Sunday , January 21 2018
Home / Top Stories / ہندوستانی دیہات پاکستانی فائرنگ کا نشانہ، بھاری شلباری

ہندوستانی دیہات پاکستانی فائرنگ کا نشانہ، بھاری شلباری

جموں، 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سرحدی اضلاع کٹھوا اور سامبا میں 60 سے زیادہ دیہاتوں کو اور کئی ہر اول چوکیوں کو پاکستان کی طرف سے آج زبردست مارٹر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا اور اس طرح جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے۔ تقریباً 10 ہزار افراد سرحدی علاقوں سے فرار ہوچکے ہیں۔ اُن میں سے 7500 حکومت کی جانب سے کٹھوا اور سامبا اضلاع کے محفوظ عل

جموں، 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سرحدی اضلاع کٹھوا اور سامبا میں 60 سے زیادہ دیہاتوں کو اور کئی ہر اول چوکیوں کو پاکستان کی طرف سے آج زبردست مارٹر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا اور اس طرح جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے۔ تقریباً 10 ہزار افراد سرحدی علاقوں سے فرار ہوچکے ہیں۔ اُن میں سے 7500 حکومت کی جانب سے کٹھوا اور سامبا اضلاع کے محفوظ علاقوں میں قائم پناہ گاہوں میں پناہ گزین ہیں۔ یہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا تازہ دور ہے جو سالِ نو کی شام سے شروع ہوا۔ ہند ۔ پاک سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ڈائرکٹر جنرل بی ایس ایف وی کے پاٹھک نے کہاکہ ہندوستان سرحد پر امن چاہتا ہے لیکن کسی بھی کارروائی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا پاکستان کی جانب سے تازہ مرحلہ 4 فوجیوں اور ایک خاتون کی ہلاکت کی وجہ بنا جبکہ 5 پاکستانی رینجرس بی ایس ایف کی جوابی فائرنگ میں ہلاک ہوگئے۔ 50 دیہات اور سرحد پر قائم کئی چوکیاں پاکستانی فائرنگ کا نشانہ بنیں جس کا آغاز اتوار کی رات 11بجے سے ہوا تھا۔

شلباری آج صبح 4 بجے سے شروع ہوگئی۔ ڈپٹی کمشنر کٹھوا شاہد اقبال چودھری نے کہاکہ فائرنگ شدید تھی۔ مارٹر کے شیلس ہندوستانی سرزمین میں تقریباً 4 کیلو میٹر کے فاصلے پر گر رہے تھے۔ 82 ملی میٹر مارٹر کے شیلس شیرپور، شکرا، لچی پور اور لونڈی کے علاقوں میں ہیرانگر سیکٹر میں گرے جو ہندوستانی سرزمین پر سرحد سے کافی فاصلہ پر واقع ہے۔ بی ایس ایف کے جوانوں نے جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجہ میں آج صبح 7 بجے تک فائرنگ جاری تھی۔ تاہم کسی بھی شہری کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ پاکستان کی شلباری گزشتہ شب 10.30 بجے شروع ہوئی جس میں 10 تا 12 دیہاتوں اور کئی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایس ایس پی سامبا انیل مگوترا نے کہاکہ اگر اُن کی جانب سے فائرنگ کی جاتی ہے تو ہم یقینی طور پر جواب دیں گے کیونکہ ہم اُن کی گولیاں کھانے کے بعد خاموش نہیں رہ سکتے۔ کئی شہری زخمی ہوگئے ہیں، ہم خاموش نہیں رہیں گے، ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ پاکستانی رینجرس جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بارے میں احتجاج تسلیم نہیں کررہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مواصلاتی ربط برقرار نہیں ہے۔

ہند کا احتجاجی نوٹ قبول کرنے سے پاکستان کا انکار
پاکستانی فائرنگ پر ہندوستان جوابی کارروائی کیلئے مجبور : بی ایس ایف
جموں۔ 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بارڈر سکیورٹی فورسیس نے آج کہا کہ پاکستانی فورسیس، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر ہندوستان کے احتجاجی نوٹس قبول نہیں کررہے ہیں اور جانبین کے درمیان کوئی مواصلاتی رابطہ نہیں ہے۔ بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل ڈی کے پاٹھک نے کہا کہ ’’ہم سرحد پر معمول کے حالات بحال کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں جوابی کارروائی کے لئے مجبور کیا جارہا ہے کیونکہ پاکستانی رینجرس ہم پر فائرنگ پر اُتر آئے ہیں‘‘۔ پاٹھک نے مزید کہا کہ ’’جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر پاکستانی رینجرس ہندوستان کے احتجاجی نوٹس قبول نہیں کررہے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان کوئی مواصلاتی رابطہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی ممکن ہے کہ پشاور سانحہ سے عوام کی توجہ ہٹانے اس (پاکستان) کی کوشش ہوسکتی ہے۔ جموں و کشمیر کے اضلاع سامبا اور کتھوا کے 60 دیہاتوں میں متعدد سرحدی چوکیوں پر پاکستانی رینجرس کی شلباری اور فائرنگ سے خوفزدہ تقریباً 10,000 افراد اپنے گھر چھوڑ کر فرار ہوچکے ہیں۔ سال نو کے موقع پر پاکستانی رینجرس کے مورٹار حملوں اور شلباری ایک خاتون اور بی ایس ایف کے چار جوان ہلاک ہوگئے تھے۔ ہندوستان کی جوابی کارروائی میں 5 پاکستانی رینجرس ہلاک ہوئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT