Wednesday , December 13 2017
Home / ہندوستان / ہندوستانی انتخابی مہم میں پہلی مرتبہ غیر ملکی ادارے کا عمل دخل!

ہندوستانی انتخابی مہم میں پہلی مرتبہ غیر ملکی ادارے کا عمل دخل!

اپوزیشن جماعت سے ڈیٹا کمپنی کیمبرج انلائٹیکا نے ربط قائم کیا
امریکی مہم میں سوشل میڈیا کے ذریعہ ٹرمپ کو کامیابی دلانے میں اہم رول، رائے دہندوں کو راغب کرنے انوکھی حکمت عملی

نئی دہلی۔5 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) انٹرنیشنل ڈیٹا مائننگ اینڈ انلائسس کمپنی کیمبرج انلائٹیکا نے ہندوستان میں بھی داخلہ حاصل کرلیا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ وہ 2019ء مجوزہ عام انتخابات کے سلسلہ میں یہاں کی سب ایک بڑی اپوزیشن جماعت سے ربط میں ہے۔ اس کمپنی نے ڈونالڈ ٹرمپ کو امریکی صدارتی انتخابات میں کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ یہ کمپنی سوشل میڈیا اور دیگر کمیونکیشن ذرائع سے استفادہ کرتے ہوئے مخصوص گروپ کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔ کیمبرج انلائٹیکا نے اگسٹ میں ہندوستان کی ایک پارٹی کے روبرو پریزنٹیشن دیا جس میں بتایا گیا کہ کس طرح ڈیٹا کو یکجا کرتے ہوئے مختلف شہریوں کو باہم مربوط کیا جاتا ہے اور ان تک اپنا پیغام پہنچایا جاتا ہے۔ اس کمپنی نے ہندوستانی سیاسی جماعت کے لیے بھی ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس میں ’’نیشنل ڈیٹا انفراسٹرکچر پراجیکٹ‘‘ کی تعمیر بھی شامل ہے تاکہ منصوبہ بند انداز میں شہریوں تک اپنا پیغام پہنچایا جاسکے۔ اس کے علاوہ داخلی اور خارجی ذرائع سے استفادہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عوام تک رسائی حاصل کی جائے۔ کمپنی نے اس سیاسی جماعت کی نشاندہی کرنے سے انکار کیا۔ اس ضمن میں کیمبرج انلائٹیکا کو روانہ کیے گئے ای میل کا جواب نہیں دیا گیا۔ پریزنٹیشن دیتے ہوئے کمپنی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ 2014ء میں بی جے پی کو کامیابی دلانے میں سوشل میڈیا نے اہم رول ادا کیا ہے۔ اس کمپنی نے اپوزیشن جماعت سے کہا ہے کہ وہ 2019ء عام انتخابات کے لیے ڈیٹا سے مربوط لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے بہتر نتائج حاصل کرسکتی ہے۔ ویسے ہندوستان میں کرناٹک، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں عنقریب اسمبلی انتخابات شروع ہونے والے ہیں۔ کمپنی نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ وہ پارٹی کے لیے مخصوص موبائل ایپ تیار کرے گی جس میں اس بات کا پتہ چل سکے گا کہ پارٹی کے کسی مخصوص رکن نے انتخابات میں کس حد تک مظاہرہ کیا اور مقامی مسائل کے علاوہ حریفوں کا موثر مقابلہ کرنے میں کس رکن نے کیا رول ادا کیا؟ اگر اپوزیشن جماعت اس کمپنی کے ساتھ پارٹنرشپ کو یقینی بناتی ہے تو پھر یہ پہلی غیر ملکی کمپنی ہوگی جسے ہندوستان میں کسی سیاسی جماعت کے انتخابی امور کی ذمہ داری تفویض کی جائے گی۔ کیمبرج انلائٹیکا نے دائیں بازو کے ارب پتی رابرٹ مرسر کی تائید کی تھی۔ اس کے علاوہ وہ دائیں بازو تحریکوں اور پارٹیوں کی تائید کے لیے شہرت رکھتی ہے۔ کیمبرج انلائٹیکا کا دراصل 2013ء میں قیام عمل میں آیا۔ یہ دراصل برطانوی فرم اسٹریٹجک کمیونکیشن لیباریٹریز کا ایک حصہ ہے جو دنیا بھر میں حکومتوں اور فوجی اداروں کو ڈیٹا، تجزیہ و لائحہ عمل فراہم کرتی ہے۔ بی جے پی نے بھی 2014ء عام انتخابات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اسی طرح کا ڈیٹا تجزیاتی ماڈل اختیار کیا تھا۔ اس کے ذریعہ ان بی جے پی حامیوں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے جو ایسے رائے دہندے کے قریب ہوں جس نے اپنے ووٹ کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا ہے۔ کیمبرج انلائٹیکا ایک بڑی ڈیٹا کمپنی ہے اور اس نے ٹرمپ کے لیے آن لائین انتخابی مہم چلاتی ہوئے کافی شہرت حاصل کی۔ وہ بریگزٹ مہم کے دوران بھی ’’یوروپی یونین چھوڑدو‘‘ مہم میں بھی شریک رہی ہے۔ یہ کمپنی مختلف ذرائع جیسے رجسٹرار، آٹوموٹیو ڈیٹا، شاپنگ، بونس کارڈ، کلب ممبرشپ اور میگزین وغیرہ کے علاوہ عبادت خانوں میں خانوں والوں کی تفصیلات اکٹھا کرتے ہوئے شخصی معلومات فراہم کرتی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ کمپنی کینیا اور میکسیکو میں بھی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں سے ربط رکھے ہوئے ہے۔

TOPPOPULARRECENT