ملے گی۔ آج ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ امریکہ نے جو نئی پالیسیاں اختیار کی ہیں، اس سے ایک بار پھر عالمی سطح پر امریکہ کا ڈنکا بج رہا ہے۔ یاد رہیکہ امریکہ میں حالیہ دنوں میں ’’ٹیکس اصلاحات‘‘ ہر خاص و عام کی بات چیت کا موضوع بن چکا ہے جس کے تحت امریکی کمپنیاں اپنے کھربوں ڈالرس ملک میں واپس لے آئیں گی جو انہوں نے بیرون ممالک مشغول کر رکھے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT