Tuesday , December 11 2018

ہندوتوا کی سیاست ہندوستان کی ترقی میں رکاوٹ۔ جسٹس کیہر

NEW DELHI, INDIA - MAY 10: Chief Justice of India JS Khehar during the moving towards digital and paperless court programme which aims at serving as a digital repository for case-related information, at Vigyan Bhawan, on May 10, 2017 in New Delhi, India. Modi used his government?s favourite tagline ?desh badal raha hai? (nation is changing) to drive home the point of changing mindsets with regard to work culture in the country. (Photo by Sushil Kumar/Hindustan Times via Getty Images)

نئی دہلی۔ایودھیا تنازع کے حل کے لئے ثالثی کی پیش کش کرنے والے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جگدیش سنگھ کیہر نے ایک بار پھر سے اس تنازع کے پرامن حل پر زوردیتے ہوئے کہاکہ ہندوتوا کی سیاست ملک کے عالمی طاقت بننے کی راہ میں حائل ہوسکتی ہے۔ جسٹس ( ریٹائرڈ) کیہر نے کہاکہ 1947میں تقسیم کے دوران ہندؤوں اور مسلمانوں نے بھیانک تشدد کا دردبرداشت کیاتھا۔

آزادی کے بعد ہندوستان جہاں سکیولر ملک بنا وہیں پر پاکستان نے اسلامی ملک بننے کی راہ اختیار کی تھی۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان کے سابق لیڈروں نے یہ یقینی بنایاتھا کہ ملک میں مکمل سکیولرازم ہو‘ لیکن اب ہم ایک بار پھر اسے بھولنے لگے ہیں اور جیسے کو تیسا کی راہ پر چل پڑے ہیں۔

سابق وزیر اعظم انجہانی لال بہادر شاستری کی برسی کے موقع پر یہاں نہرو میوزیم میں منعقدہ 14یں یادگار خطبہ میں انہوں نے کہاکہ ہندوستان عالمی بننے کی آرزو رکھتا ہے۔ عالمی منظر نامہ میں اگر آپ مسلم ملکوں کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھاناچاہتے ہیں تو آپ واپس اپنے ملک میں مسلم مخالف نہیں بن سکتے ۔ اگر آپ عیسائی ملکوں کے ساتھ مضبوط رشتے قائم کرنا چاہتے ہیں تو آ پ عیسائی مخالف ملک نہیں بن سکتے۔

آنجہانی شاستری کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 1965کی ہند پاک جنگ کے دوران کامیابی کے ساتھ ملک کی قیادت کرنے والے ہندوستان کے دوسرے وزیر اعظم کہاکرتے تھے کہ ہندوستان مذہب کو سیاست میں شامل نہیں کرتا ہے۔ سابق چیف جسٹس نے کہاکہ آپ مسائل کو جنگ سے حل نہیں کرسکتے ۔ اس کے لئے آپ کو امن اور بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔یوروپ اور دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلہ ہندوستان میں اس کا امکان زیادہ ہے۔

یہی وجہہ کہ جب میں ملک کا چیف جسٹس تھا تو میں نے تجویز دی تھی کہ ایودھیا مسئلہ پر بات چیت ہوتی ہے تو ثالثی کے لئے تیار ہیں۔ ملک میں ہوئے گھوٹالہ کو شرمناک قراردیتے ہوئے انہو ں نے کہاکہ ہر منقولہ جائیداد کی فروخت میں 30سے 40 فیصد حصہ کالے دھن کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT