Wednesday , November 22 2017
Home / کھیل کی خبریں / ہندوستانی ریلوے کے ایک باکسر نے محمد علی کو حیرت میں ڈال دیا تھا

ہندوستانی ریلوے کے ایک باکسر نے محمد علی کو حیرت میں ڈال دیا تھا

’’ائے چھوٹے آدمی ! تم مجھ سے لڑیں گے، دائیں ہاتھ سے پھینک دو تو اسٹیڈیم کے باہر گر پڑوگے‘‘
نئی دہلی۔ 4 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانیوں کو 1980ء میں افسانوی باکسر محمد علی کے نمائش باکسنگ مقابلے دیکھنے کا موقع ملا تھا جو اندرا گاندھی کی مابعد ایمرجنسی منعقدہ لوک سبھا انتخابات میں بدترین ہزیمت کے بعد 1980ء میں شاندار کامیابی کے ساتھ اقتدار پر دوبارہ واپسی کے موقع پر ’عظیم ترین سے عظیم ترین تک‘ کے زیرعنوان نئی دہلی، ممبئی اور چینائی میں یہ مقابلے منعقد ہوئے تھے۔ لندن میں مقیم این آر آئی صنعت کار لارڈ سوراج پال کی دعوت پر محمد علی نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ لارڈ سوراج نے افسانوی باکسر کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ یقینا ایک افسانوی شخصیت تھے۔ انہیں ایکشن میں دیکھ کر ہندوستانی عوام جھوم اٹھے تھے‘‘۔ محمد علی اپنے فن اور مزاج کے سبب باکسنگ رنگ اور اس کے باہر بھی یکساں مقبول تھے۔ چند ہندوستانی باکسرس کو بھی 1980ء کے دورے کے موقع پر محمد علی کے ساتھ مکوں کے تبادلہ کا موقع ملا تھا۔ ان میں ٹاملناڈو کے رینڈولف پیٹرس بھی ہیں جنہیں محمد علی کے ساتھ مکے بازی کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ پیٹرس کہتے ہیں کہ وہ محمد علی کے چہرہ پر عیاں حیرت کو اب بھی نہیں بھول سکے ہیں جب انہوں (پیٹرس) نے عالمی چمپین سے علامتی باکسنگ مقابلے کی درخواست کی تھی۔ پیٹرس نے جو اب 63 سال کے ہوچکے ہیں، دلچسپ واقعہ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ’’میں اس وقت ریلوے میں فیدر ویٹ چمپین تھا۔ عمر 25 سال تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ افسانوی باکسر سے ایک کے بعد دیگر ہم سب ہاتھ ملا رہے تھے۔ جب میری باری آئی، مَیں نے ایک علامتی باکسنگ مقابلے کی درخواست کی، انہیں (محمد علی کو) بے انتہا حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا کہ تم! چھوٹے (سے) آدمی تم مجھ سے لڑنا چاہتے ہو؟ میں تمہیں داہنے ہاتھ سے دھکیل دوں تو تم اُڑتے ہوئے اسٹیڈیم کے باہر گر پڑوگے‘‘۔ پیٹرس نے کہا کہ ’’محمد علی کی حیرت اور الفاظ پر میں بس مسکرادیا اور واپس پہونچ کر اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔ (سابق ہیوی ویٹ چمپین جمی ریلس کے ساتھ) مقابلے کے بعد محمد علی نے از راہ مذاق چند مقامی افراد کو مدعو کیا ، سب کے ساتھ میں بھی پہونچا۔ وہ مجھے دیکھ کر آگے آئے اور دو منٹ میرے ساتھ رہے۔ انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور میں خوشی کی انتہا نہ رہی۔ بعدازاں انہوں نے مجھے اپنے بائیں ہاتھ کا باکسنگ گلوف دے دیا جو اب بھی میرے پاس موجود ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT