ہندوتوا تبصروں‘ تبدیلی ٔ مذہب سے این ڈی اے متاثر

ترقی کے ایجنڈہ پر توجہ مرکوز کرنا ضروری، مرکزی وزیر اوپیندر کشواہا کا بیان

ترقی کے ایجنڈہ پر توجہ مرکوز کرنا ضروری، مرکزی وزیر اوپیندر کشواہا کا بیان
نئی دہلی۔ 11؍جنوری (سیاست ڈاٹ کام)۔ حکومت نے ہندوتوا اور تبدیلیٔ مذہب کے سخت گیر حامیوں کے تبصروں پر بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتے ہوئے سینئر مرکزی وزیر اوپیندر کشواہا نے کہا کہ ایسے مسائل ’این ڈی اے کے امکانات کو تباہ کررہے ہیں‘۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسے کسی قانون کے حامی نہیں ہیں جس کے ذریعہ ان افراد کی تبدیلیٔ مذہب پر امتناع عائد کیا جائے جو اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرتے ہیں، کیونکہ پہلے ہی سے ایسی دفعات موجود ہیں جن سے ترغیب اور تخویف کے ذریعہ مذہب تبدیل کرانے کا انسداد کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے تبدیلیٔ مذہب کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یقینی طور پر اس سے مرکز توجہ تبدیل ہوگیا ہے، (بھگوا سخت گیر افراد) کو چاہئے کہ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اس حکومت کا ایجنڈہ ترقی ہے۔ انھیں چاہئے کہ حکومت اور وزیراعظم کو اس کی تکمیل کی اجازت دیں۔ اپوزیشن کو ایسا موقع نہیں دیا جانا چاہئے کہ وہ ہر وقت یہی مسئلہ اُٹھاتی رہے۔ وزیراعظم بھی چاہتے ہیں کہ صرف ترقی پر ہی توجہ دی جائے۔

جنتادل (یو) کے سابق رکن پارلیمنٹ کشواہا جو لوک تانترک سمتا پارٹی کے صدر ہیں اور گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی سے اتحاد کرچکے ہیں، احساس رکھتے ہیں کہ ان مسائل کو اُبھرنا نہیں چاہئے۔ بی جے پی وادیٔ کشمیر میں چند نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی اور اگر موجودہ ’نقصان‘ جاری رہے اور اس کا سلسلہ ترک نہ کیا جائے تو بی جے پی آئندہ کوئی نشست وادی سے حاصل نہیں کرسکے گی۔ دہلی میں عنقریب انتخابات مقرر ہیں۔ مرکزی وزیر نے خبردار کیا کہ ایسے مسائل دہلی انتخابات کے دوران این ڈی اے کامیابی کے امکانات ختم کردیں گے۔ کشواہا نے کہا کہ ان کی رائے یہ ہے کہ دہلی میں بھی ترقیاتی ایجنڈہ پر توجہ دی جائے۔ مرکزی وزراء ایل جے پی کے رام ولاس پاسوان اور نجمہ ہبت اللہ کے بعد انسداد تبدیلیٔ مذہب قانون منظور کرنے کے بارے میں کشواہا نے بھی اپنے ذہنی تحفظات ظاہر کردیئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT