Wednesday , April 25 2018
Home / مضامین / ہندوتوا کا ایجنڈا اورمسلم پرسنل لاء

ہندوتوا کا ایجنڈا اورمسلم پرسنل لاء

مولانا سید احمد ومیض ندوی
مسلم پرسنل لاء در اصل خدائی قانون کا نام ہے، جسے شریعت ِ اسلامی کہاجاتا ہے، شریعت ِاسلامی میں بنیادی حیثیت عقیدۂ توحید کو حاصل ہے، عقیدۂ توحید کا خلاصہ یہ ہے کہ عبادت کے لائق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات ہے، اور خدا تعالیٰ ہی خالق ہے، بقیہ ساری کائنات اس کی مخلوق ہے، شمس وقمر ، بحروبراورارض وسماء جیسی بڑی بڑی مخلوقات بھی عبادت کے لائق نہیں ہوسکتیں، یہ سب اللہ کے بنانے سے وجود میں آئیں، اور اپنی تاثیر دکھانے میں بھی اللہ کی محتاج ہیں، ان ساری مخلوقات کو اللہ تعالیٰ نے حضرت انسان کے لیے پیدا فرمایا ہے، ارشاد ربانی ہے :  ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُم مَّا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاً۔(البقرۃ:۲۹) وہی خدا ہے جس نے تمھارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا فرمائیں، نیز یہ سب حضرت انسان کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہیں، ارشاد ہے:  وَسَخَّرَ لَکُم مَّا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الْأَرْضِ جَمِیْعاً(الجاثیہ:۱۳)اور اس نے تمھارے لیے زمین وآسمان کی ساری چیزوں کو مسخر کردیا ہے۔
جب یہ ساری مخلوقات انسان کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہیں تو پھر وہ کیوں کر انسان کی معبود بن سکتی ہیں، توحیدکا یہ عقیدہ ایک مسلمان کو ہر قسم کی شرکیات سے محفوظ رکھتا ہے، ایک مسلمان کے لیے عقیدۂ توحید جان ودل سے زیادہ عزیز ہے، مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے؛ لیکن عقیدۂ توحید پر حرف آئے ہرگز برداشت نہیں کرسکتا، مسلم پرسنل لاء کی پوری عمارت اسی عقیدۂ توحید پر کھڑی ہے، جس میں شرک اور شرکیات کی دور دور تک کوئی گنجائش نہیں ہے، ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے، یہاں کے دستور میں سارے مذاہب کے پیروکاروں کو اپنی مذہبی تعلیمات پر عمل کی کھلی چھوٹ حاصل ہے، دستور کی روسے یہاں کی جمہوری حکومت ملک کے کسی باشندے سے اپنے مذہبی عقائد اور شریعت سے دست برداری کا مطالبہ نہیں کرسکتی،اور نہ ہی کوئی ایسا قدم اٹھا سکتی ہے جس سے کسی کی مذہبی آزادی متاثر ہوسکتی ہو؛ لیکن ہندوستان کی یہ بدقسمتی ہے کہ یہاں آزادی کے زمانہ سے ایک ایسا طبقہ سر اٹھاتا رہا ہے جس نے ہمیشہ ملک کے سیکولر امیج کو متأثر کرنے کی کوشش کی ہے، اور بالخصوص یہاں کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کو ان کے مذہبی تشخص سے محروم کرنے کا حامی رہاہے، یہ ہندوتوا نظریات رکھنے والا وہ ٹولہ ہے جو مسلمانوں سے نفرت ہی کو ملک کی سب سے بڑی خدمت سمجھتا ہے، ہندوتوا طاقتوں کا روز اول سے یہ ایجنڈہ رہا ہے کہ یہاں کی مسلم اقلیت کو مذہبی اعتبار سے ہندواکثریت میں ضم کردیا جائے، اور مسلمانوں کی مذہبی شناخت اور ان کے اسلامی عقائد وتشخص کا یکسر خاتمہ کردیا جائے، عقیدۂ توحید کو جو دین اسلام میں بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے مسلمانوں کے دل ودماغ سے محو کرکے انھیں شرکیات اور مشرکانہ طور وطریقوں کا دلدادہ بنادیا جائے، ہندوتوا طاقتوں کی سرخیل فرقہ پرست تنظیم آر ایس ایس ہے، بی جے پی در اصل اسی آر ایس ایس کا سیاسی ونگ ہے،اِدھر جب سے ملک میں بی جے پی کو اقتدار ملا ہے ہندوتوا طاقتیں اپنے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے میں کچھ زیادہ ہی سرگرم عمل ہوچکی ہیں، اس وقت بی جے پی حکومت اور اس کے مختلف قائدین کی جانب سے جن موضوعات کو بڑی شدت کے ساتھ اچھالا جارہا ہے ان سب کا تعلق مسلم پرسنل لاء کی اساسیات سے ہے، بھارت ماتا کی جئے کا مسئلہ ہو یا وندے ماترم کی بات، یوگا کے لزوم کا معاملہ ہو یا اسکولی طلبہ پر سوریہ نمسکار لاگو کرنے کی بات نصاب ِتعلیم میں بھگوت گیتا کی شمولیت ہو کہ سرسوتی وندنا کا معاملہ ان ساری چیزوں کی زد براہ راست عقیدۂ توحید پر پڑتی ہے، اور یہی ہندوتوا کا اصل ایجنڈہ ہے، ذیل کی سطروں میں اختصار کے ساتھ ہندوتوا ایجنڈے کے مذکورہ بالا نکات کا جائزہ لیا جاتا ہے:
بھارت ماتا کی جئے
اسلام دین فطرت ہے جس میں فطرت ِانسانی کا بھر پور لحاظ رکھا گیا ہے، اسلام اس بات سے منع نہیں کرتا کہ آدمی اپنی جائے پیدائش اور وطن سے محبت کرے، اس لیے کہ وطن سے محبت فطرت ِانسانی کا حصہ ہے؛ لیکن اسلام میں وطن کی پرستش اور اسے پوجنے کی اجازت نہیں ہے، وطن محبوب ضرور ہے لیکن کسی مسلمان کے لیے وہ معبود نہیں بن سکتا، مسلمانوں کے عقیدۂ توحید کو کاری ضرب پہونچانے اور ہندوستانی مسلمانوں کی حب الوطنی کو شک کے دائرہ میں لانے کے لیے ہندوتوا طاقتوں نے بھارت مات کی جئے کا مسئلہ ڈھونڈ نکالا، اور کہنے لگیں کہ حقیقی محب وطن وہی ہے جو بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ لگائے، اور جو اس نعرہ سے انکار کرے اس کی حب الوطنی مشکوک ہے، حالانکہ حب الوطنی کے اظہار کے لیے ملک کا شہری کسی خاص نعرہ کا پابند نہیں ہے، ملکی دستور میں بھی ایسی کوئی صراحت نہیں ملتی، آزادی کے بعد کے ۷۰ سالہ عرصہ میں کبھی کسی مخصوص نعرہ کو حب الوطنی کا معیار نہیں سمجھاگیا، یہ محض سنگھ پریوار کی اختراع ہے، برادرانِ وطن کے یہاں بھارت کے لیے ماتا کی جو تعبیر استعمال کی جاتی ہے اس کی حیثیت ویسی ہی ہے جیسے گاؤ ماتا یا گنگا میا کی ہے، بھارت ماتا میں ماتا در اصل دیوی کے معنی میں بولا جاتا ہے، جس طرح گاؤ ماتا میں ماتا دیوی کے معنی میں ہے، اس بات سے ہر شخص واقف ہے کہ ہندوبھائیوں کے یہاں بھارت ماتا منجملہ خداؤں میں ایک خدا ہے،ملک کی قدیم تہذیب پر لکھی گئی کتابوں میں ہندومؤلفین نے بھارت ماتا کے دیوی ہونے کی صراحت کی ہے، اتنا ہی نہیں ملک کے مختلف علاقوں میں بھارت ماتا کے نام سے مختلف منادر پائے جاتے ہیں،جن میں باقاعدہ پوجا کی جاتی ہے، ہندوستان کے نقشہ پر شیر پر سوار جو دیوی دکھائی جاتی ہے اسی کو بھارت ماتا کے نام سے پکارا جاتا ہے، ہندوکلچر میں بھارت ماتا کا تصور ایک دیوی کا ہے، جس کے ہاتھ میں ترنگا ہوتا ہے، اسکولی ڈراموں یا یوم جمہوریہ تقاریب میں بھارت ماتا کو ایک دیوی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، بھارت ماتا کے اس پس منظر کو ذہن میں رکھ کر سوچئے کہ کیا مسلمان کے لیے اس قسم کے کسی نعرہ کی گنجائش ہوسکتی ہے؟ بعض سادہ لوح مسلمانوں کو اس سلسلہ میں مغالطہ ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ بھارت ماتا در اصل مادر وطن کے معنی میں ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے، ایسے لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اردو میں مادر ِوطن دیوی یا معبود کے معنی میںنہیں بولا جاتا؛ بلکہ وطن یا اداروں سے محبت کے لیے بولا جاتا ہے۔
یوگا
ورزش وریاضت اور صحت ِجسمانی کے خوش نماغلاف میں مسلمانوں پر زبردستی یوگا کو لازم کرنا بھی ہندوتوا طاقتوں کا ایک اہم ایجنڈہ ہے، اس وقت پورے ملک میں حکومتی سطح پر یوگا کے حق میں مہم چلائی جارہی ہے، اسکولی بچوں اور عام مسلمانوں کو یوگا سے قریب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، عام طور پر یوگا کو ایک کھیل اور بدنی ریاضت کی مشق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے،اور یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یوگا کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ محض ریاضت کی ایک شکل ہے، جس سے سکون قلب اور صحت ِجسمانی کی دولت حاصل ہوتی ہے؛ جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، ہندوتوا کے حامی یوگا کو زندہ طلسمات کی طرح ہرمرض کی دوا قرار دیتے ہیں، یوگا کا آغاز کب ہوا قطعی طور پر نہیں کہاجاسکتا؛البتہ اتنی بات ہے کہ یہ علم سادھو سنتوں پر تپسیاکے دوران منکشف ہوا، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وادیٔ سندھ میںکھدائی کے دوران کچھ مہرے حاصل ہوئے جن پر انسان کی عجیب وغریب شکلیں کھدی ہوئی تھیں، ممکن ہے کہ یہ یوگا کی ابتدائی شکلیں ہوں، جو تین ہزار سال قبل مسیح سے متعلق رکھتی ہیں، ویدوں میں بھی یوگا کا ذکر ملتا ہے، اُپنشدوں میں یوگا کا تفصیلی ذکر موجود ہے، رامائن، مہا بھارت اور بھگوت گیتا کے مطابق برہما جو کائنات کی اصل ہے وہ خود کرشن کے روپ میں عالم میں آئے، اور اپنے زمانہ کے ماہر جنگجو ارجن کو یوگا کے گر سکھائے، یوگا کی مشہور قسم راجا یوگا ہے، جس کا بنیادی خاکہ پتنجلی کے یوگا سوترا میں بیان کیا گیا ہے، لفظ یوگا سنسکرت لفظ یوگ یا یوگی سے مشتق ہے، جس کے معنی جوڑ کے آتے ہیں، اس لفظ کا انتخاب اس تصور کے ساتھ کیا گیا ہے کہ یوگا اس کے حامیوں کے خیال میں مخلوق کو خالق (برہما)کی ذات میں مدغم کرنے کا ذریعہ ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نظریہ تناسخ یوگا کا بنیادی جز ہے، بھگوت گیتا میں یوگا کی چار قسمیں مذکور ہیں، جن کی تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ یوگا کی جڑیں ہندوؤں کے قدیم دیو مالائی قصوں اور ان کی مقدس کتابوں میں پیوست ہیں، یہ خالص ہندوانہ مذہبی عمل ہے جس کی بنیاد کفر وشرک پر ہے، اس بات کی دلیل یہ ہے کہ بھگوت گیتا میں یوگا کی سند موجود ہے، نیز یوگا میں پڑھے جانے والے سنسکرت کے اشلوک بھی اس کے ثبوت کے لیے کافی ہیں، خالق کائنات کا انکار خودی ،زندگی ، عبادت،وجود اور کون ومکان کا انکار اور انسانی خداؤں کا اقرار سب یوگا میں شامل ہے،یوگا کے متعلق ارجن وسری کرشنا نے یہ تعلیم دی کہ روحانی ارتقاء اور خواہشات سے چھٹکارا وآزادی کے لیے یوگا ضروری ہے۔ (Light of Yoga)یوگا کی ورزش صرف تندرستی کے لیے نہیں کی جاتی؛ بلکہ اس کا مقصد روحانی اور ہندوتہذیب کو پروان چڑھاناہے، یوگا کی تمام مبادیات اسلامی عقائد سے راست ٹکراتی ہیں، یہ در اصل کفروشرک کا علمبردار عمل ہے، یوگا میں توحید، رسالت ، کتاب اللہ اور یوم آخرت کا انکار ہے، نیز اس میں مخلوق کے خالق میں حلول کرجانے کا عقیدہ ہے، یہ نظریۂ تناسخ سے ہم آہنگ ہے، نیز یوگا کے نتیجہ میں آدمی کو ہندو مذہبی کتابوں اور انسانی خداؤں کے ارشادات کی اطاعت ضروری ہوجاتی ہے، یوگا میں ہندوعقائد کے مطابق روحانی وجسمانی تربیت دی جاتی ہے، یوگا کی کسرت کا اصل مقصد پرماتما(خالق) کی ذات میں اپنے کو ضم کردیناہے، یوگا کے متعلق ہندومذہبی کتابوں میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ سراسر کفر وشکر تک پہونچانے والا عمل ہے، تانتریکا میں لکھا ہے : ’’شیوا ہندوستان کے جنگلوں میں یوگی کی حیثیت سے رہا کرتا تھا،وہ یوگا کی مشق کرتے کرتے کائنات کا عظیم خدا بن گیا۔(تانتریکا ص: ۵)شنکرآچاریہ اور یوگی یوگا کے دوران سنسکرت کی جن گیتوں کو لازم قرار دیتے ہیں، وہ بھی سراسر اسلامی عقائد وایمانیات کے منافی ہیں، جو خالق ومخلوق کی تفریق کو مٹاتی ہیں،یوگا اصل میں ویدک اور ہندو جسے سناتن دھرم کہتے ہیں اس کی تہذیب کا خاص حصہ ہے۔
سوریہ نمسکار
یوگا کا ایک اہم ترین حصہ سوریہ نمسکار ہے، یوگی کے لیے ضروری ہے کہ یوگا مشق کی ابتدا اور ا س کے اختتام پر مشرق کی جانب آنکھیں بند کرکے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر سوریہ نمسکار کرے، جو کہ سورج کی پرستش ہی کی ایک شکل ہے، ہندوؤں کے یہاں سورج کوسوریہ بھگوان کہا جاتا ہے، مشرق کی طرف رخ کرکے آلتی پالتی بیٹھ کر سورج کے لیے سلام وآداب کو بجالانا سوریہ نمسکار ہے،جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے،بی کے ایس اینگر نے ویدوں کے حوالہ سے اس کی تعریف میں لکھا ہے کہ پراناماسے جسم اور عقل کی تمام ناپاک چیزیں خارج ہوتی ہیں اور مقدس آگ کے شعلے انھیں توانائی اور رعنائی کے ساتھ پاک کردیتے ہیں، تب ایک شخص دَھرانا اور دِھیانا کے قابل ہوجاتا ہے، اس مقام تک پہونچنے کے لیے طویل مدت درکار ہوتی ہے ۔(Light of Yoga page: 46)بحوالہ یوگاشریعت ِاسلامی کی روشنی میں)
حیدرآباد کے ایک دانشور جناب ابو العزم نے سوریہ نمسکار کا ہندومذہب سے کس قدر گہرا تعلق ہے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے:’’ہندومذہب کے عقائد میں سوریہ پوجا کو بڑی اہمیت حاصل ہے، زندگی کے بیشتر کام طلوع شمس کے رخ کو ملحوظ رکھتے ہوئے کئے جاتے ہیں، ہر روز سورج کی پوجا وپرستش کی جاتی ہے، تمام ہندوؤں کے دروازے مشرق کی طرف کھلتے ہیں، سورج، چاند، ستارے ، زمین،بحر،پہاڑوں اور دریاؤں کی بھی پوجا کی جاتی ہے۔(یوگا شریعت اسلامی کی روشنی میں ص:۵۹)
وندے ماترم
مسلمانوںکو اسلامی تشخص سے محروم کرنے ہندوتوا طاقتوں نے جو ایجنڈا تیار کیا ہے اس کا ایک بنیادی جز مسلمانوں کو وندے ماترم گانے پر مجبور کرنا ہے، یہ مسئلہ بھی مسلمانوں کی حب الوطنی کو بنیاد بنا کر اٹھایا گیا ہے؛جب کہ اس ترانے کا حب الوطنی سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ہندوتوا طاقتوں کی اختراع ہے،اس ترانے پر اس لیے مجبور کیا جارہا ہے کہ یہ ترانہ صریح مشرکانہ عقائد وخیالات پر مشتمل ہے، اس ترانے میں کس قدر غیر اسلامی اور مشرکانہ نظریات کی آمیزش ہے اس کا اندازہ اس کے ترجمے سے کیا جاسکتا ہے،ذیل میں جو ترجمہ دیا جارہا ہے وہ اورنگ زیب ملک کا ہے جو ان کے تحقیقی مقالہ ’’برصغیر میں قومی ترانے -تاریخ واثرات‘‘ میں شامل ہے۔
’’وندے ماترم‘‘
۱- میں تیرا بندہ ہوں اے میری ماں!
اچھے پانی، اچھے پھلوں،بھینی خنک،جنوبی ہواؤں
اور شاداب کھیتوں والی میری ماں!
۲- حسین چاندی سے روشن رات والی
شگفتہ پھلوں والی،گھنے درختوں والی
میٹھی ہنسی، میٹھی زبان والی
سکھ دینے والی، برکت دینے والی میری ماں!
۳- تیس کروڑ گلوں کی پرجوش آوازیں
ساٹھ کروڑ بازؤوں میں سنبھلنے والی تلواریں
کیا اتنی طاقت کے ہوتے ہوئے بھی اے ماں تو کمزور ہے
تو ہی ہمارے بازؤوں کی قوت ہے میں تیرے قدم چومتا ہوں
تو دشمن کے لشکر کی غارت گرہے میری ماں!
۴- تو ہی میرا علم ہے، تو ہی میرا دھرم ہے
تو ہی میرا باطن ہے، تو ہی میرا مقصد ہے
تو ہی جسم کے ا ندر کی جان ہے
تو ہی بازؤوں کی طاقت ہے
دلوں کے اندر تیری ہی حقیقت ہے
تیری ہی محبوب مورتی ہے ایک ایک مندر میں
۵- توہی درگا دس مسلح ہاتھوں والی
تو ہی کملا ہے کنول کے پھولوں کی بہار
تو ہی پانی ہے علم سے بہرہ ورہ کرنے والی
میں تیرا غلام ہوں، غلام کا غلام ہوں
اچھے پانی اچھے پھلوں والی میری ماں!
میں تیرا بندہ ہوں اے میری ماں
ترجمہ کو غور سے پڑھئے پھر خود فیصلہ کیجئے کہ کیا کوئی مسلمان اس ترانے کو پڑھنے کے بعد اپنے دین وایمان پر باقی رہ سکتا ہے؟ ترانے میں واضح الفاظ میں وطن کو معبود کا درجہ دیا گیا ہے جب کہ اسلامی عقیدے کے مطابق لائق عبادت تو خدائے وحدہ لاشریک لہ ہی ہے، اس کے علاوہ کسی کی پرستش کی قطعی اجازت نہیں، عقیدۂ توحید اسلام کا سب سے اساسی عقیدہ ہے، سارے نبیوں نے اپنی قوموں سے یہی دعوت دی،  اعبدوا اللہ ما لکم من إلٰہ غیرہ اے میری قوم! ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں، وندے ماترم میں مادر ِوطن کو کبھی دُرگا ماں اور کبھی کالی کی شکل میں پیش کرکے اس کی پرستش کی دعوت دی گئی ہے۔
پہلی مرتبہ وندے ماترم کو رابندر ناتھ ٹائیگور نے پڑھاتھا اس کے دس سال بعد بنارس کے اجلاس میں سرلہ دیوی چودھرانی نے اسے ترنم سے گایا، اس نظم کو قومی اہمیت تب حاصل ہوئی جب لالہ لجپت رائے نے وندے ماترم نامی ایک جریدہ جاری کیا، کانگریس کے اجلاس میں ٹائیگور نے اس نظم کا دُھن بھی بنایا لیکن جب اس نظم کو قومی علامت بناکر پیش کیا جانے لگا تو خود ٹائیگور نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے ۱۹۳۷ء میں سبھاش چندر بوس کو ایک خط میں لکھا کہ وندے ماترم کا بنیادی عقیدہ دیوی دُرگا کی پرستش ہے اور یہ اتنا واضح ہے کہ اس میں کسی قسم کی بحث کی گنجائش نہیں ہے۔
 اسلام میں وطن سے محبت کو ممنوع نہیں قرار دیا گیا،نبی رحمتﷺ جب مکہ سے مدینہ ہجرت فرمانے لگے تو مکہ کی طرف مڑ کر اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کیااور یوں فرمایا: اے مکہ! اگر تیری قوم مجھے نکلنے پر مجبور نہ کرتی تو میں ہرگز نہ نکلتا، نبی رحمتﷺ نے جب مدینہ کو اپنا وطن بنالیا تو مدینہ سے ٹوٹ کر محبت فرمائی، آپ نے مدینہ کے لیے برکت کی دعا فرمائی، مسلمان جہاں بھی ہوتے ہیں اپنے وطن سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں، لیکن وطن کی پرستش نہیں کرسکتے، مسلمان وطن پسند ہوتا ہے لیکن وطن پرست نہیں ہوسکتا، اس لیے وندے ماترم کے مسئلہ کو لیکر مسلمانوں کی حب الوطنی پر انگشت نمائی کرنا سراسر شرارت ہے،نیز مسلمانوں کو اس کا پابند بھی نہیں کیا جاسکتا، ایسا کسی بھی قسم کا اقدام مذہبی آزادی سلب کرلینے کے مترادف ہے،ملک کی آزادی کے تئیں مسلمانوں کی قربانیاں روزہ روشن کی طرح واضح ہیں ، اگر وندے ماترم ہی وطن سے محبت کی علامت ہے تو سب سے پہلے رابندر ناتھ ٹائیگور کو مورد الزام ٹھہرانا چاہئے ، جنھوں نے جن گن من جیسا قومی ترانہ تحریر کیا، پھر سکھ بھی تو وندے ماترم کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو انھیں غدار وطن کیوں نہیں قرار دیا جاتا۔
TOPPOPULARRECENT