Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / ہندوتوا کا نرم چہرہ جی نرنجن

ہندوتوا کا نرم چہرہ جی نرنجن

حیدرآباد /26 اگست (سیاست نیوز) ترجمان تلنگانہ پردیش کانگریس جی نرنجن نے چیف منسٹر تلنگانہ کی جانب سے مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے’’یوم انضمام‘‘ سرکاری سطح پر نہ منانے کے فیصلہ کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کے سی آر کو نظام کا وارث قرار دیتے ہوئے ٹی آر ایس قائدین کو چیف منسٹر اور حکومت کے خلاف بغاوت کرکے عوامی خواہش کو پورا کرنے کا مشورہ دیا۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے ایک ویڈیو کلپ دکھاتے ہوئے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں جب کے روشیا چیف منسٹر تھے، سربراہ ٹی آر ایس نے 17 ستمبر کو یوم انضمام تقریب سرکاری طورپر منانے کا حکومت سے مطالبہ کیا تھا اور اب ٹی آر ایس کے برسر اقتدار آنے کے بعد اپنے مطالبہ کو عملی جامہ پہنانے کی بجائے چیف منسٹر تلنگانہ نے کریم نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ان کی حکومت مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے یوم انضمام تقریب سرکاری سطح پر نہیں منائے گی۔ انھوں نے چیف منسٹر کے اس بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’67 سال بعد بھی مسلمان اس دن کو ظلم و بربریت کے نام سے یاد کرتے ہیں‘‘۔ چیف منسٹر کی جانب سے اس قسم کا ریمارک بدبختانہ ہے۔ جی نرنجن نے کہا کہ مسلمانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی بجائے انھیں مزید دور کرنا درست نہیں ہے)
یہ تاثر غلط ہے کہ اگر یوم انضمام تقریب سرکاری سطح پر منائی جائے تو فرقہ واریت بڑھے گی اور عوام ایک دوسرے سے دور ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ ریاست حیدرآباد کا انضمام ایک تاریخی دن ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کوئی اس کو لبریشن ڈے، کوئی یوم انضمام اور کوئی یوم دغا کے طورپر منا رہا ہے۔ انھوں نے استفسار کیا کہ تلنگانہ حکومت کو کرناٹک اور مہاراشٹرا کی طرح سرکاری طورپر منانے پر کیوں اعتراض ہے؟۔ اگر 17 ستمبر کو یوم انضمام تقریب سرکاری طورپر نہیں منائی گئی تو ہندوستان کے قانونی اختیارات سے انحراف کے مماثل ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ حیدرآباد کے انضمام کی مخالفت کرنے والے افراد ہی سرکاری طورپر تقریب منانے کی مخالفت کرتے ہیں، جب کہ چیف منسٹر کا تازہ فیصلہ مخالفین کی مدافعت کے مترادف ہے۔ انھوں نے  چیف منسٹر تلنگانہ سے وضاحت طلبی کہ کیا آپ قاسم رضوی کے وارث ہیں؟ کیونکہ اس وقت قاسم رضوی کی قیادت میں رضا کاروں نے اس انضمام کی مخالفت کی تھی۔ انھوں نے ٹی آر ایس قائدین، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل اور ارکان پولیٹ بیورو کو چیف منسٹر پر دباؤ ڈال کر عوامی خواہش کو پورا کرنے کا مشورہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT