Tuesday , April 24 2018
Home / Top Stories / ’ہندوستانی انتخابی عمل میں فیس بک کی مداخلت ناقابل برداشت‘

’ہندوستانی انتخابی عمل میں فیس بک کی مداخلت ناقابل برداشت‘

سوشیل میڈیا ادارہ کے سربراہ زکر برگ کیخلاف سخت کارروائی کا انتباہ : روی شنکر پرساد
2019ء کی انتخابی مہم کیلئے کانگریس
پر امریکی ادارہ سے سازباز کا الزام

نئی دہلی ۔ 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے فیس بک جیسے سوشیل میڈیا پلٹ فارمس کو وارننگ دی ہیکہ ناپسندیدہ اور غیرمطلوبہ ذرائع سے ایک ملک کے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کسی بھی کوشش کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ فیس بک کی طرف سے استعمال کنندہ کی رازداری کو لاحق خطرات کے مسئلہ پر شخصی رازداری سے متعلق امریکی نگراں ادارہ کی تحقیقات کے درمیان وزیرانفارمیشن ٹیکنالوجی روی شنکر پرساد نے کہا ہیکہ آزادی صحافت، آزادی اظہارخیال، کی حکومت مکمل تائید کرتی ہے اور سوشیل میڈیا پر نظریات کے تبادلے کی حمایت کرتی ہے لیکن بشمول فیس بک کسی بھی سوشیل میڈیا ادارہ کی طرف ناپسندیدہ غیرمطلوبہ ذرائع سے ملک کے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوئی بھی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔ روی شنکر پرساد نے جو پارلیمنٹ کے باہر اخباری نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے۔ اس ضمن میں واضح طور پر کہا کہ ’’اگر ضروری ہو تو سخت قدم بھی اٹھایا جائے گا‘‘۔ امریکی وفاقی تجارتی کمیشن (ایف ٹی سی) نے جو امریکہ کا ایک آزاد سرکاری ادارہ ہے، اس بات پر تحقیقات میں مصروف ہیکہ آیا فیس بک نے اتفاق و رضامندی سے متعلق 2011ء کے سرکاری حکمنامہ کی کوئی خلاف ورزی تو نہیں کی ہے کیونکہ بعض میڈیا رپورٹس نے الزام لگایا ہیکہ فیس بک کی جانب سے اس کے لاکھوں استفادہ کنندگان کی تفصیلات سیاسی کنسلٹینسی اداروں کے حوالے کی گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس یہ الزام عائد کیا گیا ہیکہ کیمبرج انالٹیکا نے 2006ء کے دوران فیس بک کی طرف سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کیلئے کی گئی ووٹرس ریسرچ کا استعمال کیا تھا۔ روی شنکر پرساد نے الزام عائد کیا کہ کیمبرج انالیٹکا سے کانگریس کے روابط ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’کانگریس پارٹی سے میرے سوال ہیکہ آیا وہ انتخابات جیتنے کیلئے ڈاٹا میں توڑجوڑ یا پھر ڈاٹا کی چوری پر انحصار کررہی ہے؟‘‘۔ روی شنکر پرساد نے یہ سوال بھی کیا کہ ’’راہول گاندھی کے سوشیل میڈیا پروفائیل میں کیمبرج انالٹیکا کا کیا رول ہے‘‘ ؍ ہوسکتا ہے‘‘۔ بی جے پی لیڈر نے الزام عائد کیا کہ 2019ء میں کانگریس کی انتخابی مہم چلانے کیلئے کیمبرج انالٹیکا اس سے سازباز کررہی ہے اور انہیں میڈیا کے ایک گوشہ میں ان کا ’’بھرا مسترد‘‘ قرار دیا۔ جن پر فیس بک سے استعمال کنندگان کے ڈاٹا کا سرقہ کرنے اور سیاستدانوں کو پھنسانے کیلئے رشوت کے علاوہ سیکس ورکرس (جسم فروش فاحشاؤں) کو استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا جارہا ہے۔ روی شنکر پرساد نے کہا کہ 20 کروڑ ہندوستانی فیس بک کا استعمال کرتیہ یں اور ان استعمال کنندگان نے اس ملک کو امریکہ کے باہر دنیا کا سب سے بڑا مارکٹ بنادیا ہے۔ انہوں نے سوشیل میڈیا کے سرکردہ ادارہ فیس بک اور اس کے سربراہ مارک زکر برگ کو خبردار کیا ہیکہ ڈاٹا کے افشاء یا اعتمادشکنی کی صورت میں انہیں ہندوستانی آئی ٹی قانون کے تحت مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔ پرساد نے خبردار کیا کہ ’’مسٹر زوکر برگ ہندوستان کے وزیر آئی ٹی کی تاثرات کا آپ اچھی طرح نوٹ لیں۔ ہندوستان میں ہم فیس بک پروفائیل کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن ایف بی سسٹم سے سازباز کے ذریعہ اگر ہندوستانیوں کے ڈاٹا کی چوری ہوتی ہے تو اس کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آئی ٹی قانون کے تحت ہمیں سخت اختیارات حاصل ہوگئے ہیں جنہیں ہم استعمال کرسکتے ہیں۔ جن میں ہندوستان میں حاضری کیلئے آپ کے نام سمن جاری کرنا بھی شامل ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT