Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / ہند، پاک کے درمیان جنگ کا امکان نہیں

ہند، پاک کے درمیان جنگ کا امکان نہیں

دونوں ملکوں کو حد سے زیادہ محتاط رہنا ضروری ، نیویارک میں عمر عبداﷲ کا خطاب

نیویارک ۔22 اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) سابق چیف منسٹر جموںو کشمیر عمر عبداﷲ نے کہا کہ ایل او سی پر شدید کشیدگی کے باوجود ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کا امکان نہیں ہے ۔ انھیں ایسی خاص بات نظر نہیں آئی کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اُٹھالیں۔ میرا قوی ایقان ہے کہ دونوں ملکوں کو اس مسئلہ پر احتیاط کرنا چاہئے ،بعض نیوز چیانلوں نے جنگ کے امکانات کو بڑھاچڑھاکر پیش کرنا شروع کیا ہے۔ ایسے حالات میں دونوں ملکوں کو بہت زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ جنگ ہوگی۔ عمر عبداﷲ سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کے خطرے کو محسوس کررہے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ برصغیر میں جنگ کے بادل منڈلانے جیسے حالات دکھائی نہیں دیتے ۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو برصغیر میں جنگ کے خطرات کو محسوس کررہے ہیں۔ ہمارے بعض ٹی وی چیانلوں نے ایسا ہوا کھڑا کر رکھا ہے کہ لوگوں کے اندر جنگ کااحساس پیدا ہونے لگا ہے ۔ عمر عبداﷲ نیویارک میں ’’ہند۔ پاک میں برصغیر اُمور ‘‘کے عنوان سے منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ یہ کانفرنس نیویارک یونیورسٹی کے طلباء کی جانب سے منعقد کی گئی تھی ۔ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف اور اس کانفرنس سے خطاب کرنے والے ہے

لیکن سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے انھوں نے اپنا ارادہ لمحہ آخر میں بدل دیا۔ عمر عبداﷲ نے کہاکہ موثر بات چیت کے لئے دیگر کئی مواقع موجود ہیں۔ عمر عبداﷲ کی تقریر کے دوران تقریباً ایک گھنٹہ تلخ مباحث بھی ہوئے اور جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے نعرے بھی لگائے گئے ۔ دونوں ملکوں ہندوستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے طلباء نے مسئلہ کشمیر اور ہندوستان کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کے بارے میں بھی سوالات کئے ۔ حزاب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت ، پاکستان کے ساتھ کشیدگی ، کشمیری پنڈتوں اور آرٹیکل 370 کے بارے میں بھی طلباء نے سوالات کئے ۔  عمر عبداﷲ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں نے سرجیکل اسٹرائیک کے بارے میں مختلف بیان دیئے ہیں ۔ حکومت ہند نے خاص کر اس بارے میں ساری دنیا کو لائین آف کنٹرول کے بارے میں کیا کچھ ہورہا ہے واقف کروانے میں احتیاط سے کام لیا ہے ۔پاکستان کی جانب سے شدید ردعمل کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔ وزیراعظم نواز شریف پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ انھیں ہندوستان کے حملہ کا موثر جواب دینا چاہئے ۔ جموںو کشمیر میں بڑھتی کشیدگی نے ہی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو نازک موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔وادی کشمیر میں بدامنی اور احتجاج کا سلسلہ گزشتہ 100 دن سے جاری ہے ۔ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بدبختی سے اس مسئلہ کا خاتمہ نہیں ہورہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT