Monday , December 11 2017
Home / عرب دنیا / ہندوستانی تارکین وطن کی خدمات کا اعتراف

ہندوستانی تارکین وطن کی خدمات کا اعتراف

حکومت سعودی عرب کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت
جدہ۔20ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سعودی عرب میں  27لاکھ 30ہزار  ہندوستانی تارکین وطن کی خدمات کو جو اُن کے ملک میں برسرکار ہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ ملک کے تیسرے سب سے بڑے ایئرپورٹ پر ہندوستانی تارکین وطن کو سلام کرنے اور ہندی میں اُن کا استقبال کرنے سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے۔ حکومت سعودی کے ایک سینئر عہدیدار نے کہاکہ ہم تارکین وطن کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں ‘ ہندوستان کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات بہت اہم ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہے پہنچا ہے ۔ حکومت سعودی عرب نے ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات کی اہمیت کے ثبوت کے طور پر ملک عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تعینات اپنے ارکان عملہ کو ہندوستانی تارکین وطن کا استقبال ہندی الفاظ نمستے ‘ سواگت اور دھنیواد جیسے الفاظ سے کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ہندی زبان کو ملک عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عربی کے بعد دوسرا مقام دیا جارہا ہے ۔ بعدازاں انگریزی تیسرے مقام پر ہے ۔ سلام اور مبارکباد کے الفاظ ہندی میں ادا کرنے سے اور برقی پیغامات کے بورڈس پر ایئرپورٹ کے احاطہ میں ہندی الفاظ استعمال کرنے سے ہند ۔ سعودی عرب تعلقات کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے ۔ یہاں تک کہ پارکنگ فیس کے کاؤنٹرس پر بھی ہندی الفاظ ہی استعمال کئے جاتے ہیں ۔

تیل کی دولت سے مالا مال مملکت سعودی عرب نے 27 لاکھ 30ہزار ہندوستانی تارکین وطن ہیں ۔ سعودی معیشت کے ہر شعبہ میں اعلیٰ سطحی سائنٹیفکس اور تحقیقی کاموں سے لیکر تعمیراتی شعبہ کے کاموں میں ہندوستانی تارکین وطن نے قابل قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ سرکاری عہدیدار نیج کہا کہ ہندوستان ۔ سعودی باہمی تعلقات کے استحکام میں تارکین وطن کا اہم کردار ہے ۔ عوامی تصور کے برعکس سعودی عرب جانے والے بیشتر ہندوستانی مزدور پیشہ ہوتے ہیں ۔ سعودی عرب میں پانچ لاکھ ہندوستانی تارکین وطن برسرکار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ہندوستان کے باہمی تجارتی تعلقات 25ارب امریکی ڈالر مالیتی 2010-2011ء میں تھے جو 2013-14ء میں 48ارب امریکی ڈالر مالیتی ہوچکے ہیں ۔ عہدیدار نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کثیر جہتی ہیں ۔ہمارے باہمی تجارتی تعلقات میں مسلسل توسیع ہورہی ہے اور اس سے دونوں ممالک کے مسلسل تبادلہ خیال اور تعاون میں استحکام آرہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT