Wednesday , November 21 2018
Home / Top Stories / ہندوازم کو اغواء کنندوں کے قبضہ سے واپس لینے کی ضرورت

ہندوازم کو اغواء کنندوں کے قبضہ سے واپس لینے کی ضرورت

انتہائی تنگ نظر سیاسی مفاد کیلئے مذہبی نظریات کا بیجا استعمال تشویشناک : ششی تھرور
جئے پور ۔ /4 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے لیڈر ششی تھرور نے ہندوازم کا اغواء کرنے والے افراد کے قبضہ سے اس مذہبی نظریہ کو واپس حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور انتہائی تنگ نظر سیاسی مقاصد کے لئے اس مذہبی نظریہ کے بیجا استعمال پر گہری تشویش ظاہر کی ۔ ششی تھرور نے ہندو مذہب کے بارے میں اپنے نظریات اور سوجھ بوجھ پر اپنی ایک کتاب کی تصنیف کی ہے کہا کہ وہ ان پر فخر نہیں کرتے جو یہ سمجھتے ہیں کہ صرف ایک ہندو اور وہ بھی ایک مخصوص قسم کے ہندو ہی حقیقی ہندوستانی ہوسکتے ہیں ۔ تھرور نے کہا کہ ’’میں ان ہندوستانیوں پر فخر کرتا ہوں جو ہندو فرقہ پرستی کو سختی سے مسترد کرتے ہیں ۔ اکثریت کی فرقہ پرستی کا رجحان خاص طور پر اس لئے بھی بہت زیادہ خطرناک ہے کہ اس کو بذات خود قوم پرستی کے طور پر بھی پیش کیا جاسکتا ہے ‘‘ ۔ لوک سبھا کے رکن ششی تھرور نے کہا کہ ان کی کتاب ’’کیوں میں ہندو ہوں ‘‘ کا نظریہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ان کے ذہن میں ابھررہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے محسوس کیا کہ یہ دراصل سیاسی ایجنڈہ کا حصہ ہے اور میں یہ محسوس کررہا تھا کہ اس کے خلاف کچھ کہنے کے لئے کسی کو کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا اور یہی سب کچھ اس کتاب کی بنیادی خلاصہ ہے ‘‘ ۔ ششی تھرور نے جو جئے پور ادبی میلہ میں پی ٹی آئی سے بات کررہے تھے ۔ مزید کہا کہ ’’انتہائی تنگ نظر سیاسی مقاصد کے لئے ہندو دھرم ،عقیدہ اور شناخت کے غلط استعمال پر مجھے گہری تشویش تھی ۔ بالخصوص اس لئے بھی کہ میں نے دیکھا تھا کہ عقیدہ پر ہیرپھیر کی جارہی تھی جو بنیادی طور پر غلط تھی ۔

TOPPOPULARRECENT