Saturday , December 15 2018

ہندوتوا ایجنڈہ سے مقابلہ اور کمیونسٹ جماعتوں کا اتحاد ترجیح

حیدرآباد 19 اپریل ( سیاست نیوز) سی پی ایم کے نو منتخب جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے آج کہا کہ ان کے سامنے بائیں بازو کی جماعتوں کو متحد کرنے اور انہیں مستحکم کرنے کی ذمہ داری ہے ۔ اس کے علاوہ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوتوا ایجنڈہ کا سختی سے مقابلہ کیا جائے ۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری منتخب کئے جانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر یچوری نے ک

حیدرآباد 19 اپریل ( سیاست نیوز) سی پی ایم کے نو منتخب جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے آج کہا کہ ان کے سامنے بائیں بازو کی جماعتوں کو متحد کرنے اور انہیں مستحکم کرنے کی ذمہ داری ہے ۔ اس کے علاوہ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوتوا ایجنڈہ کا سختی سے مقابلہ کیا جائے ۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری منتخب کئے جانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر یچوری نے کہا کہ حکومت کی مخالف عوام پالیسیوں کے خلاف عوامی جدوجہد کو بھی متحدہ طور پر انجام دینے کیلئے آدی واسیوں ‘ دلت طبقات اور اقلیتوں کو بھی سرگرم ہونے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے ان طبقات سے عوامی جدوجہد میں شامل ہونے کی اپیل کی اور کہا کہ این ڈی اے حکومت میں عوامی مسائل و پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان کی پارٹی ان کی نشاندہی کریگی ۔ مسٹر یچوری نے کہا کہ حکومت کے خلاف جدوجہد کرنا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے اور کانگریس پارٹی فی الحال خود مسائل و پریشانیوں کا شکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بائیں بازو کی طاقتوں کو متحد کیا جائے ۔ حالانکہ بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد کیلئے کوئی وقت طئے نہیں کیا گیا ہے لیکن یقینی طور پر مستقبل میں ان جماعتوں میں اتحاد ہوگا ۔ مسٹر یچوری کا اس عہدہ کیلئے بلا مقابلہ انتخاب عمل میں آیا تھا ۔ پارٹی کی 21 ویں قومی کانفرنس کا وشاکھا پٹنم میں آج مسٹر یچوری کے انتخاب کے بعد اختتام عمل میں آیا ۔ مسٹر یچوری نے کہا کہ بائیں بازو کی جماعتوں کا انضمام زیر غور ہے ۔ تاہم ان کے سامنا سب سے پہلا مسئلہ اپنی جماعت کو مستحکم کرنا ہے ۔ اس استحکام کی بنیاد پر بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد کی کوشش کی جائیگی اور اس کوشش کی بنیاد پر بائیں بازو کی اور جمہوری طاقتوں کو متحد کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ان جماعتوں کے انضمام کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے لیکن ہم کوشش کر رہے ہیں کہ انضمام جلد از جلد ہوجائے ۔ اس کیلئے دو ماہ بھی لگ سکتے ہیں اور چھ ماہ بھی لگ سکتے ہے۔ تاہم ایسا ہوگا ضرور اور یہ ہمارا عزم اور وعدہ بھی ہے ۔ انہیں درپیش چیلنجس سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر یچوری نے کہا کہ وہ پارٹی کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی مرکز کی ان پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کریگی جن کے نتیجہ میں عوام پر زبردست بوجھ عائد کیا جا رہا ہے ۔ ساتھ ہی ان کی پارٹی فرقہ وارانہ نظریات کے خلاف جدوجہد کریگی جس سے ملک تقسیم ہو رہا ہے اور عوام ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں۔ قبل ازیں سی پی آئی ایم قومی کانفرنس میں سینئر قائد مسٹر سیتارام یچوری کو متفقہ طور پر سی پی آئی ایم کا قومی جنرل سکریٹری منتخب کرلیا گیا ۔ سی پی آئی قومی کانفرنس کے آخری دن پارٹی جنرل سکریٹری انتخاب کے مسئلہ پر ابتدا میں سیتارام ایچوری اور رامچندرن پلے اس عہدے کیلئے موجودہ جنرل سکریٹری مسٹر پرکاش کرت کی اپیل پر مسٹر رامچندرن پلے نے اپنی دعویداری سے دستبراری اختیار کرلی ‘ جس کے نتیجہ میں مسٹر یچوری کا انتخاب عمل میں آیا ۔ سیتارام یچوری کا بحیثیت جنرل سکریٹری مسٹر پرکاش کرت نے اعلان کیا ۔بتایا جاتا ہے کہ سی پی آئی ایم کی نئی قومی عاملہ (16) ارکان پولیٹ بیورو اور (91) ارکان مرکزی کمیٹی پر مشتمل ہوگی ۔ پولیٹ بیورو کے منتخبہ بعض اہم ارکان میں مسرس پرکاش کرت ‘ رامچندرن پلے ‘ پی این لیسو ‘ مانک سرکار‘ ایم اے بے پی‘و جین بی وی راگھولو ‘ بالا کرشنن ‘ سوراجیا کانتا مشرا ‘ پدمنا بھن و دیگر شامل ہیں ۔ مسٹر یچوری نے اپنے انتخاب کے بعد کہا کہ یہ انتخاب ایک بھاری دمہ داری ہے ۔ جس اعتماد کے ساتھ مجھے یہ ذمہ داری دی گئی ہے اس کو بہتر اندازمیں پورا کرنے کی کوشش کی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات انتہائی کٹھن ہیں اور ان کیلئے حالات کا سامنا کرنا بھی ایک چیلنج سے کم نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بائیں بازو جماعتوں کو مضبوط و مستحکم بنانے کوشش کریں گے اور خود سی پی آئی ایم کے بعض مسائل کی یکسوئی کیلئے اقدامات کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT