Wednesday , April 25 2018
Home / ہندوستان / ’’ہم کچرا اُٹھانے والے نہیں ہیں‘‘سپریم کورٹ کی مرکز پر شدید برہمی

’’ہم کچرا اُٹھانے والے نہیں ہیں‘‘سپریم کورٹ کی مرکز پر شدید برہمی

845 صفحات پر مشتمل حلف نامہ پیش کرکے آپ ہمیں متاثر نہیں کرسکتے :جسٹس لوکُر
نئی دہلی۔ 6 فروری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج ملک بھر کے ’’سولڈ ویسٹ مینجمنٹ‘‘ کے حوالے سے 845 صفحات اور نامکمل معلومات پر مشتمل حلف نامہ داخل کئے جانے پر مرکز پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کچرے اٹھانے والے نہیں ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے مذکورہ ریکارڈ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے مرکزی حکومت ہمارے سامنے کچرے کو ڈمپ نہیں کرسکتی۔ عدالت نے سوال کیا کہ آپ کیا کرنا چاہ رہے ہیں؟ کیا آپ ہمیں اِمپریس (متاثر)کرنا چاہتے ہیں؟ ہم بالکل بھی متاثر نہیں ہوں گے، کیونکہ آپ ہر چیز کو ہمارے سامنے ڈمپ کردینے کی کوشش کررہے ہیں اور ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔ جسٹس مدن بی لوکُر اور جسٹس دیپک گپتا پر مشتمل بینچ نے آج یہ ریمارک کیا۔ بینچ نے کہا کہ ایسا مت کیا کیجئے۔ آپ کو جو کچھ بھی سمجھ میں آتا ہے، اسے اٹھاکر ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں، ہم کچرا اٹھانے والوں میں سے نہیں ہیں، آپ کسی بھی مسئلہ پر واضح طور پر اور کھل کر سامنے آیا کیجئے۔ عدالت نے مرکز کو ہدایت دی کہ وہ تین ہفتوں کے اندر ایک چارٹ پیش کرے جس میں یہ وضاحت کی گئی ہو کہ ملک کی ریاستیں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں نے ریاستی سطح پر سولڈ ویسٹ مینجمنٹ رولس 2016ء کے تحت ایڈوائزری بورڈ تشکیل دی ہے یا نہیں۔ بینچ نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت اس چارٹ میں یہ وضاحت کریں کہ اس نے اس حوالے سے ایڈوائزری بورڈ کس تاریخ کو تشکیل دی ہے، اور بورڈ کی زیرنگرانی کسی اجلاس کا انعقاد بھی عمل میں آیا ہے اور ان افراد کے ناموں کا بھی ذکر کریں جن کو اس بورڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ عدالت عظمی نے گزشتہ سال 12 ڈسمبر کو مرکز کو اس معاملے میں ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کے حوالے سے ملک کی تمام ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کو پابند کیا جائے اور ایڈوائزری بورڈ تشکیل دیتے ہوئے اس کی تمام تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کی جائے۔

TOPPOPULARRECENT