Friday , January 19 2018
Home / ہندوستان / ہندوتوا ایجنڈہ پر پیشرفت کیلئے سبرامنیم سوامی کی کوشش

ہندوتوا ایجنڈہ پر پیشرفت کیلئے سبرامنیم سوامی کی کوشش

نئی دہلی۔ 12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ہندوتوا کے ایجنڈہ کو آگے بڑھاتے ہوئے بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے اپنی پارٹی کی قومی عاملہ کے اجلاس کی طلبی پر زور دیا ہے تاکہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، دفعہ 370 کی تنسیخ اور گاؤکشی پر قومی امتناع جیسے وعدوں پر عمل آوری کیلئے ’’قابل عمل‘‘ پروگرام مرتب کیا جاسکے۔ ڈاکٹر سوامی نے جو قومی عاملہ

نئی دہلی۔ 12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ہندوتوا کے ایجنڈہ کو آگے بڑھاتے ہوئے بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے اپنی پارٹی کی قومی عاملہ کے اجلاس کی طلبی پر زور دیا ہے تاکہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، دفعہ 370 کی تنسیخ اور گاؤکشی پر قومی امتناع جیسے وعدوں پر عمل آوری کیلئے ’’قابل عمل‘‘ پروگرام مرتب کیا جاسکے۔ ڈاکٹر سوامی نے جو قومی عاملہ کے رکن بھی ہیں، اپنی پارٹی کے صدر امیت شاہ کے نام ایک مکتوب میں لکھا ہے کہ ہندوتوا کے مسائل پر 2014ء کے بی جے پی انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل سے متعلق روڈ میاپ سے واقفیت کے بارے میں عوام میں عجلت و بے چینی محسوس کی جارہی ہے۔ اس مکتوب میں جس کی نقول قومی عاملہ کے چند ارکان کو بھی روانہ کی گئی ہیں، بی جے پی کے زیرقیادت حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ملک کے مذہب، ثقافت، تاریخ و وراثت کی نشاۃ ثانیہ کیلئے چند دیرینہ مسائل کا حل تلاش کرے۔ ڈاکٹر سوامی، جنہوںنے ہندوتوا مسائل پر پیشرفت کیلئے حال ہی میں نئی تنظیم ہندوستانی سنگم کا قیام عمل میں لایا ہے، کہا کہ ایودھیا میں لارڈ رام کے مقام پیدائش پر رام مندر کی تعمیر کیلئے ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین بات چیت کے ذریعہ کوئی حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔

ہندو برادری، منہدمہ بابری مسجد کے بجائے دریائے سریو کے کنارے مسلمانوں کیلئے ایک مسجد کی تعمیر سے اتفاق کرسکتی ہے۔ سابق مرکزی وزیر نے گاؤکشی پر ایک مرکزی قانونی کے ذریعہ قومی سطح پر امتناع عائد کیا جاسکتا ہے جس کی دستوری عبوری فہرست کے تحت اجازت حاصل ہے۔ اس طرح پارلیمنٹ یا متعلقہ ریاستی اسمبلی کی منظوری کے بغیر دستور کی دفعہ 370 منسوخ کی جاسکتی ہے۔ اس مقصد کیلئے مرکزی کابینہ کی سفارش پر صدارتی اعلامیہ جاری کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے رام سیتو کو قومی ورثہ قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ ڈاکٹر سوامی نے تمام جنوبی ریاستوں میں سنسکرت کو اختیاری زبان بنانے اور ہندی ریاستوں میں متبادل انتخاب بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے نصابی کتابوں میں ہندوستانی تاریخ کی ’’اصلاح‘‘ کا مطالبہ بھی کیا۔

TOPPOPULARRECENT