Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / ہندواڑہ پر تحدیدات میں نرمی ،فوجی مورچے برخواست

ہندواڑہ پر تحدیدات میں نرمی ،فوجی مورچے برخواست

بدسلوکی کا ایک ملزم گرفتار ، لڑکی کی جانب سے فوجیوں کی بدسلوکی کی تردید
سرینگر ۔ 19 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) تشدد زدہ شمالی کشمیر کے قصبہ ہندواڑہ میں بلدیہ کے عہدیداروں نے آج فوج کے تین فوجی مورچے بڑی مارکٹ سے برخواست کردیئے ۔ مقامی شہری ایک عرصہ سے اس کا مطالبہ کررہے تھے ۔ تین فوجی مورچے جو ہندواڑہ کے بڑے بازار میں دوکانوں کی چھتوں پر تعمیر کئے گئے تھے برخواست کردیئے ۔ انھیں بلدی عہدیداروں نے ہٹادیا ۔ بلدیہ کے عہدیداروں کے بموجب اہم مورچہ بڑے بازار کے چوراہے کے قریب تھا ۔ اس کا بھی تخلیہ کروادیا گیا اور بلدیہ کے عہدیداروں نے اس پر قبضہ کرلیا ۔ یہ مورچہ منہدم کردیا گیا اور اس کام کی آج دوپہر 2بجے تکمیل ہوئی ۔ کرفیو جیسی تحدیدات جو کشمیر کے ضلع کپواڑہ اور تریگام میں عائد کی گئی تھیں آج نرم کردی گئیں۔ ایک پولیس عہدیدار نے کہا کہ تحدیدات میں قصبہ ہندواڑہ میں 8 تا 12 بجے دن چار گھنٹے کی نرمی کی گئی ہے ، اگر صورتحال پرامن برقرار رہے تو اس میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے ۔ اس نے کہا کہ فی الحال صورتحال پرامن ہے تاہم کپواڑہ اور تریگام قصبوں میں تشدد کے اندیشوں کے تحت عوام کی نقل و حرکت پر ہنوز تحدیدات برقرار ہیں۔ کل تین گھنٹے کی نرمی دی گئی تھی لیکن پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے بعد دوبارہ تحدیدات عائد کردی گئی تھیں۔ ایک شخص کو شمالی کشمیر کے ایک لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کے واقعہ کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ۔ سرکاری ذرائع کے بموجب اس واقعہ کے بعد ہندواڑہ میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ ہلال احمد باندے کو دو ملزمین میں سے ایک ہونے کی شناخت کی بناء پر گرفتار کیا گیا ہے ۔ اس لڑکی نے مقامی شہریوں کے اس الزام کی تردید کردی کہ ایک فوجی نے اُس کے ساتھ بدسلوکی کی کوشش کی تھی ۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کے اجلاس پر بیان دیتے ہوئے اُس نے کہاکہ 12 اپریل کو اسکولی اوقات کے بعد وہ اپنی ایک سہیلی کے ساتھ گھر جارہی تھی ، وہ ایک عوامی بیت الخلاء میں ہندواڑہ کے بڑے چوک کے قریب داخل ہوئی ۔ جب وہ باہر آئی تو دو لڑکوں نے اُس پر حملہ کیا اور اُسے گھسیٹا ۔ اُس کا کتابوں کا بیگ چھین لیا ، بعد ازاں لڑکی نے اپنے والد کے ساتھ چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کو اپنا بیان دیا ۔

TOPPOPULARRECENT