Saturday , June 23 2018
Home / ہندوستان / ہندو، مسلم کو بانٹنے والے سدھر جائیں ورنہ سدھارنا پڑیگا

ہندو، مسلم کو بانٹنے والے سدھر جائیں ورنہ سدھارنا پڑیگا

مولانا محمود مدنی کا خطاب ۔ کشن گنج میں جمعیتہ علماء بہار کے زیراہتمام قومی ایکتا کانفرنس کا انعقاد
کشن گنج ۔5 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) بہار کے سیمانچل علاقہ کے کشن گنج میں گذشتہ روز صبح میں جمعیتہ علماء بہار کے زیراہتمام عظیم الشان تاریخ ساز قومی ایکتا کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں لاکھوں کی تعداد میں عوام نے شرکت کرتے ہوئے اس اجلاس کو بھرپور کامیاب بنایا۔ فدائے ملت نگر لہرا چوک کا میدان عوام سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ اس موقع پر تمام مقررین کا اظہارخیال اسی بات پر تھا کہ ملک ہند کے تمام طبقات کے عوام کے دلوں میں محبت کی تخم ریزی کی جاے۔ قومی نعرے ’’ہندو مسلم سکھ عیسائی سب ہیں بھائی بھائی‘‘ کو عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ فرقہ پرست طاقتیں جو ان میں نفرت کے زہر گھول کر اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہ رہے ہیں وہ اپنے مقصد میں ناکام ہوجائیں۔ اس موقع پر جمعیتہ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے آخر میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے عوام قومی یکجہتی کیلئے جمع ہوئے ہیں جو گرمی کی پرواہ کئے بغیر لاکھوں کی تعداد میں فرقہ واریت کے خلاف آواز لگانے اور اتحاد کی دعوت دینے کیلئے بیٹھے ہیں۔ سیمانچل کے عوام کو سلام پیش کرتے ہوئے انہوں نے صاف طور پر کہا کہ اگر مسلمان اسلام کا وفادار نہیں رہے گا تو وہ کسی کا وفادار نہیں رہے گا۔ سچا مسلمان کسی سے بے وفائی نہیں کرسکتا۔ اسلام نے ہمیں جانوروں کے ساتھ، پڑوسیوں کے ساتھ، محلے والوں کے ساتھ، والدین کے ساتھ، بچوں کے ساتھ ایک خاص معاملہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہر چیز سے وفاداری مسلمان اس لئے کرتا ہے کیونکہ وہ شریعت پر عمل پیرا ہے۔ لہٰذا وہ ہر چیز کے ساتھ سمجھوتہ کرسکتا ہے مگر ایمان کے ساتھ نہیں۔ لہٰذا شریعت کی حفاظت تو خود مسلمان کی ذمہ داری ہے، کسی سرکار کی نہیں۔ مولانا نے اس وقت اتحاد کی بات کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ بانٹنے کی کوشش کررہے ہیں وہ سدھر جائیں ورنہ یہ بہاری جو مقولے کے مطابق سب پر بھاری ہیں، وہ ان کو درست کردیں گے۔ مولانا نے ’’ٹو نیشن تھیوری‘‘ کو نکال پھینکنے کی بات کرتے ہوئے جمعیتہ کی کارکردگی کو نمایاں کیا اور کہا کہ جمعیتہ وہ اکیلی تنظیم رہی جس نے ان لوگوں کا سخت جواب دیا تھا، جو یہ کہتے تھے کہ مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ پورے سیمانچل کے علاقے اور بہار کے دیگر اضلاع کے علاوہ بیرون ریاست سے بھی عوام کا اژدہام موجود تھا۔ اس موقع پر رشی کیش ہردوار سے شری سوامی چدانند سوامی، درگاہ خواجہ اجمیری کے گدی نشین جناب الحاج واحد حسین انگارا، صدر جمعیتہ علماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری، مولانا صدیق اللہ چودھری صدر جمعیتہ علماء و ریاستی وزیر مغربی بنگال، مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیتہ علماء ہند، سمیت مقامی علماء کرام نے اپنے اپنے خطابات میں اتحاد کی دعوت دی۔ قبل ازیں قاری نوشاد کی تلاوت پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا جبکہ استقبالیہ مولانا انوار عالم نے پیش کیا۔ مولانا احمد عبداللہ نے نعت اور ترانہ جمعیت پیش کیا۔ صدر جمعیتہ کے خطاب اور دعائیہ کلمات پر یہ نشست اپنے اختتام کو پہنچی۔

TOPPOPULARRECENT