Friday , February 23 2018
Home / مضامین / ہندوستان، ہندو پاکستان کی طرف گامزن ؟

ہندوستان، ہندو پاکستان کی طرف گامزن ؟

 

سدانند دھومے
آیا ہندوستان کے ایک ہندو پاکستان بننے کا خطرہ لاحق ہے؟ یہ ایسا سوال ہے جس پر واشنگٹن میں کبھی سنجیدگی سے غور کرنے کو مضحکہ خیز تصور کیا جاتا تھا لیکن بعد میں خاص طور پر حالیہ عرصہ کے دوران اس سوال نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے۔ ایک ہندوستانی کیلئے یہ سوال ایک سخت جذباتی ردعمل یا جواب کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سوال کو انتہائی گہری تشویش کا باعث سمجھنے والے اس پر سخت گیر موقف اختیار کریں گے اور دوسرے ایسے بھی ہیں مذکورہ سوال پر جن کی گہری تشویش سامنے آسکتی ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے اس ضمن میں اپنا نقطہ نظر پیش کرنے دیجئے کہ سرکاری طور پر سیکولر جمہوریہ ہند کی مشکل یہ ہے کہ اس پر جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا رنگ چڑھا ہوا دیکھا جارہا ہے ، اس کا آئنہ بنا نظر آرہا ہے وہ تصور کسی قدر غائب ہورہا ہے یا نہیں۔
کیا ہندوستان ایک ہندو پاکستان بن رہا ہے اس سوال پر غور کرنے کیلئے سب سے پہلے آبادی کی ساخت پر غور کرنا ہوگا، جہاں تک ہندوستان کی آبادی کا سوال ہے ملک کی اکثریت ہندو آبادی کا 1/5 واں حصہ مذہبی اقلیتوں پرمشتمل ہے۔ پہو ریسرچ سنٹر نے اس بات کی پیش قیاسی کی ہے کہ سال 2050 تک ہندو مذہبی اقلیتوں کی آبادی بڑھ کر ایک چوتھائی ہوجائے گی۔ اس کے برعکس پاکستان کی96 فیصد آبادی مسلم ہے اور اس میں صرف ایک اقلیتی گروپ شیعہ فرقہ کا ہے۔ پاکستان کی 208 ملین یا28 کروڑ آبادی میں شیعوں کی آبادی 10 تا 15 فیصد ہے۔ زیر بحث مسئلہ پر ملکوں کے اصول قیام بھی اہمیت رکھتے ہیں۔1950 میں ہندوستان ایک سیکولر جمہوری ملک کی حیثیت سے منظر عام پر آیا۔اسے 15 اگسٹ 1947کو آزادی حاصل ہوچکی تھی۔ 1975 میں ایمرجنسی کے دوران اندرا گاندھی نے دستور کی تمہید میں لفظ سیکولر کو جوڑا۔ اس دور میں اندرا گاندھی نے ملک میں جمہوریت کو معطل کرکے رکھ دیا تھا جس سے ان کی کافی بدنامی ہوئی تھی لیکن ایک بات ضرور ہے کہ اپنی تیاری کے ساتھ ہی ہندوستانی دستور نے قانون کی نظروں میں بلالحاظ مذہب و ملت، رنگ و نسل، ذات پات سب کو برابری کی ضمانت دی ہے۔ ہمارے دستور نے اپنے تمام شہریوں کو عبادت کی آزادی بھی عطا کی ہے اور کسی بھی عہدہ اور دفتر کو مذہب سے بالاتر رکھا ہے۔ اس کے برخلاف 1949کے اوائل میں پاکستان قانون ساز اسمبلی میں مملکت کے اغراض و مقاصد سے متعلق جو قرارداد منظور کی گئی اس میں واضح طور پر کہا گیاہے کہ مسلمان اجتماعی اور انفرادی طور پر قرآن اور سنت میں بتائی گئی تعلیمات کے مطابق زندگی گذاریں گے۔

فرح ناز نے اپنی انگریزی کتاب Purifying the Land of the Pure,Pakistani Religious Minoritiees میں لکھتی ہیں کہ پاکستان کی مذکورہ قرارداد دراصل ملک کومزید اسلامیانے کی سمت پہلا قدم تھا اور کئی دہوں سے اس پر عمل بھی ہورہا ہے۔ پاکستانی قانون کے مطابق صرف ایک مسلمان ہی ملک کا صدر یا وزیر اعظم بن سکتاہے کسی اور مذہب کے ماننے والے کو ان عہدوں پر فائز ہونے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اگر اس حقیقت پر غور کیا جائے تو ہندوستانی سیکولر پسندوں کو ان نظریاتی چیلنجز کا سامنا نہیں ہے جو ان کے ہم منصبوں ( پاکستانی سیکولرسٹس ) کو ہے ۔ سنگھ پریوار کے ہندو قوم پرست مسلمانوں اور عیسائیوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ان میں پاکستان کے راسخ العقیدہ اور مذہبی تنظیموں کی طرح مملکت اور معاشرہ کے تمام پہلو کو اسلامی آداب و تعلیمات کے عین مطابق گذارنے کی جدوجہد کا فقدان ہے یعنی سنگھ پریوار کی قوم پرست تنظیموں میں پاکستان کے مذہبی جماعتوں کی طرح کٹر مذہبی جدوجہد کا فقدان پایا جاتا ہے۔ اسلام پسند اپنے ملک میں قانون شریعت کے مطابق حکومت پر زور دے سکتے ہیں۔ پاکستان میں نفاذ شریعت کے مطالبات بھی کئے جاتے رہے ہیں۔ لیکن خوش قسمتی سے ہندوستان میں اکثر کٹر مذہبی جنونیوں نے تک 21 ویں صدی کی زندگی کو مانو کے قدیم قوانین کے تحت گذارنے کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی خواہش کی اور یہ ہندوستان کی بحیثیت مجموعی بھلائی کیلئے ہے۔ لیکن اقلیتوں سے متعلق ہندوستان کے بارے میں جو تاثر پایا جاتا ہے کہ اس کا ریکارڈ اپنے مغربی پڑوسیوں سے بہتر ہوگا حقیقت میں پوری طرح بہتر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہمیں یہ ناخوشگوار حقیقت بھی تسلیم کرنی پڑے گی کہ بعض طریقوں سے ہندوستان نے پاکستان کے بہترین پہلوؤں کی نقل کرنی شروع کردی ہے۔ مثال کے طور پر ایک مذہبی اقلیت کے خلاف تشدد کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں تساہل اور مجرمانہ غفلت ہمارے سامنے ہے۔ ہندوگاؤ رکھکشوں نے ملک کے کئی مقامات پر مسلمانوں کو ہجوم کی شکل میں تشدد کا نشانہ بناکر انہیں موت کے گھاٹ اُتاردیا لیکن ابھی تک ان واقعات میں کسی قاتل کو سزا نہیں ہوئی۔ بض واقعات میں جیسا کہ سال 2015 میں اتر پردیش میں پیش آئے محمد اخلاق کا قتل واقعہ ہے، اخلاق کے قاتلوں کوسزائیں دینے کا مطالبہ کرنے کے بجائے بااثر اور طاقتور سیاستدانوں نے مقتول اخلاق کے ارکان خاندان کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

ہندوستان میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کنونشن کے بتدریج محدود کئے جانے کے عمل پر غور کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ اس خطرناک رجحان میں اضافہ ہوا ہے اور ہندوستانی سیکولرسٹس بھی اپنے پاکستانی ہم منصبوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں، وہ پیدا ہونے والی برہمی پر صرف توجہ مبذول کرواسکتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال راجستھان کے ڈیری کسان بہلول خان قتل واقعہ ہے۔ پہلو خان کو گاؤ رکھکشوں نے دن دھاڑے مصروف ترین سڑک پر روک کر ہجوم کی شکل میں نشانہ بنایا اور اس نے تڑپ تڑپ کر اپنی جان دے دی۔ پہلو خان کے قتل پر ہندوستان کے سیکولر پسندوں نے برہمی کا اظہار کیا لیکن اس قسم کے واقعات کے خلاف رائے عامہ بنانے کی صلاحیتیں کارگر ثابت نہ ہوسکیں۔ چیف منسٹر وسندھرا راجے اور ان کی حکومت پر پہلو خان یا عمر خان کے قتل کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ حالانکہ اس طرح کے واقعات کے اثرات انتخابات پر مرتب ہونے کی باتیں کی جاتی ہیں۔

راجستھان میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ،اگر دیکھا جائے تو ان دونوں مسلمانوں کی جانوں کا تحفظ وسندھراراجے حکومت کا فرض تھا لیکن تمام ثبوت و شواہد کے باوجود راجستھان پولیس نے پہلو خاں کے قاتلوں کو کلین چٹ دے دی۔ ہندوستان کے مختلف مقامات پر گاؤ رکھشک اس طرح کام کرنے لگے ہیں جس طرح پاکستان میں مذہبی جنونی توہین رسالت قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے توہین رسالت کے الزامات عائد کرکے کسی کو بھی ہجوم کی شکل میں تشدد یا پھر موت کا نشانہ بناتے ہیں۔ جاریہ ماہ کے اوائل میں عالمی خبررساں ادارہ رائٹرس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں گاؤ رکھشکوں نے مسلمانوں سے جانور چھین لئے اور ان پر حملے بھی کئے۔ ایسا لگتا ہے کہ جانوروں سے متعلق تشدد کے خاتمہ کیلئے وزیراعظم نریندر مودی کی اپیل کارگر ثابت نہیں ہوگی بلکہ مودی کی اپیل کے بعد تحفظ گاؤ کے نام پر مسلمانوں پر حملوں کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔اسلامو فوبیا کی اصطلاح کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اصطلاح فاشسٹوں کی جانب سے تخلیق کردہ بزدلوں کی جانب سے استعمال کردہ لفظ ہے جس کے ذریعہ بیوقوفوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ایسا ہی اب ہندو قوم پرستوں کی نئی نسل نے ہندو فوبیا کی اصطلاح کو سرگرمی کے ساتھ فروغ دینا شروع کیا ہے اس کے پیچھے ان کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ یہ صرف اور صرف اہم تحقیقات کو بند کرنے اور سازشی نظریات اور خودترسی کے تباہ کن کلچر کے فروغ کا باعث بنے گی۔ ہندوستان میں ہندو قوم پرست، اسلام پسندوں کے سیکولرازم کا ہندو ورژن پیش کرنے کی خواہاں ہیں۔

یہ ایک خطرناک اسلامی اختراع ہے جو جنونیوں نے گھڑی ہے جس کے ذریعہ دوسرے مسلمانوں کو کافر قرارد یتے ہیں۔ ایسے ہی قوم پرست ہندو اس کی نقل کرتے ہوئے ان کے موقف کی مخالفت کرنے والے ہندوؤں کو غیر ہندو قرار دینے لگے ہیں۔ ان تمام حقائق کے باوجود یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ ہندوستان ایک ہندو پاکستان بن جائے گا، لیکن بعض ہندو قوم پرستوں کی جانب سے پاکستان کے کٹرمذہب پسندوں کے نظریات کی نقل بلکہ ان کے نظریات کا سرقہ کرنے کی تیاری سے ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کے مستقبل کے بارے میں جو شکوک و شبہات ظاہر کئے جارہے ہیں وہ تمام کے تمام غیر درست نہیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT