Saturday , November 25 2017
Home / مضامین / ہم مانسون کے محتاج کیوں ؟

ہم مانسون کے محتاج کیوں ؟

تنویر احمد خاں
گزشتہ کم و بیش دو سال سے لگاتار خشک سالی کی مار جھیل رہے، ملک کے لئے اس بار حسب معمول چھ فیصد زائد بارش کی پیش قیاسی ایک بڑی راحت کی خبر لے کر آیا ہے ۔ اس پیش قیاسی میں جہاں ملک کے زیادہ تر حصے کیلئے خوشخبری ہے ، وہیں ہر سال بارش سے تباہ ہونے والے شمال اور جنوب مشرقی علاقوں میں اس بار کم بارش کے امکانات ظاہر کئے گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے مانسون سے پہلے یعنی اپریل ، مئی اور جون میں اوسط سے زیادہ گرمی بڑھنے کی بات بھی کہی ہے ۔ موسم کے محکمہ کی زیادہ بارش کی پیش گوئی اگر درست ثابت ہوئی تو یقینی طور پر کھیتی سے لیکر انڈسٹریل ورلڈ اور پوری معیشت میں نئی جان آجائے گی ۔ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ان دنوں ملک کی دس ریاستیں زبردست خشک سالی کی زد میں ہیں ۔ تلنگانہ ، آندھراپردیش، مہاراشٹرا کی لائف لائین گوداوری ندی خشک ہوگئی ہے، ذخائر آب پانی کی بوند بوند کیلئے ترس رہے ہیں ۔ جہاں تھوڑا بہت پانی ہے بھی ، وہاں پر مسلح دستوں کا پہرا ہے یا پھر دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے ۔ ایسے برے حالات میں محکمہ موسمیات نے اچھی خبر دی ہے کہ اس سال جون سے 30 ستمبر تک اوسطاً 106 فیصد بارش ہونے کی توقع ہے ۔ نتیجتاً تیز ہواؤں کے ساتھ چلنے والی لو کے تھپیڑوں سے دلی ،پنجاب ، ہریانہ ،اترپردیش ، گجرات ، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ ، بہار، جھارکھنڈ ، مغربی بنگال ا، اڈیشہ ، مراٹھواڑہ ، ودربھ، تلنگانہ ، کرناٹک اور ساحلی آندھراپردیش کے بے حال ہونے کے امکانات ہیں۔ آخر اس سال اپریل میں ہی درجہ حرارت 46 ڈگری کے پاس پہنچنے سے مذکورہ پیش قیاسی صحیح ثابت ہوتی لگ رہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ تلنگانہ، آندھراپردیش اور اڈیشہ میں سو سے زیادہ لوگوں کو لو نے اپنی گرفت میں لے کر ختم کرڈالا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ جس طرح ہم اچھے مانسون کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں اسی طرح اگر گرمی سے بھی نجات پانے کی پہلے ہی کوشش کرلیتے تو کم سے کم اپنے ملک کی یہ بڑی آبادی لو سے جھلسنے سے بچ جاتی۔ ہمیں شدید گرمی سے نمٹنے کا چیلنج کا بھی خیال رکھتے ہوئے خاطر خواہ تیاری کرنی چاہئے تھی ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس چیلنج کی طرف سے حکومتیں آنکھیں بند کئے ہوئی ہیں اور اچھے مانسون کی پیش قیاسی پر ہی خوش دکھائی دے رہی ہیں ۔ یہ بتانا ضروری ہوگا کہ بارش کی پیش قیاسی متعدد دفعہ غلط بھی ثابت ہوتی رہی ہے ۔اس اندازے کی بنیاد پر ہی مرکزی وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ نے تو اس سے اناجوں کی پیداوار میں اضافہ کی پیش گوئی بھی کردی ہے ۔

اب انہیں کیسے سمجھایا جائے کہ زیادہ بارش کئی دفعہ فصلوں کی بربادی کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ دراصل ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ مانسون کا یہ اندازہ شروعاتی ہے، محکمہ موسمیات دوسری پیش قیاسی جون میں کرے گا جس کے حقیقت سے زیادہ قریب ہونے کے امکانات ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ ہم اپنی کھیتی یا معیشت کی بہتری کیلئے موسم کی پیش قیاسیوں کے محتاج کیوں ہیں، جبکہ ہمیں ہر مشکل سے نمٹنے کی تیاریاں پہلے سے ہی کرلینی چاہئے ۔ اگر ہم مانسون کے لئے ادھار بیٹھے ہیں تو اس کیلئے ہمارا آبی انتظامی نظام بھی کم ذمہ دار نہیں ہے ۔ آزادی کے لگ بھگ سات دہائیوں کے باوجود ملک میں کارگر آبی پالیسی بناکر اس پر عمل آوری یقینی نہیں بنائی جاسکی ہے ۔ محض پانی کے لئے لوگ بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے کو مجبور ہورہے ہیں ۔ پانی کی بربادی روکنے ، بارش کے پانی اور آبی ذخائر کو محفوظ رکھتے، زمینی آبی نظام کو برباد کرنے ، مبینہ ترقی کے لئے جنگلات کی کٹائی وغیرہ کو روکنے کیلئے خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ اس سمت میں جو بھی اقدامات کئے گئے وہ غیر سرکاری سطح پر ہی زیادہ ہوتے ہیں جبکہ ضرورت پانی کیلئے بڑے پیمانے پر عوامی تحریک چلانے کی ہے ۔ ایک ایسی تحریک جو آبی نظام، بربادی، تحفظ کو سرکار سے لیکر سماج تک ہمارے روز مرہ زندگی کا سروکار ہے ۔ اس کے فقدان میں محض اچھے مانسون کی آس میں ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے رہنا ہمیں خودکشی کی جانب لے جائے گی ۔ آخر ہم مانسون پر منحصر زند

TOPPOPULARRECENT