Saturday , May 26 2018
Home / ہندوستان / ’’ہندوؤں کو بھی چار بچے پیدا کرنے کی ضرورت‘‘

’’ہندوؤں کو بھی چار بچے پیدا کرنے کی ضرورت‘‘

یکساں سیول کوڈ کے نفاذ تک اکثریتی آبادی کو بڑھانا ہوگا ، گاؤ رکھشکوں کے بھیس میں مجرمین سرگرم : دھرم گرو گووندا دیو

حکومت کی زیادہ سے زیادہ دو بچے پیدا کرنے کی پالیسی سے اختلاف

اڈپی ۔ /25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوؤں کے ایک سینئر دھرم گرو نے آج کہا کہ ملک میں علاقہ و آبادی کی بنیاد پر ہونے والے عدم توازن کو روکنے کیلئے یکساں سیول کوڈ کے نفاذ تک ہندوؤں کو کم سے کم چار بچے پیدا کرنا چاہئیے ۔ ہری دوار کی بھارت ماتا مندر کے سوامی گووند دیو گیرجی مہاراج نے کہا کہ دو بچوں کی پالیسی صرف ہندوؤں تک محدود نہیں رکھی جانی چاہئیے ۔ کیونکہ جہاں کہیں بھی ہندوؤں کی آبادی کم ہوئی ہے وہاں ہندوستان کو اپنے علاقوں سے محروم ہونا پڑا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں علاقائی و آبادیاتی عدم توازن پیدا ہوا ہے ۔ سوامی گووندا دیو کرناٹک کے ساحلی شہر اڈپی میں وشواہندو پریشد (وی ایچ پی) کے زیراہتمام تین روزہ دھرم سنسد کے دوسرے دن اخباری نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے ۔ سوامی نے مندروں کے اس شہر میں مزید کہا کہ حکومت زیادہ سے زیادہ دو بچے پیدا کرنے کی پالیسی پر اصرار کررہی ہے ۔ لیکن جب تک یکساں سیول کوڈ نافذ نہیں کیا جاتا ہندوؤں کو بھی چاہئیے کہ وہ کم سے کم چار بچے پیدا کریں ۔ کیونکہ جہاں کہیں بھی ہندو آبادی کم ہوئی ہے ہندوستان کو وہاں اپنے کئی علاقوں سے محروم ہونا پڑا ہے ۔ گاؤ رکھشا کے نام پر ہونے والی غنڈہ گردی کے بارے میں سوامی نے کہا کہ چند مجرمین محض گاؤ رکھشک کے بھیس میں اپنی دیرینہ شخصی دشمنی پر بدلے لے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’’گاؤ رکھشک پرامن افراد ہیں جنہیں مفاد حاصلہ عناصر کی طرف سے بدنام کیا جارہا ہے ۔ چند مجرمین دراصل گاؤ رکھشکوں کے بھیس میں شخصی دشمنوں کے بدلے لے رہے ہیں ‘‘ ۔ ہندوؤں کے اس اجتماع میں ملک بھر کے 2000 سے زائد ہندو دھرم گروؤں کے علاوہ وی ایچ پی کے سرکردہ قائدین بھی حصہ لے رہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT